admin کی تمام پوسٹیں

قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 209
بھٹک نہ جائیں رہ نو نکالنے والے
قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے
شب فراق کا احساس ہی نہ مٹ جائے
شب فراق کو ہنس ہنس کے ٹالنے والے
بہار بزم میں تحلیل ہو گیا ہوں میں
کہاں ہیں بزم سے مجھ کو نکالنے والے
غم حیات کی منزل ارے معاذ اﷲ
سنبھل سکے نہ جہاں کو سنبھالنے والے
نہ بھول جائیں کہیں اپنے آپ کو باقیؔ
خوشی کو ٹالیں مصیبت کو ٹالنے والے
باقی صدیقی

ہم ہوا میں بسر کریں کیسے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 208
اعتبار نظر کریں کیسے
ہم ہوا میں بسر کریں کیسے
تیرے غم کے ہزار پہلو ہیں
بات ہم مختصر کریں کیسے
رُخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے
گرد بن کر سفر کریں کیسے
خود سے آگے قدم نہیں جاتا
مرحلہ دل کا سر کریں کیسے
ساری دنیا کو ہے خبر باقیؔ
خود کو اپنی خبر کریں کیسے
باقی صدیقی

روئی صبا لپٹ کے ہر اک شاخسار سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 207
اٹھا نقاب جب رُخ صبح بہار سے
روئی صبا لپٹ کے ہر اک شاخسار سے
شاخوں میں تھی دبی ہوئی شاید خزاں کی آگ
گلشن بھڑک اٹھا ہے نسیم بہار سے
گزرے ہوئے دنوں کے تصور سے فائدہ
کیا روشنی ملے گی چراغ مزار سے
روداد گلستاں کو نیا رنگ دے گیا
رستا رہا ہے خون جو زخم بہار سے
باقیؔ کبھی جلی تھیں محبت کی بستیاں
راہوں میں اڑ رہے ہیں ابھی تک شرار سے
باقی صدیقی

آپ گئے ہیں جب سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 206
روٹھ گیا دل سب سے
آپ گئے ہیں جب سے
پہروں سونے والے
جاگ رہے ہیں کب سے
تاریکی، سناٹا
توبہ ایسی شب سے
کون وفا کا پیکر!
ہم واقف ہیں سب سے
غم ہی غم دیکھا ہے
آنکھ کھلی ہے جب سے
ہم مجرم ہیں لیکن
بات تو کیجے ڈھب سے
کیا لینا، کیا دینا
ہنس کر ملئے سب سے
بات کرو کچھ باقیؔ
چپ بیٹھے ہو کب سے
باقی صدیقی

ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے یقیں سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 205
ظاہر تھا وہ غم تری ’’نہیں‘‘ سے
ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے یقیں سے
روداد حیات کیا سنائیں
ہے یاد مگر کہیں کہیں سے
جیسے یہ تیری ہی رہگزر ہے
ہم بیٹھ گئے ہیں کس یقیں سے
رستے سے ہے گر پلٹ کےآنا
بہتر ہے پلٹ چلو یہیں سے
جذبات میں بہہ گئے ہیں باقیؔ
واقف تھے نہ ہم دل حزیں سے
باقی صدیقی

ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 204
خار چن لے گا بہار ناز سے
ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا
ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ
آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی
بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی

رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 203
خون اخلاص کی بو آتی ہے پیمانے سے
رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے
تیز ہوتا ہے جنوں اور بھی سمجھانے سے
کیا توقع کرے دنیا ترے دیوانے سے
اے ابھرتی ہوئی موجوں سے الجھنے والو
ڈوب مرنا کہیں بہتر ہے پلٹ آنے سے
کیا تری انجمن آرائیاں یاد آئی ہیں
کیوں پلٹ آئے ہیں وحشی ترے ویرانے سے
آرزوؤں کے معمے نہ ہوئے حل باقیؔ
زندگی اور الجھتی گئی سلجھانے سے
باقی صدیقی

رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 202
بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے
رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے
کوئی دنیا سے شکایت تو نہیں
کون پوچھے ترے دیوانے سے
کس کے ہنسنے کی صدا آئی ہے
دل میں چلنے لگے پیمانے سے
زندگی کا یہ معمہ باقیؔ
اور الجھا مرے سلجھانے سے
باقی صدیقی

آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 201
ہم تو دنیا سے بدگماں ٹھہرے
آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے
ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھی
زیر دیوار گلستاں ٹھہرے
آپ کو کارواں سے کیا مطلب
آپ تو میر کارواں ٹھہرے
زندگی چاہتی ہے ہنگامہ
اور ہم لوگ بے زباں ٹھہرے
کبھی تیری تلاش میں نکلے
کبھی بن کر ترا نشاں ٹھہرے
گردش دہر ساتھ ساتھ رہی
ہم جدھر بھی گئے، جہاں ٹھہرے
ہر قدم پر تھا اک صنم خانہ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
ہر نظر سنگ راہ تھی باقیؔ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
کچھ تو کج رو جہاں بھی ہے باقیؔ
اور کچھ ہم بھی قصّہ خواں ٹھہرے
باقی صدیقی

بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 200
اردوگرد دیواریں اور درمیاں چہرے
بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے
گردش زمانہ کا اک طویل افسانہ
یہ جلی جلی نظریں، یہ دھواں دھواں چہرے
نقش نقش پر برہم، داغ داغ پر خنداں
زندگی کی راہوں میں رہ گئے کہاں چہرے
قہقہوں کے ساغر میں ڈھل سکیں نہ وہ باتیں
موج لب سے پہلے ہی کر گئے بیاں چہرے
موسموں کی تلخی کا کچھ سراغ دیتے ہیں
شاخ جسم نازک پر برگ بے زباں چہرے
اک خیال دنیا کاکر گیا سکوں برہم
اک ہوا کے جھونکے سے ہو گئے عیاں چہرے
رنگ و بو کی تصویریں آئنے بدلتی ہیں
خار کی خلش چہرے، پھول کا گماں چہرے
رک گئے وہاں ہم بھی ایک دو گھڑی باقیؔ
جس جگہ نظر آئے چند مہرباں چہرے
باقی صدیقی

ہے بات یہی دل میں تو اچھا کہہ دے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 199
تو عرض تمنا کو بھی جھگڑا کہہ دے
ہے بات یہی دل میں تو اچھا کہہ دے
انصاف کتابوں میں بھلا لگتا ہے
مجرم ہے وہ مجرم جسے دنیا کہہ دے
گلشن میں بہاروں کی نہیں کوئی کمی
ہاں ہاتھ نہ کچھ آئے تو صحرا کہہ دے
تو دوش ہوا پر ہے تری بات ہے کیا
جو حادثہ ہو اس کو تماشا کہہ دے
دنیا کسی نسبت سے مجھے یاد رکھے
دشمن ہوں تو دشمن مجھے اپنا کہہ دے
یہ سوچ کے ہر بات میں کہہ دیتا ہوں
شاید تو کبھی بھول کے اچھا کہہ دے
اس شخص کی باتوں کا بھروسہ باقیؔ
جو رجم کو بھی دل کی تمنا کہہ دے
باقی صدیقی

تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 198
بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے
تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے
مہر و مہ کو نہ یہ ضیا ملتی
آسماں بھی نہ آسماں ہوتے
تم نے تفسیر دو جہاں کی ہے
ورنہ یہ راز کب عیاں ہوتے
تم دکھاتے اگر نہ راہ حیات
جانے کس سمت ہم رواں ہوتے
ہمیں اپنی جبیں نہ مل سکتی
اتنے غیروں کے آستاں ہوتے
ایک انسان بھی نہ مل سکتا
گرچہ آباد سب مکاں ہوتے
کھل نہ سکتی کلی مسرت کی
غم ہی غم زیب داستاں ہوتے
مقصد زندگی نہ پا سکتے
اپنی ہستی سے بدگماں ہوتے
ہمیں کوئی نہ آسرا ملتا
بے اماں ہوتے ہم جہاں ہوتے
تو نے بخشی ہے روشنی ورنہ
دیدہ و دل دھواں دھواں ہوتے
باقی صدیقی

رات بھر کیا صدائے پا سنتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 197
سو گئے دل کا ماجرا سنتے
رات بھر کیا صدائے پا سنتے
گو خموشی نہیں غموں کا علاج
پھر بھی کیا کہتے اور کیا سنتے
کارواں بھی گریز پا نکلا
ورنہ کیا کیا شکستہ پا سنتے
غم ہستی کا روگ کیا معنی
چل کے نغمہ بہار کا سنتے
کسی کنج طرب میں دم لیتے
مرغ آزاد کی نوا سنتے
حسن سرو و سمن کے پردے ہیں
داستان غم صبا سنتے
جرس غنچۂ امید کے ساتھ
طوق و زنجیر کی صدا سنتے
گاؤں جا کر کرو گے کیا باقیؔ
شور کچھ دیر شہر کا سنتے
باقی صدیقی

ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 196
ہم تیری محبت سے گزرنے نہیں پاتے
ایسے بھی ہیں کچھ زخم کہ بھرنے نہیں پاتے
ہر موج تمنا ہے سراب یم ہستی
ہم پیاس کے صحرا سے ابھرنے نہیں پاتے
وہ دھوپ کہ دیوار سر راہ کھڑی ہے
سائے بھی درختوں سے اترنے نہیں پاتے
اس طرح جکڑ رکھا ہے احساس وفا نے
ہم ٹوٹ تو جاتے ہیں بکھرنے نہیں پاتے
آ کر بھی صبا باغ میں لہرا نہیں سکتی
کھل کر بھی کئی پھول نکھرنے نہیں پاتے
وہ بھیڑ ہے اک گام بھی ہم چل نہیں سکتے
وہ شور ہے ہم بات بھی کرنے نہیں پاتے
ہر موج قدم دل سے گزر جاتی ہے باقیؔ
وہ تیز ہوا ہے کہ ٹھہرنے نہیں پاتے
باقی صدیقی

ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 195
تیرے در تک نہیں جانے پاتے
ہم کہاں اور ٹھکانے پاتے
ہر قدم پر ہے نیا ہنگامہ
ہوش میں ہم نہیں آنے پاتے
جلوہ پردہ ہے تو پردہ جلوہ
کیا ترا بھید زمانے پاتے
تم عناں گیر جنوں ہو ورنہ
چور چور آئنہ خانے پاتے
لوگ غربت کا گلہ کرتے ہیں
ہم وطن سے نہیں جانے پاتے
درد ہوتا تو مسلسل ہوتا
دل کو ہم دل تو بنانے پاتے
غم اگر ساتھ نہ دیتا باقیؔ
دشت بھی ہم نہ بسانے پاتے
باقی صدیقی

چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 194
تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے
چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے
سوچ کر آئے تھے ہم کیا کیا مگر
رنگ محفل دیکھ کر چپ ہو گئے
کیا کبھی اس کا بھی آیا ہے خیال
کیوں ترے شوریدہ سر چپ ہو گئے
کہہ رہے تھے جانے کیا لوگوں سے وہ
مجھ کو آتا دیکھ کر چپ ہو گئے
میں نہیں گویا کسی کا ترجمان
ہمنوا یوں وقت پر چپ ہو گئے
اک اداسی بزم پر چھا جائے گی
ہم بھی اے باقیؔ اگر چپ ہو گئے
باقی صدیقی

لے غم زیست ہار مان گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 193
بیکلی کو قرار مان گئے
لے غم زیست ہار مان گئے
آپ کے ساتھ ہی بہار گئی
آپ کا اختیار مان گئے
نہ وہ آئے نہ تو نے چین لیا
اے دل بیقرار مان گئے
اس نے جو کچھ کہا مرے حق میں
لوگ بے اختیار مان گئے
بات دشوار تھی مگر باقیؔ
مے ملی میگسار مان گئے
باقی صدیقی

تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 192
رک گئی برسات، ساغر تھم گئے
تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے
کیا سمجھ سکتے وہ اسرار چمن
جو چمن میں صورت شبنم گئے
ایک عالم سرنگوں پایا گیا
جس طرف ہم لے کے تیرا غم گئے
غم کے ہیں یا ضبط غم کے ترجماں
اشک جو پلکوں پہ آ کر تھم گئے
اس کے آگے کیا ہوا باقیؔ نہ پوچھ
بارگاہ حسن تک تو ہم گئے
باقی صدیقی

دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 191
ہم تری بزم سے بازار میں جب لائے گئے
دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے
ہائے یہ شوق کہ ہر لب پہ تھا پیغام سفر
وائے یہ وہم کہ ہر گام پہ ٹھہرائے گئے
گرچہ ہر بزم میں اک قصہ ترا چلتا تھا
پھر بھی کچھ قصّے کسی طرح نہ دہرائے گئے
روز ہم اک نئے احساس کی تصویر بنے
روز ہم اک نئی دیوار میں چنوائے گئے
جس جگہ کھوئے ہیں اپنوں کی تمنا میں ہم
وہیں غیروں کی روایات میں ہم پائے گئے
کیا وفا کرکے ہوئے سب کی نظر میں مجرم
ایک عرصہ ترے کوچے میں نہ ہم آئے گئے
ہر قدم حلقۂ صد دام چمن تھا باقیؔ
ہار زنجیر کی صورت کبھی پہنائے گئے
باقی صدیقی

حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 190
آپ کب مائلِ کرم نہ ہوئے
حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے
خیر ہو تیری کم نگاہی کی
ہم کبھی بے نیاز غم نہ ہوئے
آج ہی آئے سینکڑوں الزام
آج ہی انجمن میں ہم نہ ہوئے
لوح آزاد ہے قلم آزاد
پھر بھی کچھ حادثے رقم نہ ہوئے
شمع کی طرح ہم جلے باقیؔ
پھر بھی آگاہ راز غم نہ ہوئے
باقی صدیقی

شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 189
مرحلے زیست کے آسان ہوئے
شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے
اس لگاؤ پہ ہے اک شخص سے لاگ
تھی نئی بات کہ حیران ہوئے
وہ نظر اٹھنے لگی دل کی طرف
حادثے اب مرے ارمان ہوئے
آپ کو ہم سے شکایت کیسی
ہم تو غافل ہوئے نادان ہوئے
دل وارفتہ کی باتیں باقیؔ
یاد کر کر کے پشیمان ہوئے
باقی صدیقی

بہت روئے مگر رونے نہ پائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 188
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
بہت روئے مگر رونے نہ پائے
کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں
مسافر رات بھر سونے نہ پائے
جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ
وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے
باقی صدیقی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 187
موج ساحل سے جب جدا ہو جائے
ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے
لاکھ مجبوریاں سہی لیکن
آپ چاہیں تو کیا سے کیا ہو جائے
ہم کہیں جو روا نہیں لیکن
تم کہو جو وہی روا ہو جائے
تیری رحمت پہ اس قدر ہے یقین
جب خیال آئے اک خطا ہو جائے
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
جب بجھے روشنی سوا ہو جائے
باقی صدیقی

سامنے ان کے نہ بیٹھا جائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 186
ایسے دل پر بھی کوئی کیا جائے
سامنے ان کے نہ بیٹھا جائے
اب ہے وہ زخم نظر کا عالم
تیری جانب بھی نہ دیکھا جائے
کتنی سنسان ہے راہ ہستی
نہ چلا جائے نہ ٹھہرا جائے
ہمر ہو گوش بر آواز رہو
کیا خبر کوئی خبر آ جائے
زندگی اڑتا ہوا سایہ ہے
آگے آگے ہی سرکتا جائے
آرزو دیر سے چپ ہے باقیؔ
در پہ دستک کوئی دیتا جائے
باقی صدیقی

حادثے زاد سفر لے آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 185
سوز دل، زخم جگر لے آئے
حادثے زاد سفر لے آئے
دست گلچیں ہے کہ شاخ گل ہے
جب اٹھے اک گل تر لے آئے
ننگ ہستی ہے سکوت ساحل
کوئی طوفاں کو ادھر لے آئے
اپنی حالت نہیں دیکھی جاتی
ہم کو حالات کدھر لے آئے
تجھ سے مل کر بھی نہ تجھ کو پایا
غم بہ انداز دگر لے آئے
زندگی اس کی ہے جو دنیا کو
زندگی دے کے نظر لے آئے
دامن لالۂ گل سے باقیؔ
مل سکے جتنے شرر لے آئے
باقی صدیقی

متاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 184
جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
متاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے
وہ گرد اڑائی کسی نے کہ سانس گھٹنے لگی
ہٹے یہ راہ سے دیوار تو ہوا آئے
کسی مقام تمنا سے جب بھی پلٹے ہیں
ہمارے سامنے اپنے ہی نقش پا آئے
نمو کے بوجھ سے شاخیں نہ ٹوٹ جائیں کہیں
تم آؤ تو کوئی غنچہ کھلے، صبا آئے
یہ دل کی پیاس یہ دنیا کے فاصلے باقیؔ
بہت قریب سے اب تو کوئی صدا آئے
باقی صدیقی

لوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 183
ہم کہیں آئنہ لے کر آئے
لوگ اٹھائے ہوئے پتھر آئے
دل کے ملبے میں دبا جاتا ہوں
زلزلے کیا مرے اندر آئے
جلوہ، جلوے کے مقابل ہی رہا
تم نہ آئنے سے باہر آئے
دل سلاسل کی طرح بجنے لگا
جب ترے گھر کے برابر آئے
جن کے سائے میں صبا چلتی تھی
پھر نہ وہ لوگ پلٹ کر آئے
شعر کا روپ بدل کر باقیؔ
دل کے کچھ زخم زباں پر آئے
باقی صدیقی

سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 182
کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے
سنبھل سنبھل کے ٹھکانے مرے حواس آئے
تو ہی بتا کہ اسے کس طرح میں سمجھاؤں
تری شکایتیں لے کر جو میرے پاس آئے
حیات راس نہ آئی اگرچہ دل میں مرے
بدل بدل کے امیدوں کا وہ لباس آئے
کل ان کی بزم میں گزری ہے تم پہ کیا باقیؔ
کہ شاد شاد گئے اور اداس اداس آئے
باقی صدیقی

مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 181
وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی
مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی
زندگی داغ محبت ہی سہی
آپ سے دور کی نسبت ہی سہی
تم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتی
ایک لمحے کی مسافت ہی سہی
دل محبت کی ادا چاہتا ہے
ایک آنسو دم رخصت ہی سہی
آب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرام
زہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی
اپنی تقدیر میں سناٹا ہے
ایک ہنگامے کی حسرت ہی سہی
اس قدر شور طرب کیا معنی
جاگنے کی مجھے عادت ہی سہی
بزم رنداں سے تعلق کیسا
آپ کی میز پہ شربت ہی سہی
حد منزل ہے مقرر باقیؔ
رہرو شوق کو عجلت ہی سہی
باقی صدیقی

رہگزر ہی میں رہے راہگزر کے ساتھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 180
چل سکے دل کے نہ ہمراہ نظر کے ساتھی
رہگزر ہی میں رہے راہگزر کے ساتھی
ہر کنارے کی طرف صورت دریا دیکھو
راستہ روک بھی لیتے ہیں سفر کے ساتھی
قافلے شور مچاتے ہوئے گزرے لیکن
اپنی دیوار سے آئے نہ اتر کے ساتھی
خشک شاخوں پہ سر شام جو آ بیٹھتے ہیں
وہی دو چار پرندے ہیں شجر کے ساتھی
چاک دامن کا گلہ کرتے رہے ہم باقیؔ
اور محفل سے اٹھے جھولیاں بھر کے ساتھی
باقی صدیقی

تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 179
یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں تھی کبھی
تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی
ترے شگفتہ شگفتہ نقوش پا کے طفیل
مری نگاہ میں ہر راہ کہکشاں تھی کبھی
مرے خیال سے تیرا غرور روشن تھا
تری نگاہ سے دنیا میری جواں تھی کبھی
ترے تبسم رنگیں سے پھول کھلتے تھے
مری حیات بہاروں کی داستاں تھی کبھی
وہ بے خودی مری، وہ تیرے قرب کا احساس
نہ آس پاس تھی دنیا نہ درمیاں تھی کبھی
کبھی کبھی مجھے باقیؔ خیال آتا ہے
وہاں کھڑی ہے مری زندگی جہاں تھی کبھی
باقی صدیقی

وہ مہرباں تھے تو ہر چیز مہرباں تھی کبھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 178
یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں تھی کبھی
وہ مہرباں تھے تو ہر چیز مہرباں تھی کبھی
ترے شگفتہ شگفتہ نقوش پا کے طفیل
مری نظر میں ہر اک راہ کہکشاں تھی کبھی
مری نگاہ سے تیرا غرور روشن تھا
تری نگاہ سے دنیا مری جواں تھی کبھی
براہ راست نظر تجھ سے بات کرتی تھی
نہ آس پاس تھی دنیا نہ درمیاں تھی کبھی
کبھی کبھی مجھے باقیؔ خیال آتا ہے
وہاں نہیں ہے مری زندگی جہاں تھی کبھی
باقی صدیقی

فیصلہ اک نگاہ پر ہے ابھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 177
فاصلہ دل کا مختصر ہے ابھی
فیصلہ اک نگاہ پر ہے ابھی
چاند شب کے گلے میں اٹکا ہے
دور ہنگامہ سحر ہے ابھی
سائے قدموں کو روک لیتے ہیں
اک دیوار ہر شجر ہے ابھی
گھر کے اندر نظر نہیں جاتی
راہ میں حسن بام و در ہے ابھی
راستے گونجتے ہیں دل کی طرح
ایک آواز ہم سفر ہے ابھی
راہ بھی گرد، منزلیں بھی گرد
ہر قدم اک نئی خبر ہے ابھی
کچھ تعلق صبا سے ہے باقیؔ
دل کے دامن میں اک شرر ہے ابھی
باقی صدیقی

سامنے ہے بھرا بازار ابھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 176
دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
سامنے ہے بھرا بازار ابھی
آدمی ساتھ نہیں دے سکتا
تیز ہے سائے کی رفتار ابھی
یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار
ہے ترا شہر پُراسرار ابھی
دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے
بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی
آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ
کیا کوئی گل ہے شرر بار ابھی
باقی صدیقی

کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 175
دل قتیل ادا تھا پہلے بھی
کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی
ہم تو ہر دور کے مسافر ہیں
ظلم ہم پر روا تھا پہلے بھی
دل کے صحراؤں کو بسائے کوئی
شہر تو اک بسا تھا پہلے بھی
وقت کا کوئی اعتبار نہیں
ہم نے تم سے کہا تھا پہلے بھی
ہر سہارا پہاڑ کی صورت
اپنے سر پر گرا تھا پہلے بھی
دل کو باتوں سے ناپتے ہیں لوگ
ذکر اپنا چلا تھا پہلے بھی
باقی صدیقی

ایک پردہ اٹھا تھا پہلے بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 174
آپ ہی آپ سامنے تھے ہم
ایک پردہ اٹھا تھا پہلے بھی
منزل دل کی جستجو معلوم
دور اک قافلہ تھا پہلے بھی
کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ
دل تماشا بنا تھا پہلے بھی
یہی رنگ چمن کی باتیں تھیں
یہی شور صبا تھا پہلے بھی
پھول مہکے تھے رند بہکے تھے
جشن برپا ہوا تھا پہلے بھی
زیست کے ان فسانہ خوانوں سے
اک فسانہ سنا تھا پہلے بھی
کسی در پر جھکے نہ ہم باقیؔ
اپنا رستہ جدا تھا پہلے بھی
باقی صدیقی

مرے لبوں پہ زمانے کی بات ہے پھر بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 173
ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی
مرے لبوں پہ زمانے کی بات ہے پھر بھی
اگرچہ اس میں تری کوششیں بھی شامل ہیں
یہ کائنات مری کائنات ہے پھر بھی
کہاں حقیقت جلوہ، کہاں فریب شرار
ہزار شمعیں جلیں رات رات ہے پھر بھی
باقی صدیقی

مگر یوں زندگی ہو گی بسر بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 172
کرم ہے ہم پہ تیری اک نظر بھی
مگر یوں زندگی ہو گی بسر بھی
جو لے جاتی ہیں ہاتھوں پر سفینہ
انہی موجوں سے بنتے ہیں بھنور بھی
عنایت ایک تہمت بن نہ جائے
نظر کے ساتھ جھک جائے نہ سر بھی
ترے نغموں میں بھی کھویا ہوا ہوں
لگے ہیں کان دل کے شور پر بھی
چلا ہاتھوں سے دامان تمنا
ذرا اے سیل رنگ و بو ٹھہر بھی
لہو میں تر ہیں کا نٹوں کی زبانیں
کسی کو ہے گلستاں کی خبر بھی
لو اب تو دل کے سناٹے میں باقیؔ
ہوا شامل سکوت بام و در بھی
باقی صدیقی

کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 171
شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی
کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی
ملی ہے ایک زمانے کو روشنی جن سے
ہوائے دہر وہی مشعلیں بجھانے لگی
تھا جس خیال پہ قائم حیات کا ایواں
اسی خیال سے تلخی دلوں میں آنے لگی
سحر کے آئنے کا کوئی اعتبار نہیں
کلی تو دیکھ کے عکس اپنا مسکرانے لگی
میں اپنے دل کے بھنور سے نکل نہیں سکتا
تمہاری بات تو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی
گلوں کے منہ میں زمانے نے آگ رکھ دی ہے
بہار اپنا ہی خوں پی کے لڑکھڑانے لگی
نسیم گزری ہے زنداں سے اس طرح باقیؔ
شکست دل کی صدا دور دور جانے لگی
باقی صدیقی

امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 170
تری نظر کے اشاروں کو ساتھ لائے گی
امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی
وہی نظر مرے رستے میں بن گئی دیوار
گماں تھا جس پہ نظاروں کو ساتھ لائے گی
تری نظر ہی کا اب انتظار لازم ہے
تری نظر ہی بہاروں کو ساتھ لائے گی
بہت نحیف سہی موج زندگی پھر بھی
مچل گئی تو کناروں کو ساتھ لائے گی
تو آنے والے زمانے کا غم نہ کر باقیؔ
کہ رات اپنے ستاروں کو ساتھ لائے گی
باقی صدیقی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 169
موج ساحل سے جب جدا ہو گی
ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی
مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری
میری ہر بات ناروا ہو گی
مدعا خامشی تک آ پہنچا
اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی
باقی صدیقی

کر نہ تکلیف مسکرانے کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 168
اب نہیں تاب زخم کھانے کی
کر نہ تکلیف مسکرانے کی
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
کون سنتا ہے اب زمانے کی
زندگی پھر نہ راہ پر آئی
دیر تھی اک فریب کھانے کی
سب کی نظروں میں ہم کھٹکنے لگے
یہ سزا ہے مراد پانے کی
تھا زمانہ بھی مہرباں باقیؔ
جب ضرورت نہ تھی زمانے کی
باقی صدیقی

پہلی سی بات اب نہیں تیرے غلام کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 167
ہر آہ پر نظر ہے غمِ صبح و شام کی
پہلی سی بات اب نہیں تیرے غلام کی
اٹھی نہ جب نگاہ کسی تشنہ کام کی
ساقی کو پڑ گئی خم و مینا و جام کی
رکھ دو مرے غموں کو بھی دنیا کے سامنے
کڑیاں ہیں یہ بھی سلسلہ صبح و شام کی
ہر ایک معرکے میں رہا گرچہ پیش پیش
لیکن کہیں چلی نہ دلِ تیز گام کی
ان خشک وادیوں سے کوئی آشتا نہ تھا
باقیؔ ہے میرے نام سے شہرت سہام کی
باقی صدیقی

کیسی صورت ہے یہ سفر کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 166
منزل کی خبر نہ رہگزر کی
کیسی صورت ہے یہ سفر کی
بوجھل پلکیں، اداس نظریں
فریاد ہے میری چشم تر کی
اندر سے ٹوٹتے رہے ہیں
باہر سے زندگی بسر کی
دل کے قصّے میں کیا رکھا ہے
باتیں ہیں کچھ ادھر ادھر کی
میں رات اداس ہو گیا تھا
اتنی تھی روشنی قمر کی
کچھ ہم میں نہیں بیاں کی طاقت
کچھ وقت نے بات مختصر کی
اندر کچھ اور داستاں ہے
سرخی کچھ اور ہے خبر کی
باقی صدیقی

ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 165
کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی
ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی
دوسروں کے بھلے میں بھی اے دوست
فکر ہوتی ہے بیشتر اپنی
اک سحر ظلمت جہاں سے دور
کہہ سکیں ہم جسے سحر اپنی
کارواں ہے قریب منزل کے
اب کرے فکر راہبر اپنی
پوچھتے ہیں جہاں کی ہم باقیؔ
اور کہتا ہے چارہ گر اپنی
باقی صدیقی

اپنی ہوا میں اڑتا ہے بے پر کا آدمی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 164
جب سایہ آدمی کا پڑا سرکا آدمی
اپنی ہوا میں اڑتا ہے بے پر کا آدمی
گرتا ہے اپنے آپ پہ دیوار کی طرح
اندر سے جب چٹختا ہے پتھر کا آدمی
مٹی کی بات کرتا ہے کس اہتمام سے
سونے کی سل پہ بیٹھ کے مرمر کا آدمی
سائے کا ایک طور نہ چلمن کا ایک رنگ
دیوار کا رہا نہ کسی در کا آدمی
ہر صبح اٹھ کے زیست کی دیوار چاٹنا
باہر سے کتنا دور ہے اندر کا آدمی
باقیؔ یہ پھیلتے ہوئے رنگوں کے دائرے
باہر ہی باہر اڑتا ہے باہر کا آدمی
باقی صدیقی

بام افلاک سے اتر ساقی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 163
پھول بکھرے ہیں خاک پر ساقی
بام افلاک سے اتر ساقی
میکدہ اور مہیب سناٹا
بے رُخی اور اس قدر ساقی
تشنہ کامی سی تشنہ کامی ہے
دل میں پڑنے لگے بھنور ساقی
بجھ رہا ہے چراغ مے خانہ
رگ ساغر میں خون بھر ساقی
بار ہیں اب خزاں کے ہنگامے
فصل گل کی کوئی خبر ساقی
رند بکھرے ہیں ساغروں کی طرح
رنگ محفل پہ اک نظر ساقی
بے ارادہ چھلک چھلک جانا
جام مے ہے کہ چشم تر ساقی
اک کرن اس طرف سے گزری ہے
ہو رہی ہے کہیں سحر ساقی
توڑ کر سب حدود میخانہ
بوئے مے کی طرح بکھر ساقی
جانے کل رنگ زندگی کیا ہو
وقت کی کروٹوں سے ڈر ساقی
رات کے آخری تبسم پر
مئے باقیؔ نثار کر ساقی
باقی صدیقی

کوئی اٹھ جائے بلا سے تیری

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 162
رنگ محفل ہے ادا سے تیری
کوئی اٹھ جائے بلا سے تیری
دل تری بزم میں لے آتا ہے
ہم تو واقف ہیں رضا سے تیری
مرگ و ہستی کی حدیں ملنے لگیں
بات چل نکلی وفا سے تیری
تیرے جانے پہ ہوا ہے معلوم
شمع روشن تھی ضیا سے تیری
وقت جب چال کوئی چلتا ہے
یاد دیتی ہے دلاسے تیری
تیری آمد کا بہانہ ہے بہار
پھول کھلتے ہیں صدا سے تیری
بوئے گل دیکھی ہے رسوا ہوتے
کیا کریں بات صبا سے تیری
کرتے پھرتے ہیں بگولے باقیؔ
بات ہر آبلہ پا سے تیری
باقی صدیقی

کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 161
زنجیر ہوس دل کو رہائی نہیں دیتی
کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی
دنیا کے لئے بھول گئے اپنے خدا کو
کیا قبر کی آواز سنائی نہیں دیتی
کیا اپنے سوا کوئی نظر آئے نہ ہم کو
کیوں دل کو سکوں بات پرائی نہیں دیتی
جو مانگنا ہے مانگئے اﷲ سے اپنے
تسکیں کبھی دنیا کی گدائی نہیں دیتی
احساس سفر سے یہ گرہ کھلتی ہے باقیؔ
منزل کی خبر آبلہ پائی نہیں دیتی
باقی صدیقی

اتنی لمبی تو شب نہیں ہوتی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 160
بے کلی بے سبب نہیں ہوتی
اتنی لمبی تو شب نہیں ہوتی
ہم کہاں تک گلہ کریں غم سے
آپ سے بھول کب نہیں ہوتی
کھل کے باتیں کرو کہ اب ہم سے
گفتگو زیر لب نہیں ہوتی
دل کی حالت عجیب ہوتی ہے
کوئی امید جب نہیں ہوتی
ہر نئے حادثے پہ حیرانی
پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی
ہم کہاں تک گلے کریں باقیؔ
وہ نظر دور کب نہیں ہوتی
کوئی باقیؔ سنے سنے نہ سنے
داستاں ختم اب نہیں ہوتی
باقی صدیقی

بات بنتی نطر نہیں آتی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 159
کوئی ان کی خبر نہیں آتی
بات بنتی نطر نہیں آتی
تلخیٔ شب نہ جس میں شامل ہو
کوئی ایسی سحر نہیں آتی
کس سے پوچھیں بہار کی باتیں
اب صبا بھی ادھر نہیں آتی
اٹھ گئی ہے وفا ہی دنیا سے
بات اک آپ پر نہیں آتی
زندگی ہے وہ آئنہ جس میں
اپنی صورت نظر نہیں آتی
دل پہ کھلتی ہے جب حقیقت غم
پھر ہنسی عمر بھر نہیں آتی
کون سی شے کی ہے کمی باقیؔ
زندگی راہ پر نہیں آتی
باقی صدیقی

انگڑائی لے کے موج خرابات رہ گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 158
ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی
انگڑائی لے کے موج خرابات رہ گئی
پھر رخ بدل دیا غم ہستی نے دہر کا
پھر زیر بحث آ کے تری ذات رہ گئی
ہونے کو ان سے سینکڑوں باتیں ہوئیں مگر
جس بات کا گلہ تھا وہی بات رہ گئی
باقیؔ کسی سے ان کی شکایت نہ کر سکے
کچھ یوں بدل کے صورت حالات رہ گئی
باقی صدیقی

