admin کی تمام پوسٹیں

کوسنا رنگ اختیار کریں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 109
تجھ پہ یا خود پہ اعتبار کریں
کوسنا رنگ اختیار کریں
تجربے کا یہی تقاضا ہے
آپ پر بھی نہ اعتبار کریں
پرسش غم نہیں ہے غم کا علاج
یہ تکلف نہ غمگسار کریں
حد نہیں انتظار کی کوئی
آگے ہم جتنا انتظار کریں
پتا پتا ہے مضمحل باقیؔ
ہم کہاں تک غم بہار کریں
باقی صدیقی

بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 108
دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں
بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں
کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے
کچھ جراتیں حیات پر الزام بن گئیں
ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لئے نہ تھیں
پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں
آنے لگا حیات کو انجام کا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں
جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں
باقیؔ جہاں کرے گا مری میکشی پہ رشک
ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں
باقیؔ مال شوق کا آنے لگا خیال
جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں
باقی صدیقی

مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 107
کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں
مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں
کوئی تو بات ہے اظہار غم میں
وگرنہ لڑکھڑاتی ہے زباں کیوں
ابھرتا ہے یہیں سے ہر تلاطم
بلندی سے خفا ہیں پستیاں کیوں
جو اپنی رہگزر سے آشنا ہو
وہ دیکھے نقش پائے رہرواں کیوں
اداسی منزلوں کی کہہ رہی ہے
ادھر سے کوئی گزرے کارواں کیوں
مسافر کوئی شاید لٹ گیا ہے
چراغ راہ دے اٹھا دھواں کیوں
جہاں تیری نطر ہو کار فرما
وہاں باقیؔ رہے میرا نشاں کیوں
باقی صدیقی

کوئی تیرا ذکر چھیڑے اور میں سنتا رہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 106
میں ہر اک محفل میں اس امید پر بیٹھا رہوں
کوئی تیرا ذکر چھیڑے اور میں سنتا رہوں
دھوپ کی صورت مرے ہمراہ تو چلتا رہے
سائے کی مانند میں گھٹتا رہوں بڑھتا رہوں
ایک طوفاں کی طرح تو مجھ سے ٹکراتا رہے
اور ساحل کی طرح کٹ کٹ کے میں گرتا رہوں
تو لہو کی طرح میرے جسم میں گردش کرے
سانس کی مانند میں آتا رہوں جاتا رہوں
دشت دل سے تو صبا بن کے اگر گزرے تومیں
قطرہ بن کے نوک خار زیست پر ٹھہرا رہوں
دائرے آب رواں کے ٹوٹتے بنتے رہیں
اور اپنی شکل میں بیٹھا ہوا تکتا رہوں
زندگی کے مرحلے دنیا کی خاطر طے کروں
اور محبت کے لئے میں عمر بھر پیاسا رہوں
کر دیا ہے کام کیسا تو نے یہ میرے سپرد
رات بھر آوارہ قدموں کی صدا سنتا رہوں
میری حسرت کا تقاضا ہے کہ تیری آرزو
موسم گل میں شکستہ شاخ پر بیٹھا رہوں
زندگی دو حادثوں کے درمیاں اک حادثہ
میں کہاں تک حادثوں کے درمیاں بیٹھا رہوں
زندہ رہنے کا تو باقیؔ یہ بھی اک انداز ہے
بیٹھ کر غیروں میں اپنے آپ پر ہنستا رہوں
باقی صدیقی

ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 105
ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں
ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں
نظر کے سائے ذرا ہٹا لو کہ عقل کی سانس گھٹ رہی ہے
ہٹو ہٹو میں کشاکش روزگار پر غور کر رہا ہوں
بھٹک رہا ہے خیال سود و زیاں کے پر پیچ راستوں میں
کہاں کی منزل ابھی تو گردو غبار پر غور کر رہا ہوں
میں کتنا بیباک ہو گیا ہوں مجھے سزا دو چمن پرستو!
بہار کہتے ہو تم جسے اس بہار پر غور کر رہا ہوں
بدل رہا ہے کچھ اس طرح ان کے عہد و پیماں کا رنگ باقیؔ
کیا تھا کل اعتبار آج اعتبار پر غور کر رہا ہوں
باقی صدیقی

سامنے تیرے آ رہا ہوں میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 104
اپنا قصہ سنا رہا ہوں میں
سامنے تیرے آ رہا ہوں میں
ایک مدت تری محبت میں
اپنے دل سے جدا رہا ہوں میں
تیری شہرت کے واسطے کیا کیا
خود پہ پردے گردا رہا ہوں میں
اک زمانے کی ہے نظر مجھ پر
اس لئے مسکرا رہا ہوں  میں
زندگی دھن رہی ہے سر باقی
کونسا راگ گا رہا ہوں میں
باقی صدیقی

چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم ے خفا ہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 103
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں
سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا
سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں
جائے گا جہاں تو مری آواز سنے گا
میں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں
ایک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں
تو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں
چھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہ
ٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں
منزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔ
اس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں
باقی صدیقی

ورنہ اک قافلہ ملک عدم ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 102
کوئی سمجھے تو زمانے کا بھرم ہیں ہم لوگ
ورنہ اک قافلہ ملک عدم ہیں ہم لوگ
دیکھئے کون سی منزل ہمیں اپناتی ہے
راندۂ میکدہ و دیر و حرم ہیں ہم لوگ
مسکراہٹ کو سمجھ لیتے ہیں دل کا پر تو
آشنا دہر کے انداز سے کم ہیں ہم لوگ
یاد آئیں گے زمانے کو ہم آتے آتے
اک تری بھولی ہوئی طرز ستم ہیں ہم لوگ
کوئی نسبت نہیں ارباب نظر سے باقیؔ
سائے کی طرح پس ساغر جم ہیں ہم لوگ
باقی صدیقی

اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 101
ہمہ تن عرض حال ہیں ہم لوگ
اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ
اور کس پر یہ حادثے گزرے
آپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ
وقت کا فیصلہ ہے چارہ گرو
زخم تم، اندمال ہیں ہم لوگ
موت اپنی نہ زندگی اپنی
کس گماں کا مآل ہیں ہم لوگ
آپ سمجھیں تو ایک حقیقت ہیں
ورنہ خواب و خیال ہیں ہم لوگ
لاکھ پردوں میں بھی نمایاں ہیں
وقت کے خدوخال ہیں ہم لوگ
چارہ سازوں کے سرد ماتھے پر
عرق انفعال ہیں ہم لوگ
زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ
کام لیتا ہے اک جہاں باقیؔ
ہر مصیبت کی ڈھال ہیں ہم لوگ
باقی صدیقی

پہلے سے نہیں ہم کہ وہ پہلے سے نہیں لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 100
رہتے ہیں تصور سے بھی اب دور کہیں لوگ
پہلے سے نہیں ہم کہ وہ پہلے سے نہیں لوگ
منہ کھولے ہوئے بیٹھے ہیں کشکول کی صورت
یاقوت گراں مایہ سے تا نان جویں لوگ
ملتا ہے جہاں کوئی چمکتا ہوا ذرہ
رُکتے ہیں وہیں لوگ بھٹکتے ہیں وہیں لوگ
کیا آپ کی رفتار کا شعلہ ہے زمانہ
رکھ دیتے ہیں ہر نقش زمانہ پہ جبیں لوگ
آ پہنچا ہے اس نکتے پہ افسانۂ ہستی
کچھ سنتے نہیں آپ تو کچھ کہتے نہیں لوگ
اس دور سے چپ چاپ گزر جا دل ناداں
احساس کی آواز بھی سن لیں نہ کہیں لوگ
حالات بدلنا کوئی مشکل نہیں باقیؔ
حالات کے رستے میں ہیں دیوار ہمیں لوگ
باقی صدیقی

ہم جانے کہاں رہے ہیں اب تک

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 99
پہچان سکے نہ تیرے ڈھب تک
ہم جانے کہاں رہے ہیں اب تک
کیا کیا تھے اصول زندگی کے
مشکل نہ پڑی تھی کوئی جب تک
وہ بات بھی رائیگاں گئی ہے
آئی جو بصد حجاب لب تک
آئے نہ خیال میں کسی کے
ہم بیٹھے رہے خموش کب تک
کیوں زیست کے منتظر ہو باقیؔ
آتا نہیں یہ پیام سب تک
باقی صدیقی

اس چپ میں بھی ہے جی کازیاں بولتے رہو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 98
کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
اس چپ میں بھی ہے جی کازیاں بولتے رہو
ہر یاد، ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ
یہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو
موج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیست
جس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو
اپنا لہو ہی رنگ ہے، اپنی تپش ہی بو
ہو فصل گل کہ دور خزاں بولتے رہو
قدموں پہ بار ہوتے ہیں سنسان راستے
لمبا سفر ہے ہمسفراں بولتے رہو
ہے زندگی بھی ٹوٹا ہوا آئنہ تو کیا
تم بھی بطرز شیشہ گراں بولتے رہو
باقیؔ جو چپ رہو گے تو اٹھیں گی انگلیاں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو
باقی صدیقی

