admin کی تمام پوسٹیں

پیاسوں کے لئے ایک نظم

ہم وارث تختِ تمنا کے

ٹھہرے منظرکے سائے سے کب نکلیں گے

دُکھ کی دیروز سرائے سے کب نکلیں گے

ہم آب سراب کے دریا کو

دریا، کیسے تسلیم کریں

اے دل والو!

کچھ چھینٹے شوقِ تغیر کے ہم پر ڈالو

دھڑ پتھر کے متحرک ہوں

ہم وارث تختِ تمنا کے

سانسوں کی حبس حویلی میں، جینا اپنا معمول کریں

آتہمتِ کفر قبول کریں

آبرسیں ٹوٹ کے آنکھوں سے

مرجھائے وقت کی ظلمت کو، سیراب کریں

پھر نشوونما کا شجر اُگے

اِمکان کے فردا زاروں میں

پھر موسم کے میخانے کا در کھل جائے

میخواروں پر، دروازہءِمنظر کھل جائے

پھر عرش، زمیں کی باہوں میں

باہیں ڈالے

اس بستی کی، دہلیز پہ آکر رقص کرے

ہر لمحے کی پھلواری میں

طاؤسِ تغیّر رقص کرے

آفتاب اقبال شمیم

دھوپ ندی کا مانجھی

دھوپ کی مغویہ اور وہ

شعر کی کنجِ روشن میں سرگوشیاں کر رہے تھے

کہ پکڑے گئے

ظلمتوں کے کماں دار مقتل کی جانب

لئے جا رہے ہیں انہیں

ایک ہُو کی صدا آبنوسوں سے اٹھتی ہوئی

سُن ذرا دستکیں بستیوں میں

جہاں گیر پیغام کی

دیکھ! اس دار پر

چند چھینوں کی شہ سرخیاں

اور خبریں کنشت و کلیسا کی دیوار پر

کوہِ زندہ سے گرتے ہوئے پیڑ کی

دیکھ!

برگِ خزاں بر د ٹہنی پہ پھر سے نمودار ہوتا ہوا

ہر دریچے میں

آنکھوں کی کلیاں سلاخوں پہ چٹکی ہوئی

عکس سے عکس بنتے ہوئے

جیسے جشنِ چراغاں سرِ آب جُو۔۔۔۔

بارشِ اشک سے خشک جنگل میں ہریالیوں کی نمو

آفتاب اقبال شمیم

پیاس ادھورے لمحے کی

عمر۔۔۔۔ ادھورا لمحہ وقت کی کایا کا

پیاسی سہ پہروں سے آگے

رات کی رُت میں

سپنے کی بہتی ندی کی مدھم سی آواز سنائی دیتی ہے

اور میں سرگوشی میں اس سے کہتا ہوں

جانِ من!

یہ جنموں کی وہ بستی ہے

جس کے سبز علاقے میں ہم دونوں کا سنجوگ ہوا

اور جہاں رنگوں، خوشبوؤں کے اُس گزرے موسم میں

یادوں کا اک آنگن ہے۔۔۔۔

جس کے پیچھے کے کمرے میں

نقب لگا کر

مجھ کو خود معلوم نہیں کیا چیز چُرانے جاتا ہوں

برسوں کے روزن سے آتے

نم آلود اجالے میں

چیزوں کی بدلی بوسیدہ شکلوں کو

اُلٹ پلٹ کر تکتا ہوں

اور اندھیری گونج کی لمبی راہداری سے

ہاتھ کا خالی کاسہ تھامے

لوٹ آتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

اُس سے دو ملاقاتیں

جان کے امبر پہ ساون خواہشیں اُمڈی ہوئی

اور آنکھوں کی خیاباں میں

مہکتی روشنی

پوششِ گل میں کسی ندی پہ تکتا ہوں تجھے

اک لپکتا عکس۔۔۔۔ آئینے کے اندر مضطرب

ایک منظر کا سنہراپن۔۔۔۔ ہرے جنگل میں آوازِ سحر کے شور سے

دیکھتا ہوں۔۔۔۔ تُو دہکتی سانس کی سچائیوں سے

مجھ کو مجھ سے آشنا کرتی ہوئی

جنگلوں کی راج دھانی میں سوئمبر جان کی پہچان کا

اور اب۔۔۔۔

دیکھتا ہوں شہر کی اونچی فصیلوں کی اُترتی دھوپ میں

رسم کے ملبوس میں لپٹا ہوا تیرا بدن

مجھ سے میری دوریوں کے کرب سے ناآشنا

دیکھتا ہوں۔۔۔۔ تیرا پیکر

سرمئی سی شام کے اسرار سے رنگِ شفق کی دلبری

چھِنتی ہوئی

اور تو اس جھٹپٹے کی شاہزادی

خوبصورت۔۔۔۔ نیم دیدہ خواب کی مانند

لگتی ہے مجھے

آفتاب اقبال شمیم

منکر کا خوف

پرانا پاسباں ظِلّ الٰہی کا

جسے چاہے، کرے نصب عطا عالم پناہی کا

اُسے ترکیب آتی ہے

کسی مضمونِ کہنہ کو نیا عنوان دینے کی

وہ دیدہ ور ہمیشہ سے معین ہے

ہمارے راستے کے پست و بالا پر

وہ دانا اپنے منصوبے بناتا ہے

ہماری فطرتوں کی خاکِ ظلمت سے

ہماری خواہشِ تکرار کی دیرینہ عادت سے

وہ معبد ساز، بت گر اپنی ہستی کے تقدس میں

سدا محفوظ رکھتا ہے

ہمارے گھر کو تحقیق و تجسّس کی بلاؤں سے

کہیں اوہام کی عمدہ شبہیوں میں

ثقافت کے نگارستاں سجاتا ہے۔۔۔۔

کہیں خوش فہمیوں کے استعارے سے

ہرے لفظوں کے باغیچے کھلاتا ہے

کہیں نوکِ سناں کے اسم و افسوں سے

لہو کی بند میں تسلیم کی کرنیں جگاتا ہے

قلوب اہلِ زمیں کے اس کی مٹھی میں دھڑکتے ہیں

شعور اس کا سدا مامور رہتا ہے

ہمیں، اچھے بُرے کے فلسفے کی آڑ میں

ہم سے چھپانے پر

مگر اس کا مداوا کیا

کہ وہ پروردگارِ زور و حکمت اپنی نیندوں میں

ہمیشہ سے

وجودِ فرد میں اک مضطرب سی شے سے ڈرتا ہے

وہ شے۔۔۔۔ جس کی حقیقت

وقت کا اِبلیس اُس پر فاش کرتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

گلی

یہاں پر روشنی

ہر روز مقدارِ مقرر میں اترتی ہے

یہاں پر زندگی کو نالیوں کے فحش پانی کی نمی

سیراب کرتی ہے

دھوئیں کے شامیانے میں

یہاں لڑکے غروبِ شام سے ہی کرنے لگتے ہیں

تھکن کی دھول میں تیاریاں سپنوں کے میلوں کی۔۔۔۔

ابھی چلتے ہوئے ہو گا

اُسے احساس سانسوں کے ذرا سے گرم ہونے کا

کسی در پر لٹکتے ٹاٹ کے اُدھڑے کنارے پر

گلابی انگلیوں کا پھول مہکے گا

سکینہ مسکرائے گی

فضائے دل میں جینے کی تمنا گنگنائے گی۔۔۔۔

ابھی دہلیز تک آکر

اُسے ماں اپنی ناداری

کے عالم میں دعا دے گی

وہ گھر سے رِزق کے کھلیان کی جانب

ہوا میں تیرتا۔۔۔۔ ہرےالیاں چُننے نکل جائے گا

ڈھلتی دھوپ کے آنگن میں آکر

مژدہءِفردا سنائے گا

سنو ماں! سبز خوشحالی کا موسم آنے والا ہے۔۔۔

یہاں خشتِ شکستہ کی کسی دہلیز پر بیٹھے

وہ ہم عمروں کی سنگت میں

سناتا اور سنتا ہے

کہانا اُس دلاور شاہزادے کی

جو دیوِ جبر کو تسخیر کرتا ہے

یہاں وہ بچپنے سے نیم عمری تک

ہزیمت کے سفر میں

رفتہ رفتہ یہ گلی اپنے بدن کی خاک میں تعمیر کرتا ہے

اچانک خواب سے اٹھ کر

وہ اپنے خوں میں پلتی زرد بیزاری میں کہتا ہے

میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔

آفتاب اقبال شمیم

اے وطن!

اے وطن!

کوئی کیوں مجھ پہ تیری ثنا،

تیری توصیف کی شرط عائد کرے

جبکہ میری محبت کی خاموشیاں

لفظ کے شور سے معتبر

میرے سینے کے معبدمیں تیرے تقدس کی گلنار

شمعیں جلائے رکھیں

عطر سا کنجِ دل میں اڑائے رکھیں

میں کہ پیکر ہوں تیری ہی مٹی کی تخلیق کا

تیری مہکار کو ہر مسامِ بدن میں چھپائے ہوئے

فخر کرتا ہوں خود پر کہ میں

زندگی کی سفارت میں تیرا نمائندہ ہوں

اور تیری ہی تائید سے زندہ ہوں

تیری ”تو” میری ”میں” ۔۔۔۔۔۔ ایک باطن کے دو روپ ہیں

اے وطن!

میں تری خاک کی سرفرازی کے اِقرار میں

سر اٹھائے رکھوں

اور میرا یہ انداز ہی ہے قصیدہ ترا

اے وطن!

گونجتا ہے مرے خواب میں نغمہءِناشنیدہ ترا

میری ناداریوں پر

ترا منظرِخلد کھلتا نہیں

گنجِ بخشش پہ بیٹھے ہوئے اژدہوں کی شررر بار پھنکار سے

ترے فرزند جھلسے ہوئے

تیری اولاد صدیوں سے اجڑی ہوئی

استقامت سے امید کے رزق پر جی رہی ہے

کہ تو۔۔۔۔ ایک دن

پست و بالا کی تفریق سے ماورا

ایک سی روشنی۔۔۔۔ مثلِ خورشید۔۔۔۔ تقسیم کرتا نظر آئے گا

سارے پیڑوں پہ ہریالیوں کا ثمر آئے گا

اے وطن! اے وطن!