ان تک تو ساتھ گردش شام و سحر گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 157
آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی
ان تک تو ساتھ گردش شام و سحر گئی
کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر جلوہ حیات
لوٹ آئی زخم کھا کے جدھر بھی نظر گئی
آ دیکھ مجھ سے روٹھنے والے ترے بغیر
دن بھی گزر گیا، شب غم بھی گزر گئی
باقیؔ بس ایک دل کے سنبھلنے کی دیر تھی
ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی
تیرے بغیر رنگ نہ آیا بہار میں
اک اک کلی کے پاس نسیم سحر گئی
نادم ہے اپنے اپنے قرینے پہ ہر نظر
دنیا لہو اچھال کے کتنی نکھر گئی
شبنم ہو، کہکشاں ہو ستارے ہوں پھول ہوں
جو شے تمہارے سامنے آئی نکھر گئی
باقی صدیقی

رُخ دریا کا موڑ گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 156
کشتی نقش وہ چھوڑ گئی
رُخ دریا کا موڑ گئی
کیسی آواز آئی تھی
کیا سناٹا چھوڑ گئی
دل کی ایک کرن باقیؔ
سب آئنے توڑ گئی
باقی صدیقی

وہ سیر رنگ و بو کی تمنا کدھر گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 155
اٹھ کر مری نظر ترے رُخ پہ ٹھہر گئی
وہ سیر رنگ و بو کی تمنا کدھر گئی
کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر منظر حیات
اک زخم کھا کے آئی جدھر بھی نظر گئی
تیرے بغیر رنگ نہ آیا بہار میں
اک اک کلی کے پاس نسیم سحر گئی
شبنم ہو، کہکشاں ہو، ستارے ہوں، پھول ہوں
جو شے تمہارے سامنے آئی نکھر گئی
ہر چند میرے غم کا مداوا نہ ہو سکا
پھر بھی تری نگاہ بڑا کام کر گئی
وارفتگان شوق کا باقیؔ نہ حال پوچھ
دل سے اٹھی وہ موج کہ سر سے گزر گئی
باقی صدیقی

پھر ایک بات چھڑی، ایک بات ختم ہوئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 154
وہ پو پھٹی، وہ سحر آئی، رات ختم ہوئی
پھر ایک بات چھڑی، ایک بات ختم ہوئی
رہ حیات کے ہر موڑ پر یہ غم توبہ
ابھی حیات، ابھی کائنات ختم ہوئی
مریض عشق نے لو شرح زندگی کر دی
چھڑی تھی آہ سے، ہچکی پہ بات ختم ہوئی
مرے جنوں ہی نے بحث حیات چھیڑی تھی
مرے جنوں ہی پہ بحث حیات ختم ہوئی
ہمیں نے عشق کیا اختیار جب باقیؔ
جہاں سے رسم و رہ التفات ختم ہوئی
باقی صدیقی

پھر بھی ان سے نہ ملاقات ہوئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 153
سامنے بیٹھ کے ہر بات ہوئی
پھر بھی ان سے نہ ملاقات ہوئی
یوں تو کیا کچھ نہیں ہوتا لیکن
پوچھئے اس سے جسے مات ہوئی
دل ہی جب ٹوٹ گیا تو پھر کیا
نہ ہوئی یا بسر اوقات ہوئی
آپ پھر بیچ میں بول اٹھے ہیں
کب ابھی ختم مری بات ہوئی
میرے ہوتے تو وہ چپ تھے باقیؔ
کیا مرے بعد کوئی بات ہوئی
باقی صدیقی

کس توقع پہ دے صدا کوئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 152
ہم سخن ہے نہ ہم نوا کوئی
کس توقع پہ دے صدا کوئی
اب تصور بھی ساتھ دے نہ سکے
دور اتنا نکل گیا کوئی
منزلوں سے بھی بڑھ گئے آگے
دو قدم ساتھ جب چلا کوئی
زندگی راستہ ہے یا منزل
چل دیا سوچتا ہوا کوئی
کس توقع پہ آرزو کی تھی
کام آیا نہ آسرا کوئی
آس ٹوٹی کچھ اسطرح باقیؔ
جیسے پردہ سا اٹھ گیا کوئی
باقی صدیقی

ٹوٹا نہیں ابھی ترے خوابوں کا سلسلہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 151
آنکھوں میں ہے سوالوں جوابوں کا سلسلہ
ٹوٹا نہیں ابھی ترے خوابوں کا سلسلہ
دنیا کے رنگ رنگ میں حسرت کی کروٹیں
موجوں کے ساتھ ساتھ حبابوں کا سلسلہ
پیچھے نہ موج ریگ رواں کے چلے چلیں
ہو گا کہیں تو ختم سرابوں کا سلسلہ
موج بہار کے بھی قدم لڑ کھڑا گئے
جاتا ہے کتنی دور خرابوں کا سلسلہ
لفظوں تک آ گیا ہے جنوں کا معاملہ
دل کے اِدھر اُدھر ہے کتابوں کا سلسلہ
گھٹتا ہی جائے گا نگہ شوق کا مقام
بڑھتا ہی جائے گا یہ حجابوں کا سلسلہ
باقیؔ تری نگاہ کی دیوار بن گیا
چہروں کا مرحلہ کہ نقابوں کا سلسلہ
باقی صدیقی

ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 150
دل تیری اداؤں سے کھچا اور زیادہ
ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ
دل خون ہوا جاتا ہے دنیا کی ادا سے
یہ رنگ جما جتنا اڑا اور زیادہ
کیا داغ جلے دل کے بہ انداز چراغاں
احساس اندھیرے کا ہوا اور زیادہ
اس طرح مرے منہ پہ کوئی ہاتھ نہ رکھے
اس طرح تو گونجے گی صدا اور زیادہ
اب صورت آوارہ صدا، دل سے گزرنا
اب ٹھہرے تو چیخے گا خلا اور زیادہ
جب پڑتا ہے پھولوں پہ ترے حسن کا پرتو
گلشن میں مچلتی ہے صبا اور زیادہ
اس طرح وہ بت آیا مری راہ میں باقیؔ
یاد آنے لگا مجھ کو خدا اور زیادہ
باقی صدیقی

بات جاتی رہی سوال کے ساتھ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 149
جھک گئی آنکھ عرض حال کے ساتھ
بات جاتی رہی سوال کے ساتھ
اے غم زیست اس پہ کیا گزری
اک تمنا بھی تھی خیال کے ساتھ
احتیاط غم حیات نہ پوچھ
چل دئیے ہم جہاں کی چال کے ساتھ
ایک الزام بن گئی باقیؔ
فکر فردا بھی ذکر حال کے ساتھ
باقی صدیقی

حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 148
آرزو کی ہے اس ادا کے ساتھ
حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ
موج حالات کا فریب نہ پوچھ
ہم ابھرتے ہیں ہر صدا کے ساتھ
اپنی آواز پر گماں کیسا
ہو گئے چپ نہ ہمنوا کے ساتھ
بات کی داستان کیا معنی
درد تھا درد آشنا کے ساتھ
اپنا دامن بھی وہ بچاتے ہیں
بے تکلف بھی ہیں گدا کے ساتھ
ایسے موسم کی انتہا معلوم
دل برسنے لگا گھٹا کے ساتھ
کسی گل کے نہ ہم رہے باقیؔ
دو قدم کیا چلے صبا کے ساتھ
باقی صدیقی

آؤ اس شوخ کا قصیدہ کہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 147
بات دیدہ کہیں شنیدہ کہیں
آؤ اس شوخ کا قصیدہ کہیں
دل کا قصہ طویل ہوتا ہے
اس کے اوصاف چیدہ چیدہ کہیں
اس کی ہر اک ادائے رنگیں کو
زندگی پر خط کشیدہ کہیں
اور ہوتی ہے رسم شہر خیال
کیوں کسی کو ستم رسیدہ کہیں
کب وہ دشت وفا میں آیا تھا
کیوں اسے آہوئے رمیدہ کہیں
اس کی ہر بات کو کہیں تلوار
اپنے سر کو سر بریدہ کہیں
اس کے شعلوں کو دیں صبا کا نام
اپنے ہر رنگ کو پریدہ کہیں
جام کو جام جم سے دیں نسبت
اپنے خوں کو مئے چکیدہ کہیں
غیر سے دوستی مبارک ہو
اور اب کیا وفا گزیدہ کہیں
اب وہ رنگ جہاں نہیں باقیؔ
کس سے حال دل تپیدہ کہیں
باقی صدیقی