کتنے حسیں ہو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 97
چیں بہ جبیں ہو
کتنے حسیں ہو
اتنی خموشی
گویا نہیں ہو
وہ مہرباں ہیں
کیونکر یقیں ہو
دنیا سے کھیلو
ناز آفریں ہو
یہ بے حجابی
پردہ نشیں ہو
جیسا سنا تھا
ویسے نہیں ہو
سوچو تو باقیؔ
سب کچھ تمہیں ہو
باقی صدیقی

جیتے رہو، خوش رہو، جہاں ہو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 96
کیا تم سے گلہ کہ مہرباں ہو
جیتے رہو، خوش رہو، جہاں ہو
خون دل کا معاملہ ہے
دنیا ہو کہ تیرا آستاں ہو
منت کش داستاں سرا ہے
میری ہو کہ تیری داستاں ہو
دنیا مجھے کہہ رہی ہے کیا کیا
کچھ تم بھی کہو کہ رازداں ہو
کس سوچ میں پڑ گئے ہو باقیؔ
دنیا تو وہیں ہے تم کہاں ہو
باقی صدیقی

آپ ہوں یا ہوا کا جھونکا ہو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 95
کوئی نغمہ تو در سے پیدا ہو
آپ ہوں یا ہوا کا جھونکا ہو
وہ نظر بھی نہ دے سکی تسکیں
اے دل بے قرار اب کیا ہو
کام آتے نہیں تماشائی
ایک ساتھی ہو اور اپنا ہو
وہ اندھیروں کے طور کیا جانے
جس کے گھر میں چراغ جلتا ہو
دل سے اک بات کر رہے ہیں ہم
پاس بیٹھا نہ کوئی سنتا ہو
اس کے غم کا علاج کیا باقیؔ
بے سبب جو اداس رہتا ہو
باقی صدیقی

جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 94
ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو
وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں
کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو
رنگ ساحل کا نکھر آئے گا
دو گھڑی جانب دریا دیکھو
تلملا اٹھا گھنا سناٹا
پھر کوئی نیند سے چونکا دیکھو
ہمسفر غیر ہوئے جاتے ہیں
فاصلہ رہ گیا کتنا دیکھو
برف ہو جاتا ہے صدیوں کا لہو
ایک ٹھہرا ہوا لمحہ دیکھو
رنگ اڑتے ہیں تبسم کی طرح
آئنہ خانوں کا دعویٰ دیکھو
دل کی بگڑی ہوئی صورت ہے جہاں
اب کوئی اور خرابہ دیکھو
یا کسی پردے میں گم ہو جاؤ
یا اٹھا کر کوئی پردہ دیکھو
دوستی خون جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو
سادہ کاغذ کی طرح دل چپ ہے
حاصل رنگ تمنا دیکھو
یہی تسکین کی صورت ہے تو پھر
چار دن غم کو بھی اپنا دیکھو
غمگساروں کا سہارا کب تک
خود پہ بھی کر کے بھروسہ دیکھو
اپنی نیت پہ نہ جاؤ باقیؔ
رُخ زمانے کی ہوا کی دیکھو
باقی صدیقی

سود دیکھا ہے اب زیاں دیکھو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 93
دل کے مٹنے لگے نشاں دیکھو
سود دیکھا ہے اب زیاں دیکھو
ہر کلی سے لہو ٹپکنے لگا
شوق تعمیر گلستاں دیکھو
بار صیاد ہے کہ بار ثمر
جھک گئی شاخ آشیاں دیکھو
دل کا انجام ایک قطرہ خوں
حاصل بحر بیکراں دیکھو
سائے کرنوں کے ساتھ چلتے ہیں
صبح میں شام کا سماں دیکھو
داغ آئینہ بن گئے فرسنگ
سفر شوق کے نشاں دیکھو
پڑ گئی سرد آتش احساس
جم گیا خون عاشقاں دیکھو
لو دلوں کی حدیں سمٹنے لگیں
تنگ ہے کس قدر جہاں دیکھو
تم بھی کہنے لگے خدا لگتی
لڑکھڑانے لگی زباں دیکھو
دل کا ہر زخم ہے زباں اپنی
اس پہ یہ حسرت بیاں دیکھو
آگ سے کھیلتے ہو کیوں باقیؔ
اپنا دل دیکھو اپنی جاں دیکھو
باقی صدیقی

ہنسنا آیا ہے نہ رونا ہم کو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 92
غم بنا دے نہ تماشا ہم کو
ہنسنا آیا ہے نہ رونا ہم کو
ہم ابھی تک ہیں وہیں راہ نشیں
جس جگہ آپ نے چھوڑا ہم کو
اک صدا تک تھی عنایت ساری
پھر کسی نے بھی نہ پوچھا ہم کو
آج دیکھا ہے نیا رنگ ان کا
دو گھڑی چھوڑ دو تنہا ہم کو
زندگی لے گئی طوفانوں میں
دے کے تنکے کا سہارا ہم کو
تیری محفل کے چراغوں کے تلے
کچھ نشاں ملتا ہے اپنا ہم کو
ہو گئے چپ ہمیں پاگل کہہ کر
جب کسی نے بھی نہ سمجھا ہم کو
بات ہو، شعر ہو، افسانہ ہو
ہے بہت کچھ ابھی کہنا ہم کو
کوئی روزن ہو کہ دروازہ ہو
چاہئے ایک شرارا ہم کو
فصل گل آئی مگر کیا آئی
رنگ بھولا نہ خزاں کا ہم کو
لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ
ایک سوکھا ہوا پتہ ہم کو
باقی صدیقی

لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 91
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو
شوق نظارہ کا پردہ اٹھا
نظر آنے لگی دنیا ہم کو
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو
بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی
نہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو
تلخی غم کا مداوا معلوم
پڑ گیا زہر کا چسکا ہم کو
تیرے غم سے تو سکوں ملتا ہے
اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو
گھر کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسے
آج ہی گھر نظر آیا ہم کو
ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی
تو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو
جلوہ لالہ و گل ہے دیوار
کبھی ملتے سر صحرا ہم کو
لے اڑی دل کو نسیم سحری
بوئے گل کر گئی تنہا ہم کو
سیر گلشن نے کیا آوارہ
لگ گیا روگ صبا کا ہم کو
یاد آئی ہیں برہنہ شاخیں
تھام لے اے گل تازہ ہم کو
لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ
ایک سوکھا ہوا پتا ہم کو
باقی صدیقی

بے سدھ پڑا ہوں آخری پتھر بھی مار لو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 90
حسرت ہے جو نکال لو غصہ اتار لو
بے سدھ پڑا ہوں آخری پتھر بھی مار لو
دنیا ہے نام موت کا عقبِ حیات کا
آگے خوشی تمہاری خزاں لو بہار لو
دنیا تو اپنی بات کبھی چھوڑتی نہیں
جس طرح تم گزار سکو دن گزار لو
کچھ دیر اور بزم میں ان کی چلے گی بات
کچھ آ گئے ہیں اور مرے غمگسار لو
لے کر بیاض کیوں نہ پکاروں گلی گلی
میرا لہو خریدو، مرے شاہکار لو
باقیؔ تمہیں حیات کا ساماں تو مل گیا
اک لمحے کی خوشی بھی کسی سے ادھار لو
باقی صدیقی

ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 89
نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو
کھڑا ہوں دل کے دوراہے پہ ہاتھ پھیلائے
چھپائے چھپتے نہیں زندگی کے غم اب تو
نئے خیال نئے فاصلوں کے ساتھ آئے
نہ مل سکیں گے کسی راستے پہ ہم اب تو
مسافران محبت کا انتظار نہ کر
کہ دل میں آ گئے راہوں کے پیچ و خم اب تو
نکل گیا ہے سفینہ ترا کدھر باقیؔ
صدائیں آتی ہیں ساحل سے دم بہ دم اب تو
باقی صدیقی

جلتی شمع بجھائے کون

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 88
دل کی آس مٹائے کون
جلتی شمع بجھائے کون
ان کی بات پہ جائے کون
جھوٹی آس لگائے کون
دو اک ہوں تو بات کریں
دنیا کو سمجھائے کون
ہم حق پر ہی سہی لیکن
ان کی راہ میں آئے کون
وہ داتا تو ہیں باقیؔ
پر دامن پھیلائے کون
باقی صدیقی