آفتاب اقبال شمیم

بنتِ براہیم (صعنا کی نذر)

تجھے جاناں!

معطر آنسوؤں کی اوٹ سے آنکھوں نے دیکھا

تُو۔۔۔۔ عروسِ آسماں

اپنے جواں جذبے کے سادہ سے بلاوے پر

شفق کی قِرمزی پوشاک پہنے

گیسوےں میں شام کی چنبیلیاں گوندھے ہوئے

اِقرار کے معبد سے نکلی تھی

قبولِ عشق کا سجدہ ادا کر کے

عجب منظر تھا رونق کا

زمیں نے ان گنت طائر اُڑائے روشنی کے

تیرے رستے میں

چھنا چھن۔۔۔۔ منتشر ہوتی ہوئی خوشبو نے ہر ہر سُو

لُٹائی نقرئی خیرات سپنوں کی

نمو کا شوق جاگا سرمئی مٹی کے سینے میں

کیا طے زندگی سے زندگی تک کا سفر اک جست میں

بخشش کے لمحے نے

شگفت ایسی ہوئی تاریکیوں میں دُور تک اُڑتے شرارے کی

دِل شب میں

اندھیرے کے چٹخنے کی صدا آئی

دھڑکتے بولتے رنگوں نے ہر خیمے میں جا جا کر

منادی کی

اُسے دیکھو!

اشاروں میں بلاتی ہے تمہیں بامِ بلندی سے

تمہیں جو عشق کے میلے میں آئے ہو!

اُسے دیکھو!

ذرا سی خاک

کیسے خوبصورت منظروں کے گلستاں تخلیق کرتی ہے

فنا ہو کر

بقا کی داستاں تخلیق کرتی ہے

آفتاب اقبال شمیم

آس پیاس

آخر تم نے

میرے لیکھ میں میرے بھید کا مجھ پر ایسے

کم کم کھلنا کیوں لکھا تھا!

کیسے دن تھے

خواب میں اپنی تخت نشینی کا منظر جب دیکھا تھا

دودھ کا امرت، پیار کا بوسہ

خوشبو کے کیسے جھونکے تھے، جن کے لمس سے لمس ملا کر

دھوپ میں شعلے کی کیفیت جاگی تھی

اور مجھے چاروں جانب کے آئینوں کی دنیا میں

تنہائی کا، کثرت کا دلچسپ تماشا

خود ہی منظر خود ہی ناظر بن کر اپنے راج نگر میں

تکنا تھا

اپنے آپ کو میں نے دیکھا سپنے کے سنگھاسن سے

دن کی ہولی کے میلے میں

تصویروں پر تصویروں کے رنگ گرانے والوں میں

اور اِسی میلے میں پھر ڈھلتی دوپہر کے رستے پر

میں نے اپنے آپ کو دیکھا

بھِیڑ کے اندر تنہائی کی راکھ اُڑانے والوں میں

کیسے دن ہیں۔۔۔۔ اونچائی سے

میرے نام پہ میری آس کا ساون دھارا

اوک میں چھینٹے چھوڑ گیا ہے

اور میں خود سے سرگوشی میں کہتا ہوں

پیارے یہ دن دوبارہ بھی آئے گا

تو نے یہ منظر آنے سے پہلے بھی تو دیکھاتھا

آفتاب اقبال شمیم

ہم (٢)

یہ زمیں، یہ سمندر، یہ کہسار، یہ آسماں

اور ہم ایک ہیں

برگ و گل، شاخ و طائر، زمان و مکاں

اور لوح و قلم ایک ہیں

اے اندھیرے میں سوئے ہوئے فاتحو!

شرمساری سے ہم سرجھکائے کھڑے ہیں، ہمیں

آ کے لوٹاؤ

اتلاف کی تیغ سے ساری لُوٹی ہوئی بستیاں

سارے مارے ہوئے نوجواں

اورجن شاعروں نے تمہارے قصیدے لکھے

ان سے آ کر کہو

اپنی توقیر کی خلعتیں پھینک دیں

دل کی پس ماندگی کے نوشتوں پہ اپنی ملامت کریں

کون کس سے بڑا ہے۔۔۔۔ کہو!

برتری کی روایت یہاں کمتروں نے رکھی

وہ جو فطرت کی آواز سے منحرف ہو گئے

ساعدِ خاک کو بے حنا کر کے

بدصورتی سے بیاہے گئے۔۔۔۔

زندگی آسمانوں کی جانب لپکتی ہوئی

روشنی کے سفر میں

ستارے، مہ و مہر، سیرِ زمیں پہ ہمیشہ سے نکلے ہوئے

ایک قرطاس پر ایک تصویر پھیلی ہوئی

اور تم۔۔۔۔ فرق و تفریق کے پیشواؤں کی تقلید میں

تنگیوں کی کمندوں سے پھیلی ہوئی وسعتیں

صید کرنے پہ مامور ہو

دن کو شب اور پھر شب کو دن میں بدلتے ہوئے وقت سے

ایک لمحے کی عریانیاں مانگ کر

خود کو دیکھو کبھی

’’ہست‘‘ کے سارے رشتے تمہارے حوالے سے ہیں

اپنی طے کردہ سچائیوں کی نظربندیاں توڑ کر

رقص کرتے ستاروں کے نغمے سنو!

مہر کے زر سے کیسے تونگر ہوئی ہے زمیں

کس طرح مٹیوں کے بدن میں کرن ڈوب کر

آسماں کی نیازیں

کبھی رنگ و خوشبو، کبھی نخل و انساں، کبھی ناچ کے، گیت کے

روپ میں۔۔۔۔ بانٹتی ہے

کہو! کون کس سے بڑا ہے

کہو!

آفتاب اقبال شمیم

وہ اور میں

اُس کے دھیان میں ارمانوں کی جوت جگائے بیٹھا ہوں

وہ گوری تو ایسی ہے

جیسے دھوپ کے گلشن میں بہتی ندی کا نغمہ ہو

روشنیوں کی رِم جھم میں

اُس کا بھیگا بھیگا مکھڑا جب دیکھوں

اَن دیکھا ہی رہ جائے

بے تسخیر ہے جادو اس کی آنکھوں کا۔۔۔۔

وہ تو وہ ہے

اور مرے آدرش کے جیون مندر میں

دیکھوں تو مجھ جیسی ہے

میں اپنی پہچان کے بھیدی لمحے میں

اس سے پوچھوں

گوری! تم کیوں اپنے رنگ دکھا کر مجھ سے

اپنا انگ چراتی ہو؟

وہ مجھ کو سمجھائے لیکھ اشارے میں

تم مٹی کی کایا ہو

روپ سے روپ بدلتا، ڈھلتا سایا ہو

میں تو میں ہوں

کل کے آج میں، آج کے کل میں رہتی ہوں

جنم جنم سے اک اک پل میں رہتی ہوں

آفتاب اقبال شمیم

دُوری کے ا فق

آپ ملاپ کا سپنا تم نے دیکھا تھا؟

ہاں سائیں!

وہ میری انگلی تھامے آدرش کے برج دوارے پر

آتا تھا اپنے کل کی پرچھائیں میں

اور کسی اَن دیکھی شے کو دُور افق میں

تکتے تکتے کہتا تھا

دیکھو! چنگاری کا انت الاؤ ہے

موج کا ظرف بڑھے تو دریا ہو جائے

تم چاہو تو

سانس کا جھونکا تیز ہوا کا جنگل بھی بن سکتا ہے

دیکھو! تم سپنے کی جوت جگائے رکھنا اپنے دل کے مندر میں

سر سے سر کو اونچا کر کے اُس دانا سے

جو مانگو گے پاؤ گے۔۔۔۔

آپ ملاپ کی آشا کے اس عمروں لمبے رستے پر

آج میں خود سے پوچھ رہا ہوں

وہ جو بیچ شراروں کے

میں نے جذبوں کے موسم میں بوئے تھے

اُن سے راکھ کی فصلیں کیوں اُگ آئی ہیں؟

(ہاں سائیں!

روز کے سمجھوتوں کے بدلے

اتنا ہی تاوان ادا کرنا پڑتا ہے)

اور زیاں کے اِس حاصل سے

میں نے یاس کا جو آکاش بنایا ہے

اس کے نیچے، شام کے میلے میں دنیا کے سوداگر

مجھ سے آنکھ بچا کر کیسے

رنگ برنگے منظر اُس کی آنکھوں میں بھر جاتے ہیں

وہ۔۔۔۔ جس کی انگلی تھامے آدرش کے برج دوارے پر

آتا ہوں اپنے کل کی پرچھائیں میں

اور کسی اَن دیکھی شے کی جانب تک کر کہتا ہوں

دیکھو! چنگاری کا انت الاؤ ہے! ۔۔۔۔ خاکستر ہے!

آفتاب اقبال شمیم

خواب کی خالی مچان

چار دیواری میں گر گر کر شفق بجھتی ہوئی

دید بانوں سے لگی آنکھوں میں

ننگے خنجروں کے عکس تھرائے ہوئے

اور بے بازو جواں کے سامنے رکھی ہوئی

خالی کماں

مسکنِ تقدیر ۔ ۔ ۔ ۔ ایوانِ سفید

بھیجتا ہے زر نوشتہ حکم روہیلے کے نام

بے بسی کے قصر میں

نوجواں شہزادیوں کے جسم

خوفِ مرگ سے ڈھلکے ہوئے

اورآ نکھوں میں سلائی پھیرتا لمحہ

زوالِ روشنی لکھتا ہوا

سب نے اپنے دوش پر

رکھا ہوا ہے کپکپاتا ہاتھ کل کی آس کا

دےکھ! منظر یا س کا

کس طرح یہ بے ارادہ جرأتیں

طے کریں اک جست میں پس ماندگی کا فاصلہ!

آفتاب اقبال شمیم

مرحبا!