تم نہیں تو کوئی رونا بھی نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 146
غم دل کیا، غم دنیا بھی نہیں
تم نہیں تو کوئی رونا بھی نہیں
زندگی حد نظر تک چپ ہے
نغمہ کیسا کوئی نالہ بھی نہیں
سرسری ربط کی امید ہی کیا
اس پہ یہ ظلم کہ ایسا بھی نہیں
بات لب پر بھی نہیں آ سکتی
اور تجھ سے کوئی پردا بھی نہیں
چپ رہیں ہم تو گلے ہوتے ہیں
کچھ کہیں تو کوئی سنتا بھی نہیں
ابھی کر دیں تجھے دنیا کے سپرد
ابھی جی بھر کے تو دیکھا بھی نہیں
کبھی ہر موج قدم لیتی ہے
کبھی تنکے کا سہارا بھی نہیں
انتہائے غم دنیا معلوم
اب نظر محو تماشا بھی نہیں
گرد راہوں پہ جمی ہے باقیؔ
کیسی منزل کوئی چلتا بھی نہیں
باقی صدیقی

غم وہ شعلہ ہے جسے دنیا بجھا سکتی نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 145
وضعداری کیا حقیقت راس آ سکتی نہیں
غم وہ شعلہ ہے جسے دنیا بجھا سکتی نہیں
وہ سہارا دے رہے ہیں میرے احساسات کو
اب محبت دونوں عالم میں سما سکتی نہیں
عقل نے اوہام یوں رستے میں لا کر دکھ دئیے
زندگی دنیا کو اک مرکز پہ لا سکتی نہیں
دل کی آزادی بجا، نظروں کی بیباکی درست
زیست کیوں اس پر بھی کھل کر مسکرا سکتی نہیں
کچھ تو ہو باقیؔ جہاں کی چیرہ دستی کا علاج
زندگی اب اوربارِ غم اٹھا سکتی نہیں
باقی صدیقی

ہیں کہیں صبح کے آثار! نہیں کوئی نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 144
اٹھ گئے بزم سے میخوار؟ نہیں کوئی نہیں
ہیں کہیں صبح کے آثار؟ نہیں کوئی نہیں
ایک بیکس کے تقاضوں کی حقیقت ہی کیا
میں محبت کا طلبگار؟ نہیں کوئی نہیں
ظلم، ادبار، ہوس، وہم، عداوت، نفرت
ہیں کوئی جینے کے آثار؟ نہیں کوئی نہیں
فصل گل آئی کھنکنے لگے ساغر لیکن
میں تبسم کا سزاوار؟ نہیں کوئی نہیں
دب گئے ان کی نگاہوں کے اثر سے باقیؔ
کر لیا جرم کا اقرار؟ نہیں کوئی نہیں
باقی صدیقی

دل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 143
وقف رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
دل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں
صحبت شیشہ گراں سے انکار
سنگ آئنہ بنا ہے کہ نہیں
ہر کرن وقت سحر کہتی ہے
روزن دل کوئی وا ہے کہ نہیں
رنگ ہر بات میں بھرنے والو
قصہ کچھ آگے بڑھا ہے کہ نہیں
زندگی جرم بنی جاتی ہے
جرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
زخم دل منزل جاں تک آئے
سنگ رہ ساتھ چلا ہے کہ نہیں
کھو گئے راہ کے سناٹے میں
اب کوئی دل کی صدا ہے کہ نہیں
ہم ترسنے لگے بوئے گل کو
کہیں گلشن میں صبا ہے کہ نہیں
حکم حاکم ہے کہ خاموش رہو
بولو اب کوئی گلہ ہے کہ نہیں
چپ تو ہو جاتے ہیں لیکن باقیؔ
اس میں بھی اپنا بھلا ہے کہ نہیں
باقی صدیقی

چند اینٹوں کانام گھر تو نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 142
زندگی حسن بام و در تو نہیں
چند اینٹوں کانام گھر تو نہیں
سر رہ حال پوچھنے والے
دل کی ہر بات مختصر تو نہیں
کیا کسی پر یقیں کریں باقیؔ
بے سہارا ہیں بے خبر تو نہیں
باقی صدیقی

تاروں کو روند کر بھی سحر مطمئن نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 141
چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں
تاروں کو روند کر بھی سحر مطمئن نہیں
ہونٹوں سے آہیں چھیننے والے ادھر تو دیکھ
ہم چپ تو ہو گئے ہیں مگر مطمئن نہیں
روداد غم ہے اب نئے عنواں کی فکر میں
آنسو بہا کے دیدہ تر مطمئن نہیں
غم رفتہ رفتہ بڑھتے گئے زندگی کے ساتھ
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں
روز ایک تازہ حادثہ لائے کہاں سے زیست
مانا کہ دور شام و سحر مطمئن نہیں
کس کاروان شوق کا باقیؔ ہے انتظار
کیوں زندگی کی راہگزر مطمئن نہیں
باقیؔ عجیب روگ ہے یہ رنگ و بو کی پیاس
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں
باقی صدیقی

شعلہ صرصر ہے کہ صبا معلوم نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 140
گل کے پردے میں ہے کیا معلوم نہیں
شعلہ صرصر ہے کہ صبا معلوم نہیں
کس کا ہاتھ ہے کس مہرے پہ کیا جانیں
کون اور کیسی چال چلا معلوم نہیں
ہم نے خون میں لت پت گلشن دیکھا ہے
کس جانب سے شور اٹھا معلوم نہیں
ہم ہیں اور اندھیری رات کا ہنگامہ
کس کا کس پر وار پڑا معلوم نہیں
جانے کیا مستی میں اس نے بات کہی
نشے میں کیا ہم نے سنا معلوم نہیں
لحظہ لحظہ دوری بڑھتی جاتی ہے
کل کا انساں کیا ہو گا معلوم نہیں
ہر چہرے کے پیچھے کتنے چہرے ہیں
کون ہمیں کس وقت ملا معلوم نہیں
قدموں کی آہٹ پر کان رہے اپنے
کون آیا اور کون گیا معلوم نہیں
ہوش آیا تو تاریکی میں تھے باقیؔ
کتنی دیر چراغ جلا معلوم نہیں
باقی صدیقی

کون بچھڑا تھا وہاں یاد نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 139
چشمک ہم سفراں یاد نہیں
کون بچھڑا تھا وہاں یاد نہیں
دل شوریدہ سے الجھا تھا کوئی
تم تھے یا درد جہاں یاد نہیں
ہم تھے شاکی کہ جہاں تھا شاکی
کون تھا کس پہ گراں یاد نہیں
زندگی چال نہ چل جائے کہیں
کوئی بھی اپنا نشاں یاد نہیں
ہم کہاں ہیں کہ ہمیں اب کچھ بھی
جز حدیث دگراں یاد نہیں
آگ گلشن میں لگی تھی باقیؔ
فصل گل تھی کہ خزاں یاد نہیں
باقی صدیقی

ہم ابھی مرنے کو تیار نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 138
زندگی اتنی گراں بار نہیں
ہم ابھی مرنے کو تیار نہیں
لالہ و گل کی تمنا کیسی
ایک کانٹے کے روادار نہیں
بزم ہستی میں ہے ہو کا عالم
کوئی منصور سردار نہیں
راہ میں اور بھی دیواریں ہیں
ایک حالات کی دیوار نہیں
سب ہوس کے ہیں تقاضے باقیؔ
ورنہ گلشن میں کوئی خار نہیں
باقی صدیقی

کون اے دوست باریاب نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 137
میکشوں میں وہ اضطراب نہیں
کون اے دوست باریاب نہیں
بار دنیا نہ اٹھ سکا تو کیا
زندگی میرا انتخاب نہیں
دل کی تسکیں بھی چاہتا ہوں میں
میرا مقصد فقط جواب نہیں
اک نہ اک چیز کی کمی ہی رہی
کبھی ساغر کبھی شراب نہیں
دل کو کیونکر فریب دیں باقیؔ
غم حقیقت ہے کوئی خواب نہیں
باقی صدیقی

ہے چیز کون سی جو تیرا شاہکار نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 136
یہ گل نہیں یہ شگوفے نہیں یہ خار نہیں
ہے چیز کون سی جو تیرا شاہکار نہیں
خیال تیری طرف ہو تو غم بھی بار نہیں
یہ کیا گلہ ہے کہ ماحول سازگار نہیں
چمن کو دیکھ کے دیکھو بنانے والے کو
مقام فکر بھی ہے صرف یہ بہار نہیں
تری نگاہ کرم کی امید ہے ورنہ
میرے گناہوں کا یا رب کوئی شمار نہیں
زمانہ راز ہے تو راز ہی رہے باقیؔ
اسی میں اپنا بھرم ہے کہ آشکار نہیں
باقی صدیقی

تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 135
دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں
تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں
مٹ گیا ہے دل سے کیا تیرا خیال
اتنا دنیا کو کبھی چاہا نہیں
اس طرح محفل یہ ہے اس کی نظر
سب ہیں تنہا اور کوئی تنہا نہیں
سوچ کر کیا بات آ بیٹھے ہو تم
ان درختوں کا کوئی سایہ نہیں
دھوپ کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں لوگ
کوئی اپنے سامنے آتا نہیں
بات مظلوموں پہ آخر آئے گی
الٹے رُخ دریا کبھی بہتا نہیں
دیکھتا ہوں اس طرح ہر ایک کو
آدمی بھی آدمی گویا نہیں
یہ بھی تو پہلو ہے اک حالات کا
لوگ جو کہتے ہیں وہ ہوتا نہیں
آج باقیؔ کیا ہوا کو ہو گیا
دور تک پتا کوئی ہلتا نہیں
باقی صدیقی

انداز جہان گزراں دیکھ رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 134
اخلاص کو مجبور فغاں دیکھ رہے ہیں
انداز جہان گزراں دیکھ رہے ہیں
ہم زیست کی راہوں میں دئیے غم کے جلا کر
گزرے ہوئے لمحوں کے نشاں دیکھ رہے ہیں
کیا جرات بے باک ہے یہ دل، یہ محبت
قطرے میں سمندر کو نہاں دیکھ رہے ہیں
کیا دور سے اک ساغر گل رنگ دکھا کر
وہ کش مکش بادہ کشاں دیکھ رہے ہیں
حالات نے اس طرح جکڑ رکھا ہے باقیؔ
جو کچھ بھی دکھاتا ہے جہاں دیکھ رہے ہیں
باقی صدیقی

جینے کے لئے ترس رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 133
ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں
جینے کے لئے ترس رہے ہیں
گلشن میں انہیں بھی ہم نہیں یاد
جو ساتھ قفس قفس رہے ہیں
آئی ترے قہقہوں کی آواز
یہ پھول کہاں برس رہے ہیں
کس رنگ میں زندگی کو ڈھالیں
ہر رنگ مں ی آپ بس رہے ہیں
ہم سے بھی زمانہ آشنا ہے
ہم بھی ترے ہم نفس رہے ہیں
شبنم کی طرح اڑے ہیں باقیؔ
بادل کی طرح برس رہے ہیں
باقی صدیقی

کس کے لئے ترس رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 132
ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں
جینے کے لئے ترس رہے ہیں
گلشن میں انہیں بھی ہم نہیں یاد
جو ساتھ قفس قفس رہے ہیں
آئی ترے قہقہوں کی آواز
یہ پھول کہاں برس رہے ہیں
کس رنگ میں زندگی کو ڈھالیں
ہر رنگ مں ی آپ بس رہے ہیں
ہم سے بھی زمانہ آشنا ہے
ہم بھی ترے ہم نفس رہے ہیں
شبنم کی طرح اڑے ہیں باقیؔ
بادل کی طرح برس رہے ہیں
باقی صدیقی

بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 131
اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں
آداب چمن بھی سیکھ لیں گے
زنداں سے ابھی نکل رہے ہیں
پھولوں کو شرار کہنے والو
کانٹوں پہ بھی لوگ چل رہے ہیں
ہے جھوٹ کہ سچ کسے خبر ہے
سنتے ہیں کہ ہم سنبھل رہے ہیں
آرام کریں کہاں مسافر
سائے بھی شرر اگل رہے ہیں
حالات سے بے نیاز ہو کر
حالات کا رُخ بدل رہے ہیں
کہتے ہیں اسے نصیب باقیؔ
پانی سے چراغ جل رہے ہیں
باقی صدیقی

کس سے ہم آس لگا بیٹھے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 130
راہ میں شمع جلا بیٹھے ہیں
کس سے ہم آس لگا بیٹھے ہیں
رنگ محفل سے ہمیں کیا مطلب
جانے کیا سوچ کے آ بیٹھے ہیں
ختم ہوتی نہیں دل کی باتیں
اپنا قصہ تو سنا بیٹھے ہیں
کون سنتا ہے کسی کی آواز
ہم ابھی کر کے صدا بیٹھے ہیں
مسکرایا ہے زمانہ کیا کیا
کھا کے جب تیر وفا بیٹھے ہیں
خود کو دیکھا تو نہ پہچان سکے
ہم بھی کیا حال بنا بیٹھے ہیں
ابھی کچھ ملتے ہیں منزل کے سراغ
ابھی کچھ آبلہ پا بیٹھے ہیں
منزلوں رہ گئے پیچھے باقیؔ
وہ گھڑی راہ میں کیا بیٹھے ہیں
باقی صدیقی

اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 129
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹّھا دیتے ہیں
قافلہ آج کہاں ٹھہرے گا
کیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں
بعض اوقات ہوا کے جھونکے
لو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں
دل میں جب بات نہیں رہ سکتی
کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں
ایک دیوار اٹھانے کے لئے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
سوچتے ہیں سر ساحل باقیؔ
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں
باقی صدیقی

چل کے دو چار قدم دیکھتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 128
آپ ہیں دور کہ ہم دیکھتے ہیں
چل کے دو چار قدم دیکھتے ہیں
اپنی آواز پہ رحم آتا ہے
اس بلندی پہ ستم دیکھتے ہیں
ہم سفر کیسے کہ ہم مڑ مڑ کے
اپنے ہی نقش قدم دیکھتے ہیں
زلزلہ کوئی ادھر سے گزرا
تیری دیوار میں خم دیکھتے ہیں
قافلے شوق حرم سے گزرے
اوج پر بخت صنم دیکھتے ہیں
زندگی جنتی بلند اڑتی ہے
درد ہم اتنا ہی کم دیکھتے ہیں
جب کسی غم کا سوال آتا ہے
صورت اہل کرم دیکھتے ہیں
ریگ ساحل ہے مقدر اپنا
کیا ہر اک موج میں ہم دیکھتے ہیں
کتنا خوں اپنا جلا کر باقیؔ
صورت نان و درم دیکھتے ہیں
باقی صدیقی

خود سے ہم واسطہ کم رکھتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 127
جب سے دل میں ترا غم رکھتے ہیں
خود سے ہم واسطہ کم رکھتے ہیں
شک نہ کیجے مری خاموشی پر
لوگ سو طرح کے غم رکھتے ہیں
یوں بھی ملتی ہیں وہ نظریں جیسے
اک تعلق سا بہم رکھتے ہیں
کرتے پھرتے ہیں تمہاری باتیں
یوں بھی ہم اپنا بھرم رکھتے ہیں
ہم یہ کیجے نہ بھروسہ باقیؔ
ہم خیال اپنا بھی کم رکھتے ہیں
باقی صدیقی

بات اپنی پرائی کرتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 126
آپ سے آشنائی کرتے ہیں
بات اپنی پرائی کرتے ہیں
کر رہے ہیں کوئی خطا جیسے
اس طرح ہم بھلائی کرتے ہیں
جن پہ ہوتا ہے اعتبار وہی
وقت پر بے وفائی کرتے ہیں
راہ سے آشنا نہیں پھر بھی
حسرت رہنمائی کرتے ہیں
بھول جاتے ہیں خود کو بھی باقیؔ
لوگ جب ہمنوائی کرتے ہیں
باقی صدیقی

لے تری بزم سے ہم جاتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 125
پی کے تلخابۂ غم جاتے ہیں
لے تری بزم سے ہم جاتے ہیں
جب سے اٹھ آئے تری محفل سے
ہم کہیں اور بھی کم جاتے ہیں
جانے اس راہ میں کیا کھو آئے
روز کچھ ڈھونڈنے ہم جاتے ہیں
ان کے غصے کے نہ تیور بدلے
ورنہ طوفان بھی تھم جاتے ہیں
جب سے ٹوٹا ہے سفینہ باقیؔ
ساتھ ہر موج کے ہم جاتے ہیں
باقی صدیقی

حادثے کچھ پس دیوار بھی ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 124
صبح میں شام کے آثار بھی ہیں
حادثے کچھ پس دیوار بھی ہیں
راس آتی نہیں تنہائی بھی
اور ہر شخص سے بیزار بھی ہیں
آزمائش سے بھی جاں جاتی ہے
اور ہم تیرے طلب گار بھی ہیں
پہلے اک دل پہ نظر تھی باقیؔ
سامنے اب کئی بازار بھی ہیں
باقی صدیقی

کوئی دیکھے تو نظر آتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 123
اپنے زخموں میں چھپے جاتے ہیں
کوئی دیکھے تو نظر آتے ہیں
رنگ تصویر میں بھرنے والے
پس تصویر ہوئے جاتے ہیں
تیرے ارماں میں کہ اندوہ جہاں
دل میں کچھ سائے سے لہراتے ہیں
دھیان غربت کی طرف جاتا ہے
یاد ارباب وطن آتے ہیں
یہ غم دل، یہ شب تنہائی
سوچتے سوچتے سو جاتے ہیں
جب قدم رکھتے ہیں گھر میں باقیؔ
سینکڑوں حادثے یاد آتے ہیں
باقی صدیقی