کتنے پردے اٹھائیں گے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 87
کیا زیست کا راز پائیں گے ہم
کتنے پردے اٹھائیں گے ہم
ایک اپنی وفا کی روشنی سے
کس کس کا دیا جلائیں گے ہم
ہر رنگ جہاں سے ہٹ کے دیکھو
اس طرح نظر نہ آئیں گے ہم
یوں نکلے ہیں تیری جستجو میں
جیسے تجھے ڈھونڈ لائیں گے ہم
انداز جہاں کے دیکھتے ہیں
اپنی بھی خبر نہ پائیں گے ہم
اک بات نہ اٹھ سکے جہاں کی
کیا بار حیات اٹھائیں گے ہم
آغاز سفر میں کیا خبر تھی
یوں راہ میں بیٹھ جائیں گے ہم
جو دل پہ گزر رہی ہے باقیؔ
تجھ کو بھی نہ اب بتائیں گے ہم
باقی صدیقی

باز آئے اس آگہی سے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 86
خود کو لگتے ہیں اجنبی سے ہم
باز آئے اس آگہی سے ہم
ہر تمنا ہے دور کی آواز
مرمٹے دور دور ہی سے ہم
راہ کچھ اور ہو گئی تاریک
جب بھی گزرے ہیں روشنی سے ہم
واقف رنگ دہر ہو کر بھی
تجھ سے ملتے ہیں کس خوشی سے ہم
غم کا احساس مٹ گیا شاید
اب الجھتے نہیں کسی سے ہم
کہہ کے روداد زندگی باقیؔ
ہنس دئیے کتنی سادگی سے ہم
باقی صدیقی

کیوں تجھ سے گریز کر گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 85
کیا دور جہاں سے ڈر گئے ہم
کیوں تجھ سے گریز کر گئے ہم
حیرت ہے کہ سامنے سے تیرے
غیروں کی طرح گزر گئے ہم
وہ دور بھی زندگی میں آیا
محسوس ہوا کہ مر گئے ہم
اے دشت حیات کے بگولو
ڈھونڈو تو سہی کدھر گئے ہم
آئی یہ کدھر سے تیری آواز
چلتے چلتے ٹھہر گئے ہم
گزری ہے صبا قفس سے ہو کے
لینا غم بال و پر گئے ہم
ساحل کا مرحلہ ہے باقیؔ
طوفاں سے تو پار اتر گئے ہم
باقی صدیقی

زمانے کے مقابل ہو گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 84
ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم
زمانے کے مقابل ہو گئے ہم
شب تاریک کی زد سے نکل کر
سحر کی ظلمتوں میں کھو گئے ہم
چلو اپنوں نے بھی نظریں بدل لیں
وطن میں بھی مسافر ہو گئے ہم
اسی غفلت نے باقیؔ مار ڈالا
کہ جب تقدیر جاگی سو گئے ہم
باقی صدیقی

نہ کہنے پر بھی سب کچھ کہہ گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 83
لبوں کو کھول کر یوں رہ گئے ہم
نہ کہنے پر بھی سب کچھ کہہ گئے ہم
کبھی طوفان غم سے کش مکش کی
کبھی تنکے کی صورت بہہ گئے ہم
برا ہو اے دل حساس تیرا
بہت دنیا سے پیچھے رہ گئے ہم
تجھے دیکھا تو غم کی یاد آئی
وہ کیسی چوٹ تھی جو سہہ گئے ہم
جہاں نے غور سے دیکھا ہے باقیؔ
نہ جانے جوش میں کیا کہہ گئے ہم
باقی صدیقی

اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 82
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم
کاٹتے ہیں رات جانے کس طرح
صبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم
بند کمرے میں سکوں ملنے لگا
جب ہوا چلتی ہے گھبراتے ہیں ہم
ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں
اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم
زندگی کی کشمکش باقیؔ نہ پوچھ
نیند جب آتی ہے سو جاتے ہیں ہم
باقی صدیقی

رہتے ہیں ترے خیال میں ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 81
ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم
رہتے ہیں ترے خیال میں ہم
فروا ہے کوئی خیال جیسے
یوں مست ہیں اپنے حال میں ہم
کھو بیٹھے ہیں اعتبار اپنا
آ آ کے جہاں کی چال میں ہم
آئے نہ ادھر غم زمانہ
بیٹھے ہیں ترے خیال میں ہم
دیتے ہیں کوئی جواب باقیؔ
کھوئے ہیں ابھی سوال میں ہم
باقی صدیقی

جہاں کر دے کوئی افسانہ خواں ختم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 80
وہیں سمجھو ہماری داستاں ختم
جہاں کر دے کوئی افسانہ خواں ختم
شکست زسیت کا دل پر اثر کیا
مگر ہے راہ و رسم دوستاں ختم
وہاں سے میرا افسانہ چلے گا
جہاں ہو گی تمہاری داستاں ختم
الجھتا جا زمانے کی نظر سے
کبھی تو ہو گا دور امتحاں ختم
اگر ہم چپ بھی ہو جائیں تو باقیؔ
زمانہ بات کرتا ہے کہاں ختم
باقی صدیقی

ہو گئے مست عاشقانِ غزل

غزل نمبر 79
(مختار صدیقی کے لئے)
دیکھ کر تجھ میں کچھ نشانِ غزل
ہو گئے مست عاشقانِ غزل
یہ ادائیں، یہ حسن، یہ تیور
تجھ پہ ہونے لگا گمانِ غزل
تیری باتوں کا لطف آتا ہے
اتنی رنگین ہے زبانِ غزل
ہے عبارت غزل سے تیرا غرور
اور قائم ہے تجھ سے شانِ غزل
نت نئے روپ میں ابھرتا ہے
تیرا غم ہے مزاج دانِ غزل
دل کا ہر زخم بول اٹھتا ہے
جب گزرتا ہے کاروانِ غزل
وقت کے ساتھ رخ بدلتا ہے
ہر گھڑی ہے نیا جہانِ غزل
اور بھی کچھ طویل کر دی ہے
غم ہستی نے داستانِ غزل
کچھ طبیعت اداس ہے باقیؔ
آج دیکھا نہیں وہ جانِ غزل
(مختار صدیقی)

گل غلط غنچے غلط خار غلط

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 78
کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط
گل غلط غنچے غلط خار غلط
ہمنواؤں کی نہیں کوئی کمی
بات کیجے سربازراغلط
وقت الٹ دے نہ بساط ہستی
چال ہم چلتے ہیں ہر بار غلط
دل کے سودے میں کوئی سود نہیں
جنس ہے خام خریدار غلط
ہر طرف آگے لگی ہے باقیؔ
مشورہ دیتی ہے دیوار غلط
باقی صدیقی

کیا تیرےغم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 77
احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر
کیا تیرے غم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر
ہر نقش اک خراش ہے، ہر رنگ ایک داغ
تصویر آئنے کے مقابل گئی ہے پھر
دو چار گام ساتھ چلے ہیں پھر اہل غم
کچھ دور تک صدائے سلاسل گئی ہے پھر
کچھ آدمی گلی میں کھڑے ہیں ادھر ادھر
شاید جہاں کو بات کوئی مل گئی ہے پھر
ٹوٹا ہے پھر غبار سرراہ کا طلسم
ہر راہرو کے سامنے منزل گئی ہے پھر
چلئے کہیں تو کچھ مجھے اپنی خبر ملے
وہ اک نظر جو لے کے مرا دل گئی ہے پھر
باقیؔ وہ بادباں کھلے وہ کشتیاں چلیں
وہ ایک موج جانب ساحل گئی ہے پھر
باقی صدیقی

تان ٹوٹی شراب خانے پر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 76
تبصرہ تھا مرے فسانے پر
تان ٹوٹی شراب خانے پر
جتنی باتیں قفس میں چھڑتی ہیں
ختم ہوتی ہیں آشیانے پر
زندگی بن کے اک نگاہ بسیط
جا پڑی تیرے آستانے پر
اے زمانے سے کھیلنے والو
اور الزام اک زمانے پر
زندگانی کا سب مزہ باقیؔ
منحصر ہے فریب کھانے پر
باقی صدیقی

زندگی کو ہیں اور کام بہت

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 75
یاد آؤ نہ صبح و شام بہت
زندگی کو ہیں اور کام بہت
ابھی آزادی حیات کہیں
ابھی پیش نظر ہیں دام بہت
ضبط غم آخری مقام نہیں
اس سے آگے بھی ہیں مقام بہت
اے محبت تجھے بھی دیکھ لیا
سنتے آتے تھے تیرا نام بہت
بند کیجے بیاض غم باقیؔ
سن چکے آپ کا کلام بہت
باقی صدیقی

دل بھی اب چپ ہے زباں کی صورت

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 74
ہے یہ کیسی غم جاں کی صورت
دل بھی اب چپ ہے زباں کی صورت
خود پہ ہوتا ہے کسی کا دھوکا
کون سی ہے یہ گماں کی صورت
کس کی آمد ہے کہ لو دیتے ہیں
راستے کاہکشاں کی صورت
زیست کی راہ میں اکثر آیا
دل بھی اک سنگ گراں کی صورت
غم کے ہر موڑ پہ تیری باتیں
یاد آتی ہیں زیاں کی صورت
دیکھ کر صورت ساحل باقیؔ
چل دئیے موج رواں کی صورت
باقی صدیقی