کشفِ منظر کا پیمبر

توڑتا ہے یاس کے آزر کے بُت

آنکھ بے وہم و گماں

دیکھتی ہے جابہ جا اِس وسعتِ شب میں

اُچکتی روشنی کے واقعے ہوتے ہوئے

ذائقے کی آبجو میں خواہشوں کی لہر اٹھتی ہے کہیں

اور اِس باغِ سماعت کی خزاں کے عہد میں

کوئی طائر گیت کے رنگیں پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سے

مہکتی آس کا پیغام دیتا ہے ہمیں

برتری کے تخت پر بیٹھے ہوئے زور آوروں کے سامنے

کوئی سرکش آتشِ بارود سے کر کے کشید

پھونک دیتا ہے سُروں میں اپنے جسم و جان کی سچائیاں

دیکھتی ہے ماریا مغرب کی ظلمت میں

طلوعِ خواب کی رعنائیاں

اور صنعا اپنے بالوں میں سجا کر

پُھول اُجلی دھوپ کے

تنگ گلیوں سے کھلے میدان کی جانب رواں

ڈالتی جاتی ہے مایوسی کے خالی دامنوں میں

مُٹھیاں بھر بھر کے جذبوں کی نیاز

اور ہم خوش ہیں کہ دو جنگوں کے جابر فاتحوں کے سامنے

سینہ سپر ہے زیر دستوں کی انّا

مرحبا!

آفتاب اقبال شمیم

منحنی کی ثنا

بہت سنجیدگی اچھی نہیں

یہ زندگی ایسی ہے۔۔۔۔ اِس پر مُسکرا لینا

شفا دیتا ہے زخموں کو

چلو کہہ لیں کہ سطحیں منحنی ہیں

نارسائی کی

ہمارے علم کی پیمائشوں میں بھید کے رقبے نہیں آتے

چلو کہہ لیں

کہ پیچیدہ مسائل پر بہت سنجیدہ ہو جانا

جنم لیتا ہے ظرفِ کم کشادہ سے

کسی دشوار ناہموار کے خوفِ زیادہ سے

ہمارا قہرِ بے بخشش، ہماری مہرِ بے پایاں

ہمیشہ آنسوؤں کے المیے تخلیق کرتے ہیں

مگر پھر معتدل ہونا بھی راس آتا نہیں

ذوقِ طبیعت کو

ارادہ زوردارِ غیب کے آگے نہیں چلتا

کبھی چیزیں بگڑتی ہیں بنانے سے

کبھی آلام بڑھتے ہیں گھٹانے سے

یہاں نزدیکیوں میں دوریاں ہیں

اور ہم الفاظ مضمونوں میں ملتا ہے نہایت فرق

معنی کا

سبھی چہرے مشابہ ہیں

مگر ان پر

جدا آنکھوں کے پرچم پھڑ پھڑاتے ہیں

پرانی دانشیں۔۔۔۔

گرتا ہوا پختہ ثمر مٹی کی جھولی میں

مسائل بھی نئے حل بھی نیا ہمراہ لاتے ہیں نئے انداز

جینے کے

یہاں اس کچھ سے کچھ ہوتی ہوئی دنیا کے فردا میں

جو ہو گا وہ نہیں ہو گا۔۔۔۔

کہ منطق ہے یہی ہونے نہ ہونے کی

تو پھر سنجیدگی اچھی نہیں

یہ زندگی ایسی ہے۔۔۔۔ کوئی کیا کرے

ہر چیز کو تسلیم نا تسلیم کرنے کے سوا

چارہ نہیں کوئی

آفتاب اقبال شمیم

دریا درویش!

وہ دریا درویش

کسی پربت کی پتھریلی کٹیا میں رہتا ہے

چاندیوں سے دُھلی ہوئی

وادی کی صبحیں

کافیاں گاتے پانی کی

شفاف روانی میں عکسوں کے گجرے پہنے

اُس بے پروا آواز کے دھیمے بھاری لہجے کی

محبوبی میں’

سدا سہاگن رہتی ہیں

میں اُس کو برسوں سے پیاس پرندے کے

پاؤں میں باندھ کے سندیسہ

بھجواتا ہوں

آ ! اِس ہجر کے موسم میں

لہروں کے چمکیلے چمٹے پر بھیگی مٹی کی

اُڑتی خوشبو کے نعمے سے

آس کنارے پر رہنے والوں کی دنیا کو

مہکاتا جا

آ!  تیرا آنا مژدہ ہے تیرے دائم آنے کا

تجھ کو لوٹ کے جاتے کس نے دیکھا ہے

آ! اِن اشکوں کی مقدار بہت کم ہے

اِن کے نم سے کیسے ہم

سورج مکھیوں کے مرجھائے کھیتوں کو سیراب کریں

آفتاب اقبال شمیم

جہلم کے کنارے اک شام

اے ملاحو!

اِن لہروں کی کتنی چاندی ساتھ سمیٹے

اپنی رات کی کٹیا میں لے جاتے ہو

اور تمہارے روز کنارے کی بدبوئیں سلوٹ سلوٹ کپڑوں میں

سپنوں کی البیلیاں کیسے دھوتی ہیں

گیلی تو پڑ جاتی ہو گی موتیے جیسی رنگت

ان کے ہاتھوں کی

زخمی ہو تو ہو جاتے ہوں گے سبک سنہرے پاؤں اُن کے

جیون دکھ کے گھاٹوں پر

سایہ سا

دیوار سے اپنی پشت لگائے

ہولے ہولے کھینچ رہا ہے دھوپ کا کانٹا

اپنے ننگے پاؤں سے

ہونٹوں پر اُجڑی خاموشی شور کے گزرے لمحے کی

ڈھلتی شام کی پیشانی پر

زرد چنبیلی کا گھاؤ

پھیکی پڑتی کرنوں کی پیلاہٹ کو پھیلاتا ہے

ایک ستارہ

نم آلودہ پلکوں پر’ گھمبیر اندھیرے کے چُپ کی ویرانی میں

تھرّاتا ہے

اے ملاحو!

آنکھ بھنور سے کتنی دُوری پر تم ناؤ کھیتے ہو

غفلت کی عمروں کے لمبے رستے پر

مٹی اور کنارے کے ٹھہراؤ جیسی

یاد بھی ہے کچھ

کتنی چاندنیاں اور دُھوپیں

زرد اُداسی کی فصلوں کے کھیت بنیںِ

کتنے پتھر ریت بنے

اِس پانی کی

اپنے بانسوں سے تم نے کتنی گہرائی ناپی ہے

دریا بھید ہے اس سے کیسے دکھ کا انت ملے

ایک کھنڈر

بے آہٹ گزری صدیوں کا

شام سویرے کے رستے میں پھیلا ہے

اند باہر کی دنیائیں

جیسے ہوں خالی پرچھائیاں آپس کی

اور کنارا بھی دھارا ہو اُلٹا بہتے دریا کا

لوک کہانی والے جس میں

مٹی کے پیکر لمحوں کے بہتے رہنے کا نظاّرا

اپنی آنکھ کے ناٹک گھر سے

تکتے ہوں

آفتاب اقبال شمیم

اے غیر فانی اجنبی!

اے غیر فانی اجنبی!

یہ زندگی، یہ خاکِ یکساں کی زمیں

تیرے لئے موزوں نہیں

تو نے فرازِ خواب سے دیکھا جسے

وہ یوں نہیں

کیا ہے تری میراث میں

کچھ چادرِ ایام کی بوسیدگی، کچھ بستیوں کی بیوگی

کچھ منظروں کی اوٹ میں اڑتی ہوئی

خوشبو گلِ نایاب کی

برجوں میں بجھتی روشنی

محرومیاں۔۔۔۔

ڈوبے ہوئے دن کا سماں۔۔۔۔

اُجڑا ہوا خیمہ جسے چھوڑ آئے پیچھے کارواں

اے غیر فانی اجنبی!

وہ زیرِ نخلاں درس گاہ دوستی

وہ غار جس میں روشنی

شاخِ بشارت پر کھلی

وہ چوب جس پر سُرخیاں اُبھریں نئے امکان کی

نغمہ نما آواز میں روئیدگی نروان کی

وہ زیر دستوں کے لئے منشور

اس روئے زمیں پر خلد کی تعمیر کا

لیکن یہ عادت خاک کی

ایجاد کر لینا بدل زنجیر کا

اے غیر فانی اجنبی!

کل بھی یہاں تو آئے گا

یہ خاکِ یکساں کی زمیں’ نیم آفریں

جلوہ تجھے دکھلائے گی بے انت کا

اس انت میں

کیسی شگفت اُس نام کی

پیغام کی

لکھے جسے دستِ زماں

مایا کے اڑتے رنگ میں

اے ہجر زادِ زندگی!

تیری تمنا کے افق ہیں بے زمیں’ بے آسماں

تیرے ہنر کی انگلیاں

جو لانی ء محدود سے شاید کبھی

پرچھائیوں کو باندھ لیں

لیکن نہیں

یہ خاکِ یکساں کی زمیں

تیری بقاء کی رازداں

اپنی انا تیری انا کے درمیاں

اک فاصلہ قائم رکھے

شاید تجھے یوں مضطرب دائم رکھے

آفتاب اقبال شمیم

ادھوری گونج گیتوں کی

اُداسی وسعتوں میں گا رہی ہے

اور میں خیمے میں بیٹھا ہوں

کسی بیتی ہوئی بستی کے دریا پر اترتی چاندنی کی

نیلمیں دھندلاہٹوں میں دیکھتا ہوں

اس کے چہرے کا کنول

اور سنتا ہوں

گئی رُت کے سنہرے پاؤں میں بجتی ہوئی

جھانجر کا، ہر لحظہ بدلتے سُر کا گیت

اور میرے پاس ہی سایہ مرا

گھٹنوں پہ سر رکھے ہوئے چپ چاپ،

چاکِ چشم سے لے کر تصّور کے افق تک

اس کی، ہلکے سرمئی رنگوں میں

تصویریں بناتا ہے

ادھوری گونج کے اس پیش منظر میں

زمینیں نارسائی کی

جہاں پر ساتھ چلتے چاند کو

آوارہ رکھتی ہیں نگاہیں آخرِ شب تک

جہاں پرانگلیاں لکھتی ہیں پھیلی ریت پر

اک حرف، نامعلوم سا

معدوم سا۔۔۔۔ آتی ہوا سے مہلتیں لے کر

محبت! اے محبت تو کہاں ہے

وقفہءِدائم ہمارے درمیاں ہے

اور میں افسوس کے قرطاس پر

لکھے ہوئے ضائع شدہ حرفوں کو اپنی

نوکِ ناخن سے کترتا ہوں

پھر اس گھاؤ میں

چشمِ آبدیدہ سے گزرتی روشنی کے رنگ بھرتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

اے ہمیشہ کے زندانیو!