زندگی کی ہنسی اڑاتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 122
بات پر اپنی ہم جب آتے ہیں
زندگی کی ہنسی اڑاتے ہیں
شب غم کا کوئی سوال نہیں
نیند آئے تو سو بھی جاتے ہیں
جانتے ہیں مآل غم پھر بھی
لوگ کیا کیا فریب کھاتے ہیں
راستہ بھولنا تو ہے اک بات
راہرو خود کو بھول جاتے ہیں
بات کو سوچتے نہیں باقیؔ
لوگ جب داستاں بناتے ہیں
باقی صدیقی

زمانے کی باتیں وہ کب مانتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 121
تمہاری نگاہیں جو پہچانتے ہیں
زمانے کی باتیں وہ کب مانتے ہیں
فریب تلاطم نہ دیں ناخدا اب
سفینے کناروں کو پہچانتے ہیں
زمانے کی چالیں زمانہ ہی سمجھے
نہ تم جانتے ہو نہ ہم جانتے ہیں
تعارف کی کوئی ضرورت نہیں ہے
دوانے دوانوں کو پہچانتے ہیں
کرو ضبط غم کی نہ تلقین باقیؔ
جو ہم پر گزرتی ہے ہم جانتے ہیں
باقی صدیقی

گلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 120
کیا ذروں کا جوش صبا نے چھین لیا
گلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں
دنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرے
ہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں
دل ناداں ہے شاید راہ پہ آ جائے
تم بھی سمجھاؤ ہم بھی سمجھاتے ہیں
تم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہو
ہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں
بیٹھ کے روئیں کس کو فرصت ہے باقیؔ
بولے بسرے قصے تو یاد آتے ہیں
باقی صدیقی

انے نقش کف پا کیا دیکھیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 119
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
رونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیں
زیست کو زیست نما کیا دیکھیں
زخم آواز ہی آئینہ ہے
صورت نغمہ سرا کیا دیکھیں
قہر دریا کا تقاضا معلوم
ہم حبابوں کے سوا کیا دیکھیں
سانس کلیوں کا رکا جاتا ہے
شوخی موج صبا کیا دیکھیں
دل ہے دیوار، نظر ہے پردہ
دیکھنے والے بھلا کیا دیکھیں
ایک عالم ہے غبار آلودہ
جانے والے کی ادا کیا دیکھیں
زندگی بھاگ رہی ہے باقیؔ
شوق کو آبلہ پا کیا دیکھیں
باقی صدیقی

درد دل مانگ کے پھر کیا مانگیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 118
موج ہاتھ آئے تو دریا مانگیں
درد دل مانگ کے پھر کیا مانگیں
کیا ملا انجمن آرائی سے
کیسے تنہائی سے رستہ مانگیں
دست کوتاہ نہیں دست طلب
مانگنے والوں سے ہم کیا مانگیں
دل کو غم ہائے جہاں سے فرصت
تجھ سے کیا تیری تمنا مانگیں
کس قدر تاب نظر ہے کس کو
کس لئے دیدہ بینا مانگیں
شہر کا شہر کڑی دھوپ میں ہے
کس کی دیوار سے سایہ مانگیں
کبھی قطرے کو بحسرت دیکھیں
کبھی دریا سے نہ قطرہ مانگیں
کبھی اک ذرے میں گم ہو جائیں
کبھی ہم وسعت صحرا مانگیں
تاب نظارا نہیں ہے باقیؔ
پھر بھی ہم طرفہ تماشا مانگیں
باقی صدیقی

ہنس پڑی دیکھ کر بہار ہمیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 117
تھا میسر نہ ایک تار ہمیں
ہنس پڑی دیکھ کر بہار ہمیں
اتنا خود پر بھی اعتبار نہیں
جتنا تجھ پر ہے اعتبار ہمیں
اب محبت کا یہ تقاضا ہے
کاکلوں کی طرح سنوار ہمیں
زخم دل دیکھ کر خیال آیا
تجھ پہ کتنا تھا اعتبار ہمیں
تیری نظروں پہ حرف آتا ہے
ورنہ دل پر ہے اختیار ہمیں
غیر سے اس طرح ملے جیسے
مل گیا کوئی غمگسار ہمیں
دلِ پُر درد کا تقاضا ہے
دوستوں کی طرح پکار ہمیں
بارہا وقت نے دئیے باقیؔ
پھول کے رنگ میں شرار ہمیں
باقی صدیقی

دشت کیسا پڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 116
وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
دشت کیسا پڑا ہے رستے میں
آپ کا غم ہو یا زمانے کا
کوس جو ہے کڑا ہے رستے میں
سنگ ریزوں کو دیکھنے والو
دل سا ہیرا پڑا ہے رستے میں
کوئی کانٹا ہے یا کوئی گل ہے
دل کا دامن اڑا ہے رستے میں
اس طرح چپ کھڑے ہیں ہم جیسے
ایک پتھر گڑا ہے رستے میں
دل اگر بجھ گیا تو پھر باقیؔ
ایک کانٹا بڑا ہے رستے میں
باقی صدیقی

اب کھٹکتی ہے نظر آنکھوں میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 115
کر لیا آپ نے گھر آنکھوں میں
اب کھٹکتی ہے نظر آنکھوں میں
خواب بن بن کے بکھرتا ہے جہاں
شام سے تابہ سحر آنکھوں میں
صبح کی فکر میں رہنے والے
رات کرتے ہیں بسر آنکھوں میں
کھل گیا راز گلستاں دل پر
چبھ رہے ہیں گل تر آنکھوں میں
روز اک طرفہ تماشا بن کر
وقت کرتا ہے سفر آنکھوں میں
بات چھیڑی تو ہے ان کی باقیؔ
آ گئے اشک اگر آنکھوں میں
باقی صدیقی

اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 114
خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں
نظر نظر سے نکلتی ہیں درد کی ٹیسیں
قدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں
ہرایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہے
ابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں
غموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہے
کہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں
ابھی ہے گوش بر آواز گھر کا سناٹا
ابھی کشش ہے بڑی دور کی صداؤں میں
چلے تو ہیں کسی آہٹ کا آسرا لے کر
بھٹک نہ جائیں کہیں اجنبی فضاؤں میں
دھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقیؔ
کہ آگ شہر کی اب آ گئی ہے گاؤں میں
باقی صدیقی

جانے کیا مصلحت ہے جینے میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 113
دل ٹھہرتا نہیں ہے سینے میں
جانے کیا مصلحت ہے جینے میں
یہ تمنا، یہ دل معاذاﷲ
آبگینہ ہے آبگینے میں
زخم پر زخم کھائے جاتے ہیں
کس کا دل ہے ہمارے سینے میں
زندگی نے ہزار حجت کی
خون کا ایک گھونٹ پینے میں
موج طوفاں کو دیکھ کر باقیؔ
ناخدا چھپ گیا سفینے میں
باقی صدیقی

یرے دشمن رہیں میرے دل میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 112
کیا ہے اس اجڑی ہوئی منزل میں
میرے دشمن رہیں میرے دل میں
وہم آنے لگے کیا کیا دل میں
رک گیا قافلہ کس منزل میں
سوچتا کچھ ہے تو کرتا کچھ ہے
آدمی ہوتا ہے جب مشکل میں
موج جو آتی ہے لٹ جاتی ہے
کون سی بات نہیں ساحل میں
جانے کیا دل کو ہوا ہے باقیؔ
جی نہیں لگتا کسی محفل میں
باقی صدیقی

کون سے مہرباں کی بات کریں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 111
آپ کی یا جہاں کی بات کریں
کون سے مہرباں کی بات کریں
حسن خوش ہے نہ عشق آسودہ
کیا ترے آستاں کی بات کریں
ہو چکیں اس جہان کی باتیں
اب کوئی اس جہاں کی بات کریں
زندگی نام ہے بہاروں کا
گل نہیں گلستاں کی بات کریں
سب کو ساحل کا پاس ہے باقیؔ
کس سے موج رواں کی بات کریں
باقی صدیقی

تم بھی ذرا زلفوں کو سنوارو ہم بھی ذرا آرام کریں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 110
سورج ڈوب رہا ہے آؤ طوف بادہ و جام کریں
تم بھی ذرا زلفوں کو سنوارو ہم بھی ذرا آرام کریں
کس کا وعدہ کیسی تمنا، اٹھ اے دل آرام کریں
ان کو بات کا پاس نہیں تو ہم کیوں نیند حرام کریں
محفل ہستی کے سازوں پر کیوں خاموشی طاری ہے
آؤ کوئی نغمہ چھیڑیں، لاؤ کوئی کام کریں
ایک سے ایک ملا ہے بڑھ کر جس کے بھی نزدیک گئے
کس کس سے ہم الجھیں باقیؔ کس کس کو بدنام کریں
باقی صدیقی