رہزن کی طرح کرتے ہیں ہم لوگ سفر اب

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 73
ہر رہرو اخلاص پہ رہتی ہے نظر اب
رہزن کی طرح کرتے ہیں ہم لوگ سفر اب
پھولوں میں چھپا بیٹھا ہوں اک زخم کی صورت
کھا جاتی ہے دھوکا مری اپنی بھی نظر اب
اس طرح اٹھا دہ سے یقیں اہل جہاں کا
افواہ نظر آتی ہے سچی بھی خبر اب
جو پرسش غم کے لئے آ جائے غنیمت
کشکول کی مانند کھلا رہتا ہے در اب
نظروں میں ابھر آتا ہے ہر ڈوبتا تارا
اس طرح گزرتی ہے مرے دل سے سحر اب
دنیا کو ہے اب کانچ کے ٹکڑوں کی ضرورت
کس کے لئے دریا سے نکالو گے گہر اب
منزل سے بہت دور نکل آیا ہوں باقیؔ
بھٹکا ہوا رہرو ہی کوئی آئے ادھر اب
باقی صدیقی

تصویر میری مجھ کو دکھا کر چلا گیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 72
اک آئینہ نظر میں سما کر چلا گیا
تصویر میری مجھ کو دکھا کر چلا گیا
ہم دیکھ کر جہاں کو ہراساں ہیں اس طرح
یک لخت جیسے کوئی جگا کر چلا گیا
دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا
کانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیا
دل پر کھلا نہ تھا کبھی یہ تشنگی کا روپ
وہ میرا زہر مجھ کو پلا کر چلا گیا
رات اپنے سائے سائے میں چھپتا رہا ہوں میں
اتنے چراغ کوئی جلا کر چلا گیا
اس طرح چونک چونک اٹھا ہوں خیال میں
جیسے ابھی ابھی کوئی آ کر چلا گیا
اک پھول اتنے رنگ نہ لایا تھا اپنے ساتھ
راہوں میں جتنے خار بچھا کر چلا گیا
باقیؔ ابھی یہ کون تھا موج صبا کے ساتھ
صحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیا
باقی صدیقی

اک نئے عم کی طرح ڈال گیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 71
جس طرف بھی ترا خیال گیا
اک نئے غم کی طرح ڈال گیا
زیست کس مرحلے پہ آ پہنچی
وضعداری کا بھی سوال گیا
غم دل پر غم جہاں کا گماں
چھوڑئیے لطف عرض حال گیا
ہر تمنا پہ غم کا پہرہ تھا
پھر بھی کس کس طرف خیال گیا
دل سے رہ رہ کے ہم الجھتے ہیں
کس مصیبت میں کوئی ڈال گیا
درد اٹھا کچھ اس طرح باقیؔ
دل کی سب حسرتیں نکال گیا
باقی صدیقی

جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 70
اس کارگہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا
تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتی
اس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا
ہے حلقہ جاں اپنی وفاؤں کا تصور
اس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا
ہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہ
اپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا
بخشے ہوئے اک گھونٹ پہ ہم جھوم رہے ہیں
اب مانگ کے پینا بھی کوئی ننگ نہیں کیا
زخم دل بیتاب ہے ہاتھوں میں نوالہ
اس بات پہ دنیا سے مری جنگ نہیں کیا
وہ رنگ نہیں شعلہ احساس میں باقیؔ
ہم ساز تمنا سے ہم آہنگ نہیں کیا
باقی صدیقی

کوئی سوئے قفس گیا تو کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 69
ابر گلشن برس گیا تو کیا
کوئی سوئے قفس گیا تو کیا
زندگی کا نشاں کہیں ملتا
اک نیا شہر بس گیا تو کیا
شعلہ گل ہے اور صحن چمن
میرا دل بھی جھلس گیا تو کیا
راہ کا سانپ ہے گھنا سایہ
راہگیروں کو ڈس گیا تو کیا
زندگی اب اسی ہجوم سے ہے
سانس کو دل ترس گیا تو کیا
کوئے آوارگاں میں ہم پر بھی
کوئی آوازہ کس گیا تو کیا
کوئی چونکا نہ خواب سے باقیؔ
دور شور جرس گیا تو کیا
باقی صدیقی

آگے کرے اک بندہ ناچیز رقم کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 68
تو قادر مطلق ہے یہی وصف ہے کم کیا
آگے کرے اک بندہ ناچیز رقم کیا
تو خالق کونین ہے اور حاصل کونین
ہے جس پہ نظر تیری اسے کوئی ہو غم کیا
تو اپنے گنہ گار کو توفیق عمل دے
ہوتا ہے زباں سے سرتسلیم بھی خم کیا
یہ رنگ غم زیست، یہ انداز غم جاں
دنیا کی تمنا میں نکل جائے گا دم کیا
اک سجدہ کیا میں نے فقط شعر کی صورت
ورنہ ہے تخیل مرا کیا؟ میرا قلم کیا
باقی صدیقی

عم ہستی کوئی غم کھائیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 67
ان کو دل کا مدعا سمجھائیں کیا
اے غم ہستی کوئی غم کھائیں کیا
شورِ نغمہ اس طرف آتا نہیں
رنگِ محفل بن کے ہم اڑ جائیں کیا
بے نیازی سے ہے قائم شان حسن
ہم انہیں یاد آئیں پر یاد ئیں کیا
جل کے بجھنے کا تو باقیؔ غم نہیں
ہم مگر دنیا کو منہ دکھلائیں کیا
باقی صدیقی

درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 66
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا
بہت قریب سے آواز ایک آئی تھی
مگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا
یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں
وہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا
یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ
ہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا
کلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میں
جہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا
بتاؤ کس لئے پتھر اٹھائے پھرتے ہو
کہو تو آئنہ خانے میں کیا نظر آیا
یہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔ
ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا
باقی صدیقی

تیرے جلوؤں کا اثر یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 65
رنگ دل، رنگ نظر یاد آیا
تیرے جلوؤں کا اثر یاد آیا
وہ نظر بن گئی پیغام حیات
حلقہ شام و سحر یاد آیا
یہ زمانہ، یہ دل دیوانہ
رشتہ سنگ و گہر یاد آیا
یہ نیا شہر یہ روشن راہیں
اپنا انداز سفر یاد آیا
راہ کا روپ بنی دھوپ اپنی
کوئی سایہ نہ شجر یاد آیا
کب نہ اس شہر میں پتھر برسے
کب نہ اس شہر میں سر یاد آیا
گھر میں تھا دشت نوردی کا خیال
دشت میں آئے تو گھر یاد آیا
گرد اڑتی ہے سر راہ خیال
دل ناداں کا سفر یاد آیا
ایک ہنستی ہوئی بدلی دیکھی
ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا
اس طرح شام کے سائے پھیلے
رات کا پچھلا پہر یاد آیا
پھر چلے گھر سے تماشا بن کر
پھر ترا روزن در یاد آیا
باقی صدیقی

پھر جہان گزراں یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 64
سود یاد آیا، زیاں یاد آیا
پھر جہان گزراں یاد آیا
ہوش آنے لگا دیوانے کو
عقل کا سنگ گراں یاد آیا
جرس غم نے پکارا ہم کو
کاروان دل و جاں یاد آیا
اک نہ اک زخم رہا پیش نظر
تم نہ یاد آئے جہاں یاد آیا
نیند چبھنے لگی بند آنکھوں میں
جب چراغوں کا دھواں یاد آیا
کوئی ہنگامۂ روز و شب میں
یاد آ کر بھی کہاں یاد آیا
دیکھ کر صورت منزل باقیؔ
دعویٔ ہمسفراں یاد آیا
باقی صدیقی

دلکا آئنہ مگر یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 63
دشت یاد آیا کہ گھر یاد آیا
کوئی کرتا ہوا فر یاد آیا
پھر بجھی شمع جلا دی ہم نے
جانے کیا وقت سحر یاد آیا
ربط باہم کی تمنا معلوم
حادثہ ایک مگر یاد آیا
در و دیوار سے مل کر روئے
کیا ہمیں وقت سفر یاد آیا
قدم اٹھتے نہیں منزل کی طرف
کیا سر راہگزر یاد آیا
ہنس کے پھر راہنما نے دیکھا
پھر ہمیں رخت سفر یاد آیا
کسی پتھر کی حقیقت ہی کیا
دل کا آئنہ مگر یاد آیا
آنچ دامان صبا سے آئی
اعتبار گل تر یاد آیا
دل جلا دھوپ میں ایسا اب کے
پاؤں یاد آے نہ سر یاد آیا
گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔ
اپنی محنت کا ثمر یاد آیا
زندگی گزرے گی کیونکر باقیؔ
عمر بھر کوئی اگر یاد آیا
باقی صدیقی