اک جہاں گیر لمحے کی یلغار میں

راز کے سب حصاروں کو تسخیر کرتے ہوئے

اپنے دل میں اترتے ہوئے

پنجہءِدست سے نوچ لوں

وہ جڑیں جن سے اگتا ہے میری حدوں کا شجر

۔۔۔۔ منظرِکرب میں

آ ذرا دیکھ زنداں کی زنجیر کو حالتِ ضرب میں

سرمگیں آنکھ سے

غصہءِبے بسی کے شرارے نچڑتے ہوئے

اور آہن کے ہونٹوں پہ محشر بپا

جھنجھلائی ہوئی چیخ کا

اور پھر پوچھ خود سے کہ

پاؤں کی جولانیوں کی حدیں ہیں کہاں

۔۔۔۔۔۔ ان سلاخوں سے باہر ہرے پیڑ پر

کٹ کے گرتی پتنگوں کی چھوڑی ہوئی ڈور سے

ایک طائر کسی سایہءِشے کی مانند

لٹکا ہوا

۔۔۔۔ اور اس سے پرے

یہ شعاعِ نظر، آنکھ کی راہبر

سارے رنگوں کو مُٹھی میں بھینچے ہوئے

جانے کیا دیکھتی ہے دکھاتی ہے کیا

رُت کی پھلواریوں میں کہیں

خاک سے تادمِ گل، تمنا کے زندانیوں کا نفس

تارِ خوشبو کی مانند چلتا ہوا

۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے افق اور آگے افق

۔۔۔۔ اے ہمیشہ کے زندانیو!

چار دیواریاں

وسعتوں کے مدور علاقے کی

چوکور شکلیں ہیں کیا؟

یہ چھتیں آسمانوں کی نقلیں ہیں کیا؟

یہ نگاہ و تصوّر کی پرواز، آزادیوں کی ہوس

خاک کی خوش خیالی ہے کیا؟

۔۔۔۔ اے ہمیشہ کے زندانیو!

ضبط و تسلیم کی عادتیں ڈالنے کی دعا دو مجھے

کیا عجب اس طرح

اپنی شدت کو میں معتدل کر سکوں

یا

کسی دن جہاں گیر لمحے کی یلغار میں

خود کو ہر دل کے اسرار میں

منتقل کر سکوں

آفتاب اقبال شمیم

ایک پرانے ورق پر نئی تحریر

بہت دھوپ ہے

میرے آنگن کی مٹی۔۔۔۔ ہنسی اور شرارت کے چھونے سے

جیسے سنہری سی ہونے لگی ہے

مرے پاس رنگین ملبوس میں اک خوشی

جھلملاتی کرن کے بنائے ہوئے نقش

برگِ گلابی کے نزدیک ٹھہری ہوئی نرم خوشبو کی مانند

بیٹھی ہوئی ہے

اور گہرے مساموں میں گھلتا ہوا لمس

بے نام سی سنسی کا

ہرے نم سے آلودہ سانسوں میں جیسے

اُجالے کے چھلکے ہوئے جام کی جھاگ سی مل رہی ہو

کہیں کوئی آنسو پس چشم ٹھہرا ہوا

جس سے تقطیر ہو کر نظر

ایک قوسِ قزح سی رگِ جاں کے اندر بناتی ہوئی

پانیوں میں کنول سے کھلاتی ہوئی

اور میں اس سے کہتا ہوں

اے مہر لمحے کے مندر میں چھیڑی ہوئی راگنی!

اے گلابوں کے رستے سے آئی ہوئی روشنی!

اِس گھڑی کے جزیرے کے چاروں طرف

تجھ سے آگے بھی تو، تجھ سے پیچھے بھی تو

اور میں تیرے موجود کے عکس کا عکس دل میں لئے

روز کے رنگ میلے میں بھٹکا ہوا

دور سے دیکھتا ہوں تجھے

اور اب دیکھتے دیکھتے گلشنِ شام میں آگیا ہوں

جہاں ایک آوارہ لڑکے کی مٹھی سے اُڑتے ہوئے

شوخ جگنو کے پیچھے

نظر حیرتوں کے دھندلکے میں کھوئی ہوئی ہے

آفتاب اقبال شمیم

المیے کے فالتو کردار

اور وہ کیا المیے کے فالتو کردار تھے؟

شہر کی چوکوں میں

جن کا شوقِ وارفتہ لہو اور آگ کی تحریر میں

اپنی گواہی دے گیا

اور وہ۔۔۔۔۔۔

ٹکٹکی پر جن کے چمکیلے بدن داغے گئے

اور وہ۔۔۔۔۔۔

جو گیارہ پہر لمبی رات کی راہداریوں میں پابجولاں

اپنی گھٹتی عمر کی بڑھتی مسافت میں رہے

جن کے دل کی دھڑکنیں

ایام کی تسبیح پر وردِ وفا کرتی رہیں

اور وہ۔۔۔۔۔۔

دہشتِ زندان و مقتل کا سگِ مخبر جنہیں

سُونگھتا پھرتا رہا بستی کی ہر دہلیز پر

تھیں مقرر جن کے سر کی قیمتیں

اور وہ۔۔۔۔۔۔

اپنے پیاروں سے بچھڑ کر جو عجب افسوس کی

ہجرت سرائے میں رہے

شاہ گر کا ذہنِ حکمت ساز کہتا ہے یہی

یہ ہجومِ عاشقاں اب بے افادہ ہو چکا

قصر و قُوت تحفۂ تقدیر میں

بخت زادی سے کہا جائے

کہ وہ یکتائیوں کے شہ نشیں پر جلوہ افروزی کرے

اور وہ۔۔۔۔۔۔

شاہ گر۔۔۔۔ چہرہ بدلنے کے پرانے پیشہ ور

اپنے سحرِ حکمت و الفاظ سے

بخت زادی کے لئے ایسی کرشمہ سازیاں کرتے رہیں

اُس کے سر سے ہر بلا ٹلتی رہے

مملکت چلتی رہے

آفتاب اقبال شمیم

بے نام ہونے کی آرزو

کسی شجرے کی ٹہنی پر ہوئی ہے

لمحہءِحاضر کی ہریالی

ہوا نسیاں زدہ پچھلی خزاں کے رفتگاں کی

خاک پر رقصاں

خمیدہ ہو کے مُجرا پیش کرتی ہے

حضورِ برگِ تازہ میں

یہ عشوہ ساز واقف ہے پرانے باسیوں کی رسم و عاد ت سے

یہ بستی کیسی بستی ہے!

جہاں پر لوگ اچھے نام کی شیشم سے

دروازے، دریچے او دہلیزیں بناتے ہیں

یہی دو چار عشروں میں

جنہیں لمحوں کی دیمک چاٹ جاتی ہے

عجائب گاہ میں یہ اسمِ نامعلوم کس کا ہے!