کوئی کرتا ہوا فر یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 62
دشت یاد آیا کہ گھر یاد آیا
کوئی کرتا ہوا فر یاد آیا
پھر بجھی شمع جلا دی ہم نے
جانے کیا وقت سحر یاد آیا
ربط باہم کی تمنا معلوم
حادثہ ایک مگر یاد آیا
در و دیوار سے مل کر روئے
کیا ہمیں وقت سفر یاد آیا
قدم اٹھتے نہیں منزل کی طرف
کیا سر راہگزر یاد آیا
ہنس کے پھر راہنما نے دیکھا
پھر ہمیں رخت سفر یاد آیا
کسی پتھر کی حقیقت ہی کیا
دل کا آئنہ مگر یاد آیا
آنچ دامان صبا سے آئی
اعتبار گل تر یاد آیا
دل جلا دھوپ میں ایسا اب کے
پاؤں یاد آے نہ سر یاد آیا
گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔ
اپنی محنت کا ثمر یاد آیا
زندگی گزرے گی کیونکر باقیؔ
عمر بھر کوئی اگر یاد آیا
باقی صدیقی

نہ دنیا میرے کام آئی نہ میں دنیا کے کام آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 61
کچھ اس انداز سے اس فتنہ پرور کا پیام آیا
نہ دنیا میرے کام آئی نہ میں دنیا کے کام آیا
بہار میکدہ تقسیم ہونے کو ہوئی لیکن
مرے حصے میں تم آئے نہ مے آئی نہ جام آیا
غم ایام تیری برہمی کا نام ہے شاید
جہاں تیری نظر بدلی وہیں مشکل مقام آیا
زمانہ پس گیا دو حادثوں کے درمیاں آ کر
ادھر ان کی نظر اٹھی، ادھر گردش میں جام آیا
کنارے آ لگے کوئی سفینہ جس طرح باقیؔ
اٹھا اک شور جب محفل میں کوئی تشنہ کام آیا
باقی صدیقی

ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 60
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دئیے
رات بھر بستر مرا جلتا رہا
ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوئے
دل ہمارا پھولتا پھلتا رہا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موج دریا پر دیا جلتا رہا
اک نظر تنکا بنی کچھ اسی طرح
دیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا
یہ نشاں کیسے ہیں باقیؔ دیکھنا
کون دل کی راکھ پر چلتا رہا
باقی صدیقی

دیر تک رہگزار کو دیکھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 58
کارواں یا غبار کو دیکھا
دیر تک رہگزار کو دیکھا
پھول سا رنگ، خار سے انداز
تجھ کو دیکھا بہار کو دیکھا
زلف و رُخ کے طلسم سے نکلے
حسنِ لیل و نہار کو دیکھا
دل آزاد کا خیال آیا
اپنے ہر اختیار کو دیکھا
ہر ستارے سے روشنی مانگی
ہر شبِ انتظار کو دیکھا
کسی لمحے پہ اپنا نام نہ تھا
گردش روزگار کو دیکھا
پھر تسلی کسی کی یاد آئی
پھر دل بے قرار کو دیکھا
ہر گل تر تھا ایک داغِ نمو
ہم نے ہر شاخسار کو دیکھا
دھیان میں آئی زندگی باقیؔ
رقص میں اک شرار کو دیکھا
باقی صدیقی

چاندنی رات تھی اور کوئی لب بام نہ تھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 57
چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا
چاندنی رات تھی اور کوئی لب بام نہ تھا
وہم تھا لوگ مرا راستہ تکتے ہوں گے
آ کے دیکھا تو کسی لب پہ مرا نام نہ تھا
اس طرح باغ سے چپ چاپ گزر آئے ہیں
جیسے پھولوں کی مہک میں کوئی پیغام نہ تھا
عمر بھر اپنی ہی گردش میں رہے ہم باقیؔ
اس جگہ دل تھا جہاں اور کوئی دام نہ تھا
باقی صدیقی

وہ رنگ گل تھا کہ شعلہ تری ادا کا تھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 56
چمن میں شور بہت شوخی صبا کا تھا
وہ رنگ گل تھا کہ شعلہ تری ادا کا تھا
وفا کا زخم ہے گہرا تو کوئی بات نہیں
لگاؤ بھی تو ہمیں ان سے انتہا کا تھا
دیار عشق میں ہر دل تھا آئنہ اپنا
وہی تھا شاہ کا انداز جو گدا کا تھا
غم جہاں کی خبر اس طرح بھی ہم کو ملی
کہ رنگ اڑا ہوا اک درد آشنا کا تھا
کسی کلی کا چٹکنا بھی ناگوار ہوا
وہ انتظار ہمیں آپ کی صدا کا تھا
قدم کچھ اس طرح اکھڑے کہ سوچ بھی نہ سکے
کدھر سے آئے تھے ہم رُخ کدھر ہوا کا تھا
دیار غم سے گیا کون سرخرو باقیؔ
مگر وہ لوگ جنہیں آسرا خدا کا تھا
باقی صدیقی

شہر کیسا دکھائی دینے لگا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 55
کیوں میں تیری دہائی دینے لگا
شہر کیسا دکھائی دینے لگا
لو غم آشنائی دینے لگا
میں جہاں کو دکھائی دینے لگا
اے خیال ہجوم ہم سفراں
تو بھی داغ جدائی دینے لگا
کون اندر سے اٹھ گیا باقیؔ
شور دل کا سنائی دینے لگا
باقی صدیقی

احساس تلملا اٹھا، دل ڈولنے لگا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 54
دشت جنوں میں غم کا جرس بولنے لگا
احساس تلملا اٹھا، دل ڈولنے لگا
کہتے ہیں اس کو پاس تعلق مرے خلاف
بولے وہ کیا کہ سارا جہاں بولنے لگا
اے جذب شوق تیرے اسیروں کی خیر ہو
صیاد جانے کس لئے پر کھولنے لگا
باقیؔ جہاں میں عشق کا دعویٰ ہی عیب ہے
ہر حادثہ نظر میں مجھے تولنے لگا
باقی صدیقی

رہ کے گلشن میں بھی کیا کیجے گا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 53
سیر مانند صبا کیجے گا
رہ کے گلشن میں بھی کیا کیجے گا
کس توقع پہ صدا کیجے گا
نہ سنے کوئی تو کیا کیجے گا
حق پرستی ہے بڑی بات مگر
روز کس کس سے لڑا کیجے گا
بن گئے لالہ و گل جز و قفس
کس سے اب ذکر صبا کیجے گا
دوستی شرط نہیں ہے کوئی
بس یونہی ہم سے ملا کیجے گا
لو سلام سر رہ سے بھی گئے
اور جا جا کے گلا کیجے گا
طوف کعبہ کو گئے تو باقیؔ
میرے حق میں بھی دعا کیجے گا
باقی صدیقی

ایسے جینے کا سبب کیا ہو گا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ہر گھڑی فکر کہ اب کیا ہو گا
ایسے جینے کا سبب کیا ہو گا
دل جھکا جاتا ہے سرسے پہلے
اس سے بڑھ کر بھی ادب کیا ہو گا
وہ نہ آئیں گے سنا ہے لیکن
یوں ہوا بھی تو عجب کیا ہو گا
صبح میں دیر ہوئی جاتی ہے
کیا کہیں آج کی شب کیا ہو گا
دے گیا مات زمانہ باقیؔ
منفعل ہونے سے اب کیا ہو گا
باقی صدیقی

تو جہاں آخری پردا ہو گا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 51
وہ مقام دل و جاں کیا ہو گا
تُو جہاں آخری پردا ہو گا
منزلیں راستہ بن جاتی ہیں
ڈھونڈنے والوں نے دیکھا ہو گا
سائے میں بیٹھے ہوئے سوچتے ہیں
کون اس دھوپ میں چلتا ہو گا
ابھی دل پر ہیں جہاں کی نظریں
آئنہ اور ابھی دھندلا ہو گا
راز سر بستہ ہے محفل تیری
جو سمجھ لے گا وہ تنہا ہو گا
اس طرح قطع تعلق نہ کرو
اس طرح اور بھی چرچا ہو گا
بعد مدت کے چلے دیوانے
کیا ترے شہر کا نقشہ ہو گا
سب کا منہ تکتے ہیں یوں ہم جیسے
کوئی تو بات سمجھتا ہو گا
پھول یہ سوچ کے کھل اٹھتے ہیں
کوئی تو دیدہ بینا ہو گا
خود سے ہم دور نکل آئے ہیں
تیرے ملنے سے بھی اب کیا ہو گا
ہم ترا راستہ تکتے ہوں گے
اور تو سامنے بیٹھا ہو گا
تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کیا ہو گا
خود کو یاد آنے لگے ہم باقیؔ
پھر کسی بات پہ جھگڑا ہو گا
باقی صدیقی

میں کارواں تھا، غباروں کا ساتھ دے نہ سکا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 50
ترے جہاں کے نظاروں کا ساتھ دے نہ سکا
میں کارواں تھا، غباروں کا ساتھ دے نہ سکا
کچھ اس قدر تھا نمایاں خزاں میں رنگ حیات
میں تشنہ کام بہاروں کا ساتھ دے نہ سکا
کہاں تمہاری تمنا، کہاں سحر کی نمود
مریض ہجر ستاروں کا ساتھ دے نہ سکا
نظر نہ تھی تو نظاروں کی آرزو تھی، مگر
نظر ملی تو نظاروں کا ساتھ دے نہ سکا
گلوں کا رنگ تبسم بھی تھا گراں باقیؔ
یہی نہیں کہ میں خاروں کا ساتھ دے نہ سکا
باقی صدیقی

وہغم ملا کہ جس کا ازالہ نہ ہو سکا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دل کا حریف مے کا پیالہ نہ ہو سکا
وہ غم ملا کہ جس کا ازالہ نہ ہو سکا
موج صبا کے ساتھ چلی گلستاں کی بات
بدنام پھول توڑنے والا نہ ہو سکا
باقیؔ دلوں میں آ گئی سڑکوں کی تیرگی
بجلی کے قمقموں سے اجالا نہ ہو سکا
باقی صدیقی

کس کو ہے دماغ زندگی کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ہر داغ ہے داغ زندگی کا
کس کو ہے دماغ زندگی کا
دیتے رہے لو بہار کے زخم
جلتا رہا باغ زندگی کا
کس کس کے جگر کا داغ بن کر
جلتا ہے چراغ زندگی کا
کچھ آپ کی انجمن میں آ کر
ملتا ہے سراغ زندگی کا
پوچھو نہ مآل شوق باقیؔ
دل بن گیا داغ زندگی کا
باقی صدیقی

رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 47
ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا
زندگی تیرگی میں ڈوب گئی
ہم جلاتے رہے دیا دل کا
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
زندگی بھر کوئی پتہ نہ چلا
دور گردوں کا، آپ کا، دل کا
وقت اور زندگی کا آئینہ
نوک غم اور آبلہ دل کا
آنکھ کھلتے ہی سامنے باقیؔ
ایک سنسان دشت تھا دل کا
باقی صدیقی

آپ سے کام آ پڑا جس کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 46
ناز اٹھاتا پھرے ہے کس کس کا
آپ سے کام آ پڑا جس کا
ہم بھی شاکی ہیں، آپ بھی شاکی
اب کرے کون فیصلہ کس کا
میرے جاتے ہی ہو گیا باقیؔ
اور ہی اور رنگ مجلس کا
باقی صدیقی

بھول گئے رستہ گھر کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 45
ایسا وار پڑا سر کا
بھول گئے رستہ گھر کا
زیست چلی ہے کس جانب
لے کر کاسہ مرمر کا
کیا کیا رنگ بدلتا ہے
وحشی اپنے اندر کا
سر پر ڈالی سرسوں کی
پاؤں میں کانٹا کیکر کا
کون صدف کی بات کرے
نام بڑا ہے گوہرکا
دن ہے سینے کا گھاؤ
رات ہے کانٹا بستر کا
اب تو وہی جی سکتا ہے
جس کا دل ہو پتھر کا
چھوڑو شعر اٹھو باقیؔ
وقت ہوا ہے دفتر کا
باقی صدیقی

اب تکلیف کرو نہ آے کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 44
چل گیا ہے فسوں زمانے کا
اب تکلف کرو نہ آنے کا
دیکھ کر ہم کو بے نیاز حیات
حوصلہ بڑھ گیا زمانے کا
وقت ہو تو حضور سن لیجے
آخری باب ہے فسانے کا
اک ستارہ بھی آسماں پہ نہیں
کیا کوئی وقت ہے یہ جانے کا
ڈوبتا جا رہا ہے دل باقیؔ
وقت یہ تھا فریب کھانے کا
باقی صدیقی

راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 43
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا
کس طرف سے آئی تھی تیری صدا
ہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا
زندگی ہے، شورشیں ہی شورشیں
خود کو اکثر ڈھونڈ کر لانا پڑا
تیری رحمت سے ہوئے سب میرے کام
شکر ہے دامن نہ پھیلانا پڑا
کوئی دل کی بات کیا کہنے لگے
اپنا اک اک لفظ دہرانا پڑا
راستے میں اس قدر تھے حادثات
ہر قدم پھر دل کو سمجھانا پڑا
زندگی جیسے اسی کا نام ہے
اس طرح دھوکا کبھی کھانا پڑا
ہے کلی بے تاب کھلنے کے لئے
اور اگر کھلتے ہی مرجھانا پڑا
زندگی کا راز پانے کے لئے
زندگی کی راہ میں آنا پڑا
راستے سے اس قدر تھے بے خبر
مل گیا جو اس کو ٹھہرانا پڑا
دوستوں کی بے رُخی باقیؔ نہ پوچھ
دشمنوں میں دل کو بہلانا پڑا
باقی صدیقی

میرا قصہ بھی دور تک پہنچا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 42
میکدے سے حضور تک پہنچا
میرا قصہ بھی دور تک پہنچا
سرفرازی کی بات ہے ساری
یوں تو میں بھی حضور تک پہنچا
خلد کا ذکر آ گیا تھا ذرا
شیخ حور و قصور تک پہنچا
صورت آئینہ شکست ہوا
عشق بھی جب غرور تک پہنچا
جا سکا غم نہ پھر کہیں باقیؔ
جب دل ناصبور تک پہنچا
باقی صدیقی

کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 41
کبھی حرم پہ کبھی بتکدے پہ بار ہوا
کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا
گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید
ترے خیال سے بھی دل نہ بے قرار ہوا
تمہاری بزم میں جب آرزو کی بات چھڑی
ہمارا ذکر بھی یاروں کو ناگوار ہوا
چمن کی خاک سے پیدا ہوا ہے کانٹا بھی
یہ اور بات کہ حالات کا شکار ہوا
نسیم صبح کی شوخی میں تو کلام نہیں
مگر وہ پھول جو پامالِ رہگزار ہوا
روش روش پہ سلگتے ہوئے شگوفوں سے
کبھی کبھی ہمیں اندازۂ بہار ہوا
فسانہ خواں کوئی دنیا میں مل گیا جس کو
اسی کی ذکر فسانوں میں بار بار ہوا
کس انجمن میں جلایا ہے تو نے اے باقیؔ
ترا چراغ، چراغِ سرِ مزار ہوا
باقی صدیقی

تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 40
مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
تو کہاں آ کے عناں گیر ہوا
کام دنیا کا ہے تیر اندازی
ہم ہوئے یا کوئی نخچیر ہوا
سنگ بنیاد ہیں ہم اس گھر کا
جو کسی طرح نہ تعمیر ہوا
سفر شوق کا حاصل معلوم
راستہ پاؤں کی زنجیر ہوا
عمر بھر جس کی شکایت کی ہے
دل اسی آگ سے اکسیر ہوا
کس سے پوچھیں کہ وہ انداز نظر
کب تبسم ہوا کب تیر ہوا
کون اب داد سخن دے باقیؔ
جس نے دو شعر کہے میر ہوا
باقی صدیقی

دل کا حق ادا ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 39
غم کا باب وا ہوا
دل کا حق ادا ہوا
دل بنا، دوا ہوا
درد کیا سے کیا ہوا
تم مٹے کہ ہم مٹے
جو ہوا برا ہوا
میرا تذکرہ ہی کیا
میں تو بیوفا ہوا
یہ کرم بجا مگر
وہ غرور کیا ہوا
ہم کہیں بھی کچھ تو کیا
تو نے جو کہا ہوا
باقیؔ ان سے مل کے درد
اور بھی سوا ہوا
باقی صدیقی

گئے جس در پہ تیرے در کے سوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 38
کچھ بھی پایا نہ درد سر کے سوا
گئے جس در پہ تیرے در کے سوا
یوں پریشاں ہیں جیسے حاصل شب
آج کچھ اور ہے سحر کے سوا
کس کے در پر صدا کریں جا کر
وا نہیں کوئی اپنے در کے سوا
کل تو سب کچھ تھی آپ کی آمد
آج کچھ بھی نہیں خبر کے سوا
وائے ہنگامہ جیسے کچھ بھی نہیں
کارواں شور رہگزر کے سوا
یہ نشیمن یہ گلستاں باقیؔ
اور سب کچھ ہے بال و پر کے سوا
باقی صدیقی

اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا
کان پڑتی نہیں آواز کوئی
دل میں وہ شور بپا ہے اپنا
اب تو ہر بات پہ ہوتاہے گماں
واقعہ کوئی سنا ہے اپنا
ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے
دشت تک سایہ گیا ہے اپنا
خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے
خود ہی در کھول دیا ہے اپنا
دل کی اک شاخ بریدہ کے سوا
چمن دہر میں کیا ہے اپنا
کوئی آواز، کوئی ہنگامہ
قافلہ رکنے لگا ہے اپنا
اپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہے
دل میں جو چور چھپا ہے اپنا
کون تھا مدِ مقابل باقیؔ
خود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا
باقی صدیقی

جس نے تیرے ایما پر طے کیا سفر اپنا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 36
لے گیا بچا کر وہ دل کے ساتھ سر اپنا
جس نے تیرے ایما پر طے کیا سفر اپنا
زندگی کے ہنگامے دھڑکنوں میں ڈھلتے ہیں
خواب میں بھی سنتے ہیں شور رات بھر اپنا
دل کے ہر دریچے میں جھانکتے ہیں کچھ چہرے
خود کو راہ میں پایا رُخ کیا جدھر اپنا
کون کس سے الجھا ہے، ایک شور برپا ہے
جا رہاہے دیکھو تو قافلہ کدھر اپنا
خیر ہو ترے غم کی شام ہونے والی ہے
اور کر لیا ہم نے ایک دن بسر اپنا
رنگ زندگی دیکھا کچھ یہاں وہاں باقیؔ
غم غلط کیا ہم نے کچھ اِدھر اُدھر اپنا
باقی صدیقی

دور کا غم قریب تر جانا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 35
دل کو جب تیری رہگزر جانا
دور کا غم قریب تر جانا
بے نیازی سی بے نیازی تھی
اپنے گھر کو نہ اپنا گھر جانا
لے نہ ڈوبے کہیں یہ بے خبری
ہر خبر کو تری خبر جانا
اک نئے غم کا پیش خیمہ ہے
بے سبب زخم دل کا بھر جانا
تجھ سے آتی ہے بوئے ہمدردی
جانے والے ذرا ٹھہر جانا
ابتدائے سفر کا شوق نہ پوچھ
ہر مسافر کو ہم سفر جانا
زندگی غم کا نام ہے باقیؔ
ہم نے اب قصہ مختصر جانا
باقی صدیقی

پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا
منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا
دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا
کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا
کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا
آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا
باقی صدیقی

لے آیا کہاں خیال تیرا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا
لے آیا کہاں خیال تیرا
جیسے کسی غیر کا تصور
یوں آتا ہے اب خیال تیرا
ہم دیکھتے رہ گئے جہاں کو
پوچھا تھا کسی نے حال تیرا
ٹوٹے ہیں تعلقات کیونکر
میرا تھا نہ یہ خیال تیرا
کس رنگ میں وہ ملے تھے باقیؔ
دل ہی میں رہا سوال تیرا
باقی صدیقی

عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 32
چلے ہیں ایک زمانے کے بعد دیوانے
عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے
ادا شناس نگاہیں بھی کھا گئیں دھوکا
یہ کس لباس میں نکلے ہیں تیرے دیوانے
کسی امید پہ پھر بھی نظر بھٹکتی ہے
اگرچہ چھان چکے ہیں دلوں کے ویرانے
کہیں نہ روشنی پاؤ گے میرے دل کے سوا
کہاں چلے ہو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے
تری نگاہ نے رستہ بدل دیا ورنہ
چلے تھے ہم بھی غم زندگی کو اپنانے
بہار انجمن شب میں اب وہ بات کہاں
ہزار شمع جلے، لاکھ آئیں پروانے
پر ایک بات زباں پر نہ آ سکی باقیؔ
کہاں کہاں کے سنائے ہیں ہم نے افسانے
باقی صدیقی

تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کسی نے نہ دریا کے اسرار کھولے
تلاطم بھی آئے سفینے بھی ڈولے
زمانے کا ہے کام تقلید کرنا
مرے ساتھ ہولے، ترے ساتھ ہولے
دیا ہے یہ صیاد نے حکم باقیؔ
قفس میں کوئی پر بھی اپنے نہ تولے
باقی صدیقی

آگے وحشت جس کو پکارے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 30
یاں تک آئے اپنے سہارے
آگے وحشت جس کو پکارے
جس کو اتنا ڈھونڈ رہے ہیں
جانے وہ کس گھاٹ اتارے
تیری آس پہ آرزوؤں نے
ہر رستے میں پاؤں پسارے
ہم نے جب پتوار سنبھالے
ابھرے طوفانوں سے کنارے
دنیا کو ہے شغل سے مطلب
تم ہارو یا باقیؔ ہارے
باقی صدیقی

راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 29
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے
زندگی حرف غلط ہی نکلی
ہم نے معنی تو بہت پہنائے
دامن خواب کہاں تک پھیلے
ریگ کی موج کہاں تک جائے
تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے
بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے
بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ
اس طرح جھوم کے بادل آئے
باقی صدیقی

بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جو دنیا کے الزام آنے تھے، آئے
بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے
کسی نے تمہیں آج کیا کہہ دیا ہے
نظر آ رہے ہو پرائے پرائے
بہت واقعے پیش آئے تھے لیکن
نہ تم نے سنے کچھ نہ ہم نے سنائے
ملاقات کی کونسی ہے یہ صورت
نہ ہم مسکرائے، نہ تم مسکرائے
فسانہ سنائے چلا جا رہا ہوں
یقیں سننے والوں کو آئے نہ آئے
زمانے کی آنکھوں میں نور آ گیا ہے
کوئی اپنے دامن کے دھبے چھپائے
نہ دنیا نے تھاما نہ تو نے سنبھالا
کہاں آ کے میرے قدم ڈگمگائے
الجھتے ہیں ہر گام پر خار باقیؔ
کہاں تک کوئی اپنا دامن بچائے
باقی صدیقی

آئے مرے غمگسار آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 27
بولے منہ سے نہ مسکرائے
آئے مرے غمگسار آئے
دامن بھی نہ ہو جسے میسر
زخموں کو وہ کس طرح چھپائے
عنوان حیات بن گئے ہیں
جو تیری نظر نے گل کھلائے
ہے فرصت زہر خند کس کو
پھولوں کو صبا نہ گدگدائے
زخموں کو وہ چھیڑتے ہیں باقیؔ
لب پر کوئی بات آ نہ جائے
باقی صدیقی

وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 26
ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ
وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ
اسی میں ہے پوشیدہ راز زمانہ
فسانہ حقیقت، حقیقت فسانہ
نہ اتراؤ صیاد کی دوستی پر
اسی باغ میں تھا مرا آشیانہ
ادھر نام تک مٹ رہا ہے کسی کا
ادھر بن رہا ہے کسی کا فسانہ
نہ پوچھو محبت کی پرواز باقیؔ
بہت دور تک ساتھ آیا زمانہ
باقی صدیقی

لے آیا کہاں دل تپیدہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 25
اک سانس ہے نوحہ، اک قصیدہ
لے آیا کہاں دل تپیدہ
ہیں لفظ کہ کاغذی شگوفے
ہیں شعر کہ داغ چیدہ چیدہ
ہر بات ہے اک ورق پرانا
ہر فکر ہے اک نیا جریدہ
کچھ مثل خدنگ ہیں ہوا میں
کچھ مثل کماں ہیں سرکشیدہ
گلشن میں ہو کے بھی نہیں ہیں
ہم صورت شاخ نو بریدہ
تکتے ہیں رقص ساغر گل
پیتے ہیں شبنم چکیدہ
اپنی خوشبو ہے طنز ہم پر
ہم گل ہیں مگر صبا گزیدہ
ہر راہ میں گرد بن کے ابھرا
یہ زیست کا آہوئے رمیدہ
دل تک نہ گئی نگاہ اپنی
پردہ بنا دامن دریدہ
یا میری نظر نظر نہیں ہے
یا رنگ حیات ہے پریدہ
اس راہ پہ چل رہے ہیں باقیؔ
جس سے واقف نہ دل نہ دیدہ
باقی صدیقی

مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 24
یہ آگ آگ ہوائیں یہ سرخ سرخ زمیں
مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں
ترے بغیر نظر کا یہ حال ہے جیسے
تمام شہرکی شمعیں کسی نے گل کر دیں
ہزار کروٹیں لیتی ہے ایک پل میں حیات
جو ایک بار نگاہیں ہٹیں تو پھر نہ ملیں
ترے خیال میں گم ہو گئے ہیں دیوانے
ترے سوا کوئی اب تیری انجمن میں نہیں
اسی کا نام تو دیوانگی نہیں باقیؔ
کہ اپنے آپ سے ہنس ہنس کے ہم نے باتیں کیں
باقی صدیقی