جسے اسلوب کا ماہر

دعائے جستجو سے زندہ کرتا ہے

کسی قدرِ مروج کے حوالے سے یہی دو چار عشروں کے لئے

اس سے زیادہ کون جیتا ہے

تو پھر بہتر یہی ہو گا کہ دروازے کی مستک سے

ہم اپنے نام کی تختی اتروا دیں

آفتاب اقبال شمیم

ہجر زاد

میرے دکھ کا عہد طویل ہے

میرا نام لوحِ فراق پر ہے لکھا ہوا

میں جنم جنم سے کسی میں عکسِ مشابہت کی تلاش میں

پھرا اپنے خواب سراب ساتھ لئے ہوئے

گیا شہر شہر، نگر نگر

تھیں عجیب بستیاں راہ میں، میری جیت، میری شکست کی

کسی دوسرے کی صداقتیں۔۔۔۔ مری راہبر، مری رہزن

لئے ساتھ ساتھ، قدم قدم

کبھی پیشِ خلوتِ آئینہ،

کبھی صبح و شام کی خلقتوں کے جلوس میں،

کئی ظاہروں، کئی باطنوں کے بدلتے روپ میں منقسم مجھے کر گئیں

میں دھواں سا آتشِ اصل کا

اُڑا اور خود سے بچھڑ گیا

مجھے ہر قدم پہ لگا کہ میں

سفرا آزما ہوں۔۔۔۔ مگر مجھے مری سمت کی بھی خبر نہیں

میں حلیف اپنے غنیم کا

ہوں جہاں بھی راہِ زیاں میں ہوں

میں خیال پرورِ شوق، شہرِ مثال کا

مجھے ہر مقام پہ یوں لگا

کہ حقیقتوں کے سگانِ کوچہ نورد مجھ پہ جھپٹ پڑیں گے یہیں کہیں

مجھے دنیا دار پچھاڑ دیں گے مفاہمت کی زمیں پر

میرے ہاتھ بھیگے ہوئے صداؤں کے خوف سے

میری سانس لرزی ہوئی ہوا کی مچان پر

یہ فرار تھا۔۔۔۔

کہ انا کا سایہ و سائبان

لیا جس نے اپنے بچاؤ میں

میں رواں رہا کسی بے نمود سی روشنی کے بہاؤ میں

میرا پائے شوقِ سزا کہیں پہ رکا نہیں

یہ نشیبِ شام ہے اور میں ہوں رواں دواں

یہ نہیں کہ مجھ کو اماں ملے گی شبِ ابد کے پڑاؤ میں

ذرا انتظار۔۔۔۔ کہ جب وجود کا کوزہ گر مجھے پھر سے خاک بنا چکے

تو یہ دیکھنا

کہ شبیہہ شخصِ دگر میں لوٹ کے آؤں گا۔۔۔۔

اسی شہر میں

میرا نام لوحِ فراق پر ہے لکھا ہوا

میرے دکھ کا عہد طویل ہے

آفتاب اقبال شمیم

بناہل کا ایک منظر

۔۔۔۔ اور پرانے پربت پر

آتے جاتے سورج رُک کر تکتا ہے

اپنے اپنے خون میں تر دو بیلوں میں

بے انجام لڑائی یکساں ماتوں کی

طبلِ زمیں پر تھاپ۔۔۔۔ مسلسل تھاپ پڑے

غیب کے بھاری ہاتھوں کی

آنکھیں۔۔۔۔ ہر سو خفیہ آنکھیں

محوِ جشنِ تماشا ہیں

دم دم بولتے سنانے میں ہول کڑی دوپہروں کا

ہر پتے پر طاری ہے

اور ہمیشہ کی، ناوقت اڑانوں پر

دھوپ کے زرد بسیرے سے

اِس پربت کے

پیچھے بہتے دریا کی آواز کا پنچھی آتا ہے،

بکھراتا ہے

سبز نمی کا نعمہ ٹھہری وادی پر

لیکن مٹی کے اعصاب میں، شریانوں میں

بے انجام لڑائی پیہم جاری ہے

آفتاب اقبال شمیم

راج ہنس

پرندہ

دھوپ کے دو چار تنکے

نیم وا منقار میں تھامے ہوئے اترا ہے

خواہش کی بلندی سے

بدن میں کپکپاتے بادلوں کا سرمئی ہیجان پھیلا ہے

وہ اترا ہے

کسی بے نام ساحل پر

ہوا کی چند خود رو جھاڑیوں کے درمیاں اپنے نشیمن میں

(جہاں اُس کی اڑانیں ختم ہوتی ہیں)

سمندر سامنے ہے

اور آنکھوں کے سفینے میں پڑا ہے بادباں لپٹا ہوا

فردا کے سائے میں

وہی ٹھہری ہوئی تصویر کچھ بے صرفہ خوابوں کی

وہی اُس کی پرانی جستجو۔۔۔۔

تخلیق کے اوجِ مقدس سے

اُتر کر حسنِ خوابیدہ کے پہلو میں سحر تک ریت کے بستر پہ سونے کی

تمنا کے صدف میں روشنی کی پرورش کرتی ہوئی لہریں

اُسے ویرانیوں کے چاند کی دف پر

وصال و ہجر کے نغمے سناتی ہیں

سمندر سامنے ہے

اور اس اسرار کی تاریک وسعت میں

اسے کل اور پرسوں بھی

سفر کی قوس پر ایک دودھیا سے نقش کی مانند اُڑنا ہے

وہ کیا ہے؟

کیا خبر بے معنویت کے سفر کا استعارہ ہو

زمیں کی رات میں بھٹکا ہوا

کوئی ستارہ ہو

آفتاب اقبال شمیم

آشنا نا آشنا

دِن کے مکان میں

لائے کرن سفارتیں سورج کے شہر کی

در آئے تنگیوں میں دریچے کی آنکھ سے

وُسعت سپہر کی

نیرنگِ واقعات سے ہر سو بنی ہوئی

تصویر دہر کی

ہر گُل کی چشم وا

تکتی ہے ایک منظر ہم زاد چار سو

اڑتی ہے اوجِ شاخ سے ہریالیوں کی بو

لمحوں کے چنگ سے

پھوٹیں شرار نغمہ سرائے بہار کے

رُت کے چڑھاؤ میں

موہوم، بے نشان اشارے اتار کے

نادید کا نمو

حلقے میں گھومتی ہوئی گونجوں کی آب جو

آوازِ ہفت زاویہ موسم کے اسم کی

جیسے ہو یہ زمیں کوئی وادی طلسم کی

آنکھوں کے آس پاس

عیشِ رواں میں بہتی ہوئی ناؤ جسم کی

دلدادہءِحواس

تکتا ہے اپنی چشمِ تمنا کے روبرو

دلدارِ خوبرو

جس کے بدن میں اطلسِ دنیا کا لمس ہے

بیٹھا ہے جونمود کی اونچی نشست پر

جلوے کی شست پر

رنگوں کی دھوپ میں

پھیلی ہیں خوشبوئیں گلِ ثروت کے عطر کی

ایسی کشش میں خود کو سبک کر سکے تو کر

جینے کالطف لے

کس نے تجھے کہا ہے کہ محرومیوں پہ مر

اے ہفت آشنا!

اے آسماں نورد!

آوارہءِہوا، تری بلقیس کا محل

تقدیس کا محل

سچ کی بلندیوں کا کہیں خواب ہی نہ ہو

ایسے میں فیصلے کا کوئی اہتمام کر

آ خود کو عام کر

گہرے بدن کا عطر کیوں ملبوس میں رہے

رقصِ تمام کر

کیوں داغ رنگ کا پرِ طاؤس میں رہے

آفتاب اقبال شمیم

جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 42
اب وہ اگلا سا التفات نہیں
جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں
رنج كيا كيا ہیں ایك جان کے ساتھ
زندگی موت ہے حیات نہیں
کوئی دلسوز ہو تو کیجے بیاں
سرسری دل کی واردات نہیں
ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشید
جاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں
قیس ہو، كوہكن ہو، يا حالی
عاشقی کچھ كسي کی ذات نہیں
الطاف حسین حالی

اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 41
ذوق سب جاتے رہے جز ذوق درد
اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا
عیب سے خالی نہ واعظ ہے نہ ہم
ہم پہ منہ آئے گا منہ کی کھائے گا
باغ و صحرا میں رہے جو تنگ دل
جی قفس میں اس کا کیا گھبرائے گا
الطاف حسین حالی

ہو جہاں راہزن اور راہنما ایک ہی شخص

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 40
قافلے گزریں وہاں کیونکہ سلامت واعظ
ہو جہاں راہزن اور راہنما ایک ہی شخص
قیس سا پھر کوئی اٹھا نہ بنی عامر پیں
فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص
گھر میں برکت ہے مگر فیض ہے جاری شب و روز
کچھ سہی شیخ، مگر ہے بخدا ایک ہی شخص
اعتراضوں کا زمانہ کے ہے حالیؔ پہ نچوڑ
شاعر اب ساری خدائی میں ہے یا ایک ہی شخص
الطاف حسین حالی

ناصح قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 39
یہ ہیں واعظ، سب پہ منہ آتے ہیں آپ
ناصح قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ
بس بہت طعن و ملامت کر چکے
کیوں زباں رندوں کی کھلواتے ہیں آپ
ہے صراحی میں وہی لذت کہ جو
چڑھ کے ممبر پر مزا پاتے ہیں آپ
واعظو ہے ان کو شرمانا گناہ
جو گنہ سے اپنے شرماتے ہیں آپ
کرتے ہیں اک اک کی تکفیر آپ کیوں
ا س پہ بھی کچھ غور فرماتے ہیں آپ
چھیڑ کر واعظ کو حالیؔ خلد سے
بسترا کیوں اپنا پھکواتے ہیں آپ
الطاف حسین حالی

بلبل بہت ہے دیکھ کے پھولوں کو باغ باغ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 38
یا رب نگاہ بد سے چمن کو بچائیو
بلبل بہت ہے دیکھ کے پھولوں کو باغ باغ
آئیں پئیں وہ شوق سے جو اہلِ ظرف ہوں
ساقی بھرے کھڑا ہے مئے لعل سے ایاغ
حالیؔ بھی پڑھنے آئے تھے کچھ بزم شعرو میں
باری تب ان کی آئی کہ گل ہو گئے چراغ
الطاف حسین حالی

نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ گھر کی صورت

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 37
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ گھر کی صورت
کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
دیکھئے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو آتش دوزخ سے جہان کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
کیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرص
اس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت
حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضرور
رہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت
ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کو اور آپ کے گھر کی صورت
الطاف حسین حالی

کاٹنا ہے شب تنہائی کا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 36
عمر شاید نہ کرے آج وفا
کاٹنا ہے شب تنہائی کا
ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم
شوق تھا بادیہ پیمائی کا
کچھ تو ہے قدر تماشائی کی
ہے جو یہ شوق خود آرائی کا
یہی انجام تھا اے فصل خزاں
گل و بلبل کی شناسائی کا
محتسب عذر بہت ہیں لیکن
اذن ہم کو نہیں گویائی کا
ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ
گھر ابھی دور ہے رسوائی کا
الطاف حسین حالی

دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 35
تو نہیں ہوتا تو رہتا ہے اچاٹ
دل کو یہ کیسی لگا دی تو نے چاٹ
رچ رہی ہے کان میں یاں لے وہی
اور معنی نے کئی بدلے ہیں ٹھاٹ
ناؤ ہے بوسیدہ اور موجیں ہیں سخت
اور دریا کا بہت چکلا ہے پاٹ
دیر سے مسجد میں ہم آئے تو ہیں
ہے مگر یاں جی کچھ اے زاہد اچاٹ
تیغ میں برش یہ لے حالیؔ نہیں
جس قدر تیری زباں کرتی ہے کاٹ
الطاف حسین حالی