تیرے ٹوٹے ہوئے وعدے کا یقیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ہے روایات محبت کا امیں
تیرے ٹوٹے ہوئے وعدے کا یقیں
کتنے اونچے تھے جہاں سے گویا
آسماں تھی ترے کوچے کی زمیں
ہم نے تیور تو بدلتے دیکھے
پھر کہا آپ نے کیا یاد نہیں
دیکھ کر رنگ تری محفل کا
ہم نے غیروں کی طرح باتیں کیں
حادثہ ہے کوئی ہونے والا
دل کی مانند دھڑکتی ہے زمیں
تنگ آ کر مری خاموشی سے
چیخ اٹھیں نہ در و بام کہیں
دور سے دیکھتے جائیں باقیؔ
زندگی کوئی تماشہ تو نہیں
باقی صدیقی

ختم ہونے پہ ہیں ملاقاتیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 22
کہہ رہی ہیں حضور کی باتیں
ختم ہونے پہ ہیں ملاقاتیں
کس کی راتیں، کہاں کی برساتیں
آپ کے ساتھ تھیں وہ سب باتیں
جانے کس ڈھب کی تھیں ملاقاتیں
اور بھی تلخ ہو گئیں راتیں
اور سے اور ہو گئی دنیا
جب ملیں حسن و عشق کی گھاتیں
عم زدوں کا ہے کام کیا باقیؔ
یا شکایات یا مناجاتیں
باقی صدیقی

کیسے اپنا دیا جلائیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 21
یہ رات یہ دشت کی ہوائیں
کیسے اپنا دیا جلائیں
نشہ دیتا ہے زہر غم بھی
ہے تاب ستم تو مسکرائیں
ہوتے رہتے ہیں زخم تازہ
تم ساتھ نہ ہو تو بھول جائیں
اب سوز بھی ساز چاہتا ہے
دنیا کی زباں کہاں سے لائیں
کب تک سنیں دل شکست باتیں
کب تک ہم خود کو آزمائیں
دریا کو پیاس لگ رہی تھی
صحرا سے گزر گئیں گھٹائیں
آئی وہ شاہ کی سواری
آؤ ہم تالیاں بجائیں
در سے دیوار بے خبر ہے
کیسے یہ فاصلے مٹائیں
یہ رنگ کہ رنگ اڑ رہا ہے
یہ ہوش کہ ہوش میں نہ آئیں
ہم تیرے خیال سے بھی گزرے
ایسے میں اگر مراد پائیں
ہو شوق سفر کی خیر باقیؔ
لینے لگے حادثے بلائیں
باقی صدیقی

اور بھی رات ہو گئی تاریک

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 20
دیکھ کر صبح کی گھڑی نزدیک
اور بھی رات ہو گئی تاریک
انقلاب چمن معاذاﷲ
پھول کانٹوں سے مانگتے ہیں بھیک
اے شب غم ترا خیال ہے کیا
سن رہے ہیں کہ ہے سحر نزدیک
ساتھ آؤ کہ لوگ کہتے ہیں
راستہ زندگی کا ہے تاریک
دل کا دامن سمیٹ لے باقیؔ
کون دے گا تجھے حیات کی بھیک
باقی صدیقی

دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 19
ٹھہرو ٹھہرو قافلے والو
دل بیٹھا جاتاہے سنبھالو
اور ستم کہتے ہیں کس کو
تم ہی کہہ دو دیکھنے والو
کچھ دن اور نہ ان سے الجھو
کچھ دن اور قضا کو ٹالو
افسانہ بھی سنتے جاؤ
دل کی بات بتانے والو
دنیا دیکھ نہ لے اے باقیؔ
دل میں امیدوں کو چھپا لو
باقی صدیقی

اے ہستی کے خام سہارو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 18
کچھ تو ڈوبے دل کو ابھارو
اے ہستی کے خام سہارو
دنیا دارو! اتنی نفرت!
اتنی نفرت! دنیا دارو!
میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو
کوئی بات کرو غم خوارو!
موجیں اور پابندیٔ دریا
ہٹ جاؤ رستے سے کنارو!
کوئی جھٹک دے دامن باقیؔ
اتنے بھی پاؤں نہ پسارو!
باقی صدیقی

وہ نگاہیں اٹھیں مگر کم کم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 17
دل پہ کچھ کھل سکا نہ راز غم
وہ نگاہیں اٹھیں مگر کم کم
اس طرح ہو گئے جدا جیسے
راہ میں یوں ہی مل گئے تھے ہم
آرزو راستے میں چھوڑ گئی
ہم ہیں اور زندگی کے پیچ و خم
پستیاں بھی گریز کرنے لگیں
کس بلندی سے گر رہے ہیں ہم
لب گل بھی نہ تر ہوئے باقیؔ
رات برسی کچھ اس طرح شبنم
باقی صدیقی

مسکرانے لگے حیات کے غم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 16
دیکھ کر تیرے گیسوئے برہم
مسکرانے لگے حیات کے غم
اک تمہاری نظر بدلنے سے
ہو گئیں کتنی محفلیں برہم
آ گئے آپ درمیاں ورنہ
کھل چلی تھی حقیقت عالم
دیکھنا تو بہار کے انداز
غنچے غنچے کی آنکھ ہے پُرنم
آ رہی ہے وہ صبح نو باقیؔ
دیکھو لے کر حیات کا پرچم
باقی صدیقی

اور بھی ہیں دنیا کے کام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 15
یاد نہ آؤ صبح و شام
اور بھی ہیں دنیا کے کام
ایسی پیاس کا کیا ہو گا
جب بھی دیکھو تشنہ کام
کوئی تیری بات کرے
ہم پر آتا ہے الزام
کتنے فسانوں کا عنواں
میری نظریں تیرا بام
چپکے چپکے دل سے گزر
دیکھ نہ لے دور ایام
اتنا جرم نہ تھا باقیؔ
جتنے ہوئے ہیں ہم بدنام
باقی صدیقی

ستارے جھلملا اٹھے سر شام

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 14
لیا کس نے ابھی سے صبح کا نام
ستارے جھلملا اٹھے سر شام
فسون آرزو ٹوٹے نہ ٹوٹے
ہمارے سامنے ہے دل کا انجام
چلے جائیں گے خالی ہاتھ بھی ہم۔۔
مگر آئے تھے سن کر آپ کا نام
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو بدلا دور ایام
محبت اور اطوار زمانہ
کیا اپنی وفا کو ہم نے بدنام
تمنا داغ دے جائے نہ باقیؔ
ستارا ایک ٹوٹا ہے سرشام
باقی صدیقی

ہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 13
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
ہر سائے کے ساتھ نہ ڈھل
لفظوں کے پھلوں پہ نہ جا
دیکھ سروں پر چلتے ہل
دنیا برف کا تودہ ہے
جتنا جل سکتا ہے جل
غم کی نہیں آواز کوئی
کاغذ کالے کرتا چل
بن کے لکیریں ابھرے ہیں
ماتھے پر راہوں کے بل
میں نے تیرا ساتھ دیا
میرے منہ پر کالک مل
آس کے پھول کھلے باقیؔ
دل سے گزرا پھر بادل
باقی صدیقی

نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 12
حسیں حسیں نظر آتے ہیں آرزوؤں کے جال
نئی نئی ہے محبت، جواں جواں ہیں خیال
کبھی پیام قضا ہے، کبھی نوید حیات
تمام عمر معمہ رہا تمہارا جمال
کیا جو غور محبت کے ماحصل پہ کبھی
تو دھندلے دھندلے نظر آئے حسن کے خدوخال
کس اعتماد پہ دعویٰ کریں محبت کا
بدل بھی جاتے ہیں اے دوست آدمی کے خیال
بس ایک ان کے اشارے کی دیر ہے باقیؔ
نفس نفس ہے تمنا، نظر نظر ہے سوال
باقی صدیقی

ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 11
دیکھ کر آ گیا ہے ان کو خیال
ورنہ کرتا ہے کون پرسش حال
آرزوئے سکون دل توبہ
آپ کی بزم تک گیا ہے خیال
اک مصیبت سے بچ گئے تو کیا
دل سلامت رہے ہزار وبال
لازمی ہے سماعت احساس
لوگ کرتے ہیں زیرلب بھی سوال
ہیں ابھی مرحلے بہت باقیؔ
خود فریبی تو ہے اک آخری چال
باقی صدیقی

ساری دنیا ہے غماز

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کب تک راز رہے گا راز
ساری دنیا ہے غماز
کس کے نغمے، کس کا ساز
دیکھ زمانے کے انداز
گونج رہی ہے کانوں میں
اک سے ایک نئی آواز
جب دیکھو برہم برہم
کون اٹھائے اتنے ناز
ہمرازوں کے سینوں میں
ڈھونڈ رہا ہوں اپنا راز
آپ مجسم مہر و وفا
باقیؔ سب فتنہ پرداز
باقی صدیقی