تو بھی کھانے میں نہیں محتاط شیخ

تو بھی کھانے میں نہیں محتاط شیخ

ہم کریں پینے میں کیوں پھر احتیاط

کوچ کی حالیؔ کرو تیاریاں

ہے قویٰ میں دمبدم اب انحطاط

الطاف حسین حالی

کس توجہ سے پڑھ رہا ہے نماز

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 33
شیخ! اللہ رے تیری عیاری
کس توجہ سے پڑھ رہا ہے نماز
خیر ہے اے فلک کہ چار طرف
چل رہی ہیں ہوائیں کچھ ناساز
رنگ بدلا ہوا ہے عالم کا
ہیں دگرگوں زمانہ کے انداز
چھپتے پھرتے ہیں کبکو تیہو سے
گھونسلوں میں عقاب اور شہباز
ہے نہتوں کو رہگزر میں خطر
رہزنوں نے کئے ہیں ہاتھ دراز
ٹڈیوں کا ہے کھیتوں پہ ہجوم
بھیڑیوں کے ہیں خوں میں تر لب آز
نا توانوں پہ گد ہیں منڈلاتے
کھئلوں پر ہیں حیز تیر انداز
تشنۂ خوں میں بھوکے شیروں کے
حیلہ گر رہوں بہو کے عشوۂ ناز
دشمنوں کے ہیں دوست خود جاسوس
اور یاروں کے یار میں غماز
ہو گا انجام دیکھئے کیا کچھ
ہے پر آشوب جب کہ یہ آغاز
کے ابھی تک کھلی نہیں لیکن
عیب سے آ رہی ہے کچھ آوا ز
وقت نازک ہے اپنے بیڑے پر
موج ہائل ہے اور ہوا ناساز
یا تھپیڑے ہوا کے لے ابھرا
یا گیا کشمکش میں ڈوب جہاز
الطاف حسین حالی

سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

سخن پر ہمیں اپنے رونا پڑے گا

یہ دفتر کسی دن ڈبونا پڑے گا

ہوئے تم نہ سیدھے جوانی میں حالیؔ

مگر اب مری جان ہونا پڑے گا

الطاف حسین حالی

سبحہ و سجادہ ہیچ اور جبہ و دستار ہیچ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 31
شاہد معنی کو آرائش کی کچھ حاجت نہیں
سبحہ و سجادہ ہیچ اور جبہ و دستار ہیچ
ہے ادب مسند پہ، جو کچھ ہے رئیس شہر
ہٹ کے مسند سے جو خود دیکھیں تو ہیں سرکار ہیچ
گو کہ حالیؔ اگلے استادوں کے آگے ہیچ ہے
کاش ہوتے ملک میں ایسے ہی اب دوچار ہیچ
الطاف حسین حالی

بلکہ جام آبِ کوثر سے لذیذ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 30
پیاس تیری بوئے ساغر سے لذیذ
بلکہ جام آبِ کوثر سے لذیذ
جس کا تو قاتل ہو پھر اس کے لئے
کون سی نعمت ہے خنجر سے لذیذ
لطف ہو تیری طرف سے یا عتاب
ہم کو ہے سب شہد و شکر سے لذیذ
قند سے شیریں تری پہلی نگاہ
دوسری قند مکرر سے لذیذ
ہے یہ تجھ میں کس کی بو باس اے صبا
بوئے بید مشک و عنبر سے لذیذ
الطاف حسین حالی

کوئی مل گیا گر ہمیں یار واعظ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 29
نکل آئے گی مے کشی کی بھی حلَت
کوئی مل گیا گر ہمیں یار واعظ
نہ چھوڑے گا زیور گھروں میں نہ زر تو
یہی ہے اگر حسن گفتار واعظ
مسلماں نہ ہم کاش حالیؔ کو کہتے
ہوئے بات کہہ کر گنہگار واعظ
الطاف حسین حالی

گرچہ اُترے جی سے دل اکثر ابا کرتا رہا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 28
نفس دعویٰ بے گناہی کا سدا کرتا رہا
گرچہ اُترے جی سے دل اکثر ابا کرتا رہا
حق نے احساں نہ کی اور میں نے کفراں میں کمی
وہ عطا کرتا رہا اور میں خطا کرتا رہا
چوریوں سے دیدہ و دل کی نہ شرمایا کبھی
چپکے چپکے نفس خائن کا کہا کرتا رہا
طاعنوں کی زد سے بچ بچ کر چلا راہ خطا
وار ان کا اس لئے اکثر خطا کرتا رہا
نفس میں جو ناروا خواہش ہوئی پیدا کبھی
اس کو حیلے دل سے گھڑ گھڑ کر روا کرتا رہا
منہ نہ دیکھیں دوست پھر میرا اگر جائیں کہ میں
اُس سے کیا کہتا رہا اور آپ کیا کرتا رہا
تھا نہ استحقاق تحسیں پر سنی تحسیں سدا
حق ہے جود و ہمتی کا وہ ادا کرتا رہا
شہرت اپنی جس قدر بڑھتی گئی آفاق میں
کبر نفس اتنا ہی یا نشوونما کرتا رہا
ایک عالم سے وفا کی تو نے اے حالیؔ مگر
نفس سے اپنے سدا ظالم جفا کرتا رہا
الطاف حسین حالی

چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 27
مجھ میں وہ تاب ضبط شکایت کہاں ہے اب
چھیڑو نہ تم کو میرے بھی منہ میں زباں ہے اب
وہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبط راز تھا
چہرے سے اپنے شورش پنہاں عیاں ہے اب
جس دل کو قید ہستی دنیا سے تنگ تھا
وہ دل اسیر حلقہ زلف بتاں ہے اب
آنے لگا جب اس کی تمنا میں کچھ مزا
کہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے اب
حالیؔ تم اور ملازمت پیرے فروش
وہ علم و دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب
الطاف حسین حالی

گویا ہمارے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 26
ملتے ہی ان کے بھول گئیں کلفتیں تمام
گویا ہمارے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا
رات ان کو بات بات پہ سو سو دئیے جواب
مجھ کو خود اپنی ذات سے ایسا گماں نہ تھا
رونا یہ ہے کہ آپ بھی ہنستے تھے ورنہ یاں
طعن رقیب دل پہ کچھ ایسا گراں نہ تھا
تھا کچھ نہ کچھ کہ پھانس ہی اک دل میں چبھ گئی
مانا کہ اس کے ہاتھ میں تیر و سناں نہ تھا
بزم سخن میں جی نہ لگا اپنا زینہار
شب انجمن میں حالیؔ جادو بیاں نہ تھا
الطاف حسین حالی

احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 25
کھولی ہیں تم نے آنکھیں اے حادثو ہماری
احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا
ہوتے ہی تم تو پیدل کچھ رو دئیے سوارو
ہے لاکھ لاکھ من کا ایک اک قدم تمہارا
رستے میں گر نہ ٹھہرے تو تم بھی جا ملو گے
گزرا ابھی ہے یاں سے خیل و حشم تمہارا
پھرتے ادھر ادھر ہو کس کی تلاش میں تم
گم ہے تمہیں میں یارو باغ ارم تمہارا
جادو رقم تو مانیں، ہم دل سے تم کو حالیؔ
کچھ کر کے بھی دکھائے زور قلم تمہارا
الطاف حسین حالی

بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 24
کچھ کرتے ہیں جو یاں وہی انگشت نما ہیں
بدنام ہی دنیا میں نکو نام ہے گویا
ناچیز ہیں وہ کام نہیں جن پہ کچھ الزام
جو کام ہیں ان کا یہی انعام ہے گویا
ہے وقت راحیل اور وہی عشرت کے ہیں ساماں
آخر ہوئی رات اور ابھی شام ہے گویا
جب دیکھئے حالیؔ کو پڑا پائیے بیکار
کرنا اسے باقی یہی اک کام ہے گویا
الطاف حسین حالی

بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 23
کل مدعی کو آپ پر کیا کیا گماں رہے
بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جالیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
یا کھینچ لائے دہر سے رندوں کو اہلِ وعظ
یا آپ بھی ملازمِ پیر مغاں رہے
وصل مدام سے بھی ہماری بجھی نہ پیاس
ڈوبے ہم آبِ خضر میں اور نیم جاں رہے
کل کی خبر ہو تو جھوٹے کا رو سیاہ
تم مدعی کے گھر گئے اور مہماں رہے
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
حالیؔ کے بعد کوئی نہ ہمدرد پھر ملا
کچھ راز تھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے
الطاف حسین حالی

میری ہی طرح تو بھی غیروں سے خفا ہوتا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 22
کچھ اپنی حقیقت کی گر تجھ کو خبر ہوتی
میری ہی طرح تو بھی غیروں سے خفا ہوتا
جو دل پہ گزرتی ہے کیا تجھ کو خبر ناصح
گر آج نہ تم آتے کیا جانئے کیا ہوتا
کل حالیؔ دیوانہ کہتا تھا کچھ افسانہ
سننے ہی کے قابل تھا تم نے بھی سنا ہوتا
الطاف حسین حالی

تیرا قبلہ ہے جدا، میرا جدا اے زاہد

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 21
کہیں خوف اور کہیں غالب ہے رجا اے زاہد
تیرا قبلہ ہے جدا، میرا جدا اے زاہد
ہم دکھا دیں گے کہ زاہد اور ہے نیکی کچھ اور
کچھ بہت دور نہیں روز جزا اے زاہد
جال جب تک ہے یہ پھیلا ہوا دینداری کا
فکر دنیا کا کرے تیری بلا اے زاہد
الطاف حسین حالی

یہ بھید ہے اپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 20
جہاں میں حالیؔ کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا
یہ بھید ہے اپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا
جو لاکھ غیروں کا غیر کوئی، نہ جاننا اس کو غیر ہرگز
جو اپنا سایہ بھی ہو تو اس کو تصور اپنا نہ کیجئے گا
سنا ہے صوفی کا قول ہے یہ کہ ہے طریقت میں کفر دعویٰ
یہ کہدو دعویٰ بہت بڑا ہے پھر ایسا دعویٰ نہ کیجئے گا
کہے اگر کوئی تم کو واعظ کہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہو
زمانہ کی خو ہے نکتہ چینی، کچھ اس کی پروا نہ کیجئے گا
لگاؤ تم میں نہ لاگ زاہد، نہ درد الفت کی آگ زاہد
پھر اور کیا کیجئے آخر جو ترک دنیا نہ کیجئے گا
الطاف حسین حالی

وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 19
اک خوشی ہو گئی ہے تحمل کی ورنہ اب
وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا
آؤ مٹا بھی دو خلش آرزوئے قتل
کیا اعتبار زندگی مستعار کا
سمجھو مجھے اگر ہے تمہیں آدمی کی قدر
میرا اک التفات نہ مرنا ہزار کا
گر صبح تک وفا نہ ہوا وعدہ وصال
سن لیں گے وہ مآل شب انتظار کا
ہر سمت گرد ناقۂ لیلیٰ بلند ہے
پہنچے جو حوصلہ ہو کسی شہسوار کا
حالیؔ بس اب یقین ہے کہ دلی کے ہو رہے
ہے ذرہ ذرہ مہر فزا اس دیار کا
الطاف حسین حالی

جب کبھی جیتے تھے ہم اے بذلہ سنج

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 18
ہم کو بھی آتا تھا ہنسنا بولنا
جب کبھی جیتے تھے ہم اے بذلہ سنج
آ گئی مرگ طبیعی ہم کو یاد
شاخ سے دیکھا جو خود گرتا ترنج
راہ اب سیدھی ہے حالیؔ سوئے دوست
ہو چکے طے سب خم و پیچ و شکنج
الطاف حسین حالی

آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 17
ہو عزم دیر شاید کعبہ سے پھر کر اپنا
آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا
قید خرد میں رہتے آتے نہیں نظر ہم
وحشت رہے گی دل کی دکھلا کے جوہر اپنا
بیگانہ وش ہے گروہ تو ہے ہمارے ڈھب کا
ایسوں ہی سے نبھا ہے یارانہ اکثر اپنا
کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذب حق نما ہے
یہ ہے بضاعت اپنی اور یہ ہے دفتر اپنا
غیروں کو لیں گے آخر اپنا بنا کے کیا ہم
اپنوں ہی سے ہے حالیؔ کچھ دل مکدر اپنا
ہو عزم دیر شاید کعبہ سے پھر کر اپنا
آتا ہے دور ہی سے ہم کو نظر گھر اپنا
قید خرد میں رہتے آتے نہیں نظر ہم
وحشت رہے گی دل کی دکھلا کے جوہر اپنا
بیگانہ وش ہے گروہ تو ہے ہمارے ڈھب کا
ایسوں ہی سے نبھا ہے یارانہ اکثر اپنا
کچھ کذب و افترا ہے کچھ کذب حق نما ہے
یہ ہے بضاعت اپنی اور یہ ہے دفتر اپنا
غیروں کو لیں گے آخر اپنا بنا کے کیا ہم
اپنوں ہی سے ہے حالیؔ کچھ دل مکدر اپنا
الطاف حسین حالی

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

اک بندۂ نا فرماں ہے حمد سرا تیرا

گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا

بندے سے مگر ہو گا حق کیونکہ ادا تیرا

محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نامحرم

کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا

جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعت سلطانی

کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا

عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یاں

ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے سدا تیرا

تو ہی نظر آتا ہے ہر شے پر محیط ان کو

جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلا تیرا

نشہ میں وہ احساں کے سرشار ہیں اور بیخود

جو شکر نہیں کرتے نعمت پہ ادا تیرا

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری

گھر گھر لئے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے

کچھ رنگ بیاں حالیؔ ہے سب سے جدا تیرا

الطاف حسین حالی

بن آئیگی نہ درد کا درماں کئے بغیر

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 15
گوہ شفا سے یاس پہ جب تک ہے دم میں دم
بن آئیگی نہ درد کا درماں کئے بغیر
بگڑی ہوئی بہت ہے کچھ اسباغ کی ہوا
یہ باغ کو رہے گی نہ ویراں کئے بغیر
مشکل بہت ہے گو کہ مٹانا سلف کا نام
مشکل کو ہم ٹلیں گے نہ آساں کئے بغیر
گو مے ہ تندو تلخ پہ ساقی ہے دلربا
اے شیخ بن پڑے گی نہ کچھ ہاں کئے بغیر
تکفیر جو کہ کرتے ہیں ابنائے وقت کی
چھوڑے گا وقت انہیں نہ مسلماں کئے بغیر
الطاف حسین حالی

پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 14
گو جوانی میں تھی کج رائی بہت
پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت
وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئے
مینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت
ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت
کر دیا چپ واقعات دہر نے
تھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت
ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت
الطاف حسین حالی

ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 13
گھر ہے وحشت خیر اور بستی اجاڑ
ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال
اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار
پر نہیں زاہد کوئی ٹٹّی کی آڑ
عید اور نو روز ہے سب دل کے ساتھ
دل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباں
کر لیا ساری خدائی کا بگاڑ
الطاف حسین حالی

اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 12
غالب و شیفتہ و آزردہ و ذوق
اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز
مومن و علوی و صہبائی و ممنون کے بعد
شعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز
کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کو
ورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز
داغ و مجروح کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں
نہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز
رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیرو زبر
اب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانا ہرگز
الطاف حسین حالی

اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 11
غفلت ہے کہ گھیر ے ہوئے ہے چار طرف سے
اور معرکۂ گردش ایام ہے درپیش
گو صبح بھی تھی روز مصیبت کی قیامت
پر صبح تو جوں توں کٹی اب شام ہے درپیش
وہ وقت گیا نشہ تھا جب زوروں پہ اپنا
اب وقت خمار مئے گلفام ہے درپیش
امید شفا کا تو جواب آ ہی چکا ہے
اب موت کا سننا ہمیں پیغام ہے درپیش
جی اس کا کسی کام میں لگتا نہیں زنہار
ظاہر ہے کہ حالیؔ کو کوئی کام ہے درپیش
الطاف حسین حالی

گویا نہ رہا اب کہیں دنیا میں ٹھکانا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 10
دلّی سے نکلتے ہی ہوا جینے سے دل سیر
گویا نہ رہا اب کہیں دنیا میں ٹھکانا
افسوس کہ غفلت میں کٹا عہد جوانی
تھا اب بقا گھر میں مگر، ہم نے نہ جلنا
یاروں کو ہمیں دیکھ کے عبرت نہیں ہوتی
اب واقعہ سب اپنا پڑا ہم کو سنانا
لی ہوش میں آنے کی جو ساقی سے اجازت
فرمایا خبردار کہ نازک ہے زمانہ
ڈھاریں سی کچھ اے ہمقدمو تم سے بندھی ہے
حالیؔ کو کہیں راہ میں تم چھوڑ نہ جانا
الطاف حسین حالی

پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 9
دل میں باقی ہیں وہی حرصِ گناہ
پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا
آؤ اس کو لیں ہمیں جا کر منا
اس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا
جانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو
کھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا
مان لیجئے شیخ جو دعویٰ کرے
اک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا
ہو چکے حالیؔ غزلخوانی کے دن
راگئی بے وقت کی اب گائیں کیا
الطاف حسین حالی

کی بھی اور کسی سے آشنائی کی

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 8
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
کی بھی اور کسی سے آشنائی کی
کیوں بڑھاتے ہو اخلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی
منہ کہاں چھپاؤ گے ہم سے
تم کو عادت ہے خود نمائی کی
لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں
صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی
ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن
ہم سے باتیں کرو صفائی کی
دل رہا پائے بند الفت دام
تھی عبث آرزو رہائی کی
دل بھی پہلو میں ہو یاں کسی سے
رکھئے امید دلربائی کی
شہر و دریا سے باغ و صحرا سے
بو نہیں آتی آشنائی کی
نہ ملا کوئی غارتِ ایماں
رہ گئی شرم پارسائی کی
موت کی طرح جس سے ڈرتے تھے
ساعت آن پہنچی اس جدائی کی
زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔ
انتہا ہے یہ بے حیائی کی
الطاف حسین حالی

تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 7
دیکھ اے امید کہ جو، ہم سے نہ تو کنارا
تیرا ہی رہ گیا ہے لے دے کے اک سہارا
یوں بے سبب زمانہ پھرتا نہیں کسی سے
اے آسماں کچھ اس میں تیرا بھی ہے اشارا
میخانہ کی خرابی جی دیکھ کر بھر آیا
مدت کے بعد کل واں جا نکلے تھے قضا را
اک شخص کو توقع بخشش کی بے عمل ہے
اے زاہدو تمہارا ہے اس میں کیا اجارا
دنیا کے خرخشوں سے چیخ اٹھتے تم ہم اول
آخر کو رفتہ رفتہ سب ہو گئے گوارا
انصاف سے جو دیکھا نکلے وہ عیب سارے
جتنے ہنر تھے اپنے عالم میں آشکارا
افسوس، اہل دیں بھی مانند اہلِ دنیا
خود کام خود نما ہیں خود بیں میں اور خود آرا
الطاف حسین حالی

کیمیا کو طلا سے کیا مطلب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 6
درد دل کو دوا سے کیا مطلب
کیمیا کو طلا سے کیا مطلب
جو کرینگے بھرینگے خود واعظ
تم کو میری خطا سے کیا مطلب
جن کے معبود حورو غلماں ہیں
ان کو زاہد خدا سے کیا مطلب
کام ہے مردمی سے انساں کی
زبد یا اتقا سے کیا مطلب
صوفی شہرِ با صفا ہے اگر
ہو ہماری بلا سے، کیا مطلب
نگہت مے پہ عشق میں جو حالیؔ
ان کو درد و صفا سے کیا مطلب
الطاف حسین حالی

مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 5
چپ چپاتے اسے دے آئے دل اک بات پہ ہم
مال مہنگا نظر آتا تو چکایا جاتا
نامہ بر آج بھی خط لے کے نہ آیا یارو
تم تو کہتے ہو کہ وہ ہے ابھی آیا جاتا
لوگ کیوں شیخ کو کہتے ہیں کہ عیار ہے وہ
اس کی صورت سے تو ایسا نہیں پایا جاتا
کرتے کیا پیتے اگر مے نہ عشا سے نا صبح
وقت فرصت کا یہ کس طرح گنوایا جاتا
اس نے اچھا ہی کیا حال نہ پوچھا دل کا
بھڑک اٹھتا تو یہ شعلہ نہ دبایا جاتا
عشق سنتے تھے جسے ہم وہ یہی ہے شاید
خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا
اب تو تکفیر سے واعظ نہیں ہٹتا حالیؔ
کہتے پہلے سے تو دے لے کے ہٹایا جاتا
الطاف حسین حالی

گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 4
چاہئے ایک سب کا ہو مقصود
گو ہوں سب کی جدا جدا اغراض
یاد میں تیری سب کو بھول گئے
کھو دئیے ایک دکھ نے سب امراض
دیکھئے تو بھی خوش ہیں یا نا خوش
اور تو ہم سے سب ہیں کچھ ناراض
رائے ہے کچھ علیل سی تیری
نبض اپنی بھی دکھ اے نباض
ایسی غزلیں سنی نہ تھیں حالیؔ
یہ نکالی کہاں سے تم نے بیاض
الطاف حسین حالی

جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 3
اے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا
جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا
رایوں کے راج چھینے شاہونکے تاج چھینے
گردن کشوں کو اکثر نیچا دکھا کے چھوڑا
فرہاد کوہکن کی لی تو نے جان شیریں
اور قیس عامری کو مجنوں بنا کے چھوڑا
یعقوب سے بشر کو دی تو نے ناصبوری
یوسف سے پارسا پر بہتان لگا کے چھوڑا
عقل و خرد نے تجھ سے کچھ چپقلش جہاں کی
عقل و خرد کا تو نے خاکہ اڑا کے چھوڑا
افسانہ تیرا رنگین، روداد تیری دلکش
شعر و سخن کا تو نے جادو بنا کے چھوڑا
اک دسترس سے تیری حالیؔ بچا ہوا تھا
اس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا
الطاف حسین حالی

اے بہار زندگانی الوداع

اے شباب شاد مانی الوداع

آ لگا حالیؔ کنارے پر جہاز

الوداع اے زندگانی الوداع

الطاف حسین حالی

وہ دل کہ خاص محرم بزم حضور تھا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 1
اب باریاب انجمن عام بھی نہیں
وہ دل کہ خاص محرم بزم حضور تھا
روز وداع بھی شب ہجراں سے کم نہ تھا
کچھ صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا
حالیؔ کو ہجر میں بھی جو دیکھا شادماں
تھا حوصلہ اسی کا کہ اتنا صبور تھا
الطاف حسین حالی

میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 49
جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے
میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے
تمہیں حور اے شیخ جی سوجھتی ہے
مجھے رشک حور اک پری سوجھتی ہے
یہاں تو میری جان پر بن رہی ہے
تمہیں جانِ من دل لگی سوجھتی ہے
جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھیں ملاؤ
وہ کہتے ہیں تم کو یہی سوجھتی ہے
یہاں تو ہے آنکھوں میں اندھیر دنیا
وہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے
جو کی میں نے جوبن کی تعریف بولے
تمہیں اپنے مطلب کی ہی سوجھتی ہے
امیر ایسے ویسے تو مضموں ہیں لاکھوں
نئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے
امیر مینائی

آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 48
وصل ہو جائے یہیں حشر ، حشر میں کیا رکھا ہے
آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے
محتسب پوچھ نہ تو شیشے میں کیا رکھا ہے
پارسائی کا لہو اس میں بھرا رکھا ہے
کہتے ہیں آئے جوانی تو یہ چوری نکلے
میرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے
اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھیں
آپ تو سوتے ہیں، فتنوں کو جگا رکھا ہے
آدمی زاد ہیں دنیا کے حسیں ،لیکن امیر
یار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے
امیر مینائی

ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 47
اچھے عیسیٰ ہو، مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں، تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سَو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
دیکھ لے بلبل و پروانہ کی بے تابی کو
ہجر اچھا، نہ حسینوں کا وصال اچھا ہے
آگیا اس کا تصور، تو پکارا یہ شوق
دل میں جم جائے الہٰی، یہ خیال اچھا ہے
برق اگر گرمیِ رفتار میں اچھی ہے امیر
گرمیِ حسن میں وہ برق جمال اچھا ہے
امیر مینائی

قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 46
وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے
قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے
کہیں ایسا نہ ہو تجھ پر بھی کوئی وار چل جائے
قضا ہٹ جا کہ جھنجھلایا ہوا اِس وقت قاتل ہے
طنابیں کھینچ دے یارب، زمینِ کوئے جاناں کی
کہ میں ہوں ناتواں، اور دن ہے آخر، دور منزل ہے
مرے سینے پہ رکھ کر ہاتھ کہتا ہے وہ شوخی سے
یہی دل ہے جو زخمی ہے، یہی دل ہے جو بسمل ہے
نقاب اُٹھی تو کیا حاصل؟ حیا اُٹھے تو آنکھ اُٹھے
بڑا گہرا تو یہ پردہ ہمارے اُنکے حائل ہے
الہٰی بھیج دے تربت میں کوئی حور جنت سے
کہ پہلی رات ہے، پہلا سفر ہے، پہلی منزل ہے
جدھر دیکھو اُدھر سوتا ہے کوئی پاؤں پھیلائے
زمانے سے الگ گورِ غریباں کی بھی محفل ہے
عجب کیا گر اُٹھا کر سختیِ فرقت ہوا ٹکڑے
کوئ لوہا نہیں، پتھر نہیں، انسان کا دل ہے
سخی کا دل ہے ٹھنڈا گرمیِ روزِ قیامت میں
کہ سر پر چھَترِ رحمت سایۂ دامانِ سائل ہے
امیرِ خستہ جاں کی مشکلیں آساں ہوں یارب
تجھے ہر بات آساں ہے اُسے ہر بات مشکل ہے
امیر مینائی

کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 45
سرِ راہِ عدم گورِ غریباں طرفہ بستی ہے
کہیں غربت برستی ہے کہیں حسرت برستی ہے
تری مسجد میں واعظ، خاص ہیں اوقات رحمت کے
ہمارے میکدے میں رات دن رحمت برستی ہے
خمارِ نشّہ سے نگاہیں ان کی کہتی ہیں
یہاں کیا کام تیرا، یہ تو متوالوں کی بستی ہے
جوانی لے گئی ساتھ اپنے سارا عیش مستوں کا
صراحی ہے نہ شیشہ ہے نہ ساغر ہے نہ مستی ہے
ہمارے گھر میں جس دن ہوتی ہے اس حور کی آمد
چھپر کھٹ کو پری آ کر پری خانے سے کستی ہے
چلے نالے ہمارے یہ زبان حال سے کہہ کر
ٹھہر جانا پہنچ کر عرش پر، ہمّت کی پستی ہے
امیر اس راستے سے جو گزرتے ہیں وہ لٹتے ہیں
محلہ ہے حسینوں کا، کہ قزاقوں کی بستی ہے؟
امیر مینائی

کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 44
عجب عالم ہے اُس کا، وضع سادی، شکل بھولی ہے
کبھی جاتی ہے دل میں، کیا رسیلی نرم بولی ہے
ادائیں کھیلتی ہیں رنگ، تلوار اُس نے کھولی ہے
لہو کی چلتی ہیں پچکاریاں، مقتل میں ہولی ہے
بہار آئی، چمن ہوتا ہے مالا مال دولت سے
نکالا چاہتے ہیں زر گرہ غنچوں نے کھولی ہے
عجب ملبوس ہے ہم وحشیوں کا رختِ عریانی
گریباں ہے، نہ پردہ ہے، نہ دامن ہے، نہ چولی ہے
صراحی دور میں آتی ہے، زاہد ہوں جو محفل میں
جھُکا لیں اپنی آنکھیں، دخترِ رز کی یہ ڈولی ہے
امیر ، اس بے وفا دنیا کی صورت پر نہ تم جاؤ
بڑی عیّار ہے، مکّار ہے، ظاہر میں بھولی ہے
امیر مینائی

غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 43
کون بیماری میں آتا ہے عیادت کرنے؟
غش بھی آیا تو مِری روح کو رخصت کرنے
اُس کو سمجھاتے نہیں جا کے کسی دن ناصح
روز آتے ہیں مجھ ہی کو یہ نصیحت کرنے
تیر کے ساتھ چلا دل، تو کہا میں نے، کہاں؟
حسرتیں بولیں کہ، مہمان کو رخصت کرنے
آئے میخانے میں، تھے پیرِ خرابات امیر
اب چلے مسجدِ جامع کی امامت کرنے
امیر مینائی

کام اپنا، نام اُس کا کر چلے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 42
مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے
کام اپنا، نام اُس کا کر چلے
حشر میں اجلاس کس کا ہے کہ آج
لے کے سب اعمال کا دفتر چلے
خُونِ ناحق کر کے اِک بے جُرم کا
ہاتھ ناحق خُون میں تم بھر چلے
یہ ملی کس جُرم پر دم کو سزا؟
حُکم ہے دن بھر چلے شب بھر چلے
شیخ نے میخانے میں پی یا نہ پی
دخترِ رز کو تو رُسوا کر چلے
رہنے کیا دنیا میں آئے تھے امیر
سیر کر لی اور اپنے گھر چلے
امیر مینائی

کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 41
فنا کیسی بقا کیسی جب اُس کے آشنا ٹھہرے
کبھی اس گھر میں آ نکلے کبھی اُس گھر میں جا ٹھہرے
نہ ٹھہرا وصل، کاش اب قتل ہی پر فیصلا ٹھہرے
کہاں تک دل مرا تڑپے کہاں تک دم مرا ٹھہرے
جفا دیکھو جنازے پر مرے آئے تو فرمایا
کہو تم بے وفا ٹھہرے کہ اب ہم بے وفا ٹھہرے
تہ خنجر بھی منہ موڑا نہ قاتل کی اطاعت سے
تڑپنے کو کہا تڑپے ، ٹھہرنے کو کہا ٹھہرے
زہے قسمت حسینوں کی بُرائی بھی بھلائی ہے
کریں یہ چشم پوشی بھی تو نظروں میں حیا ٹھہرے
یہ عالم بیقراری کا ہے جب آغاز الفت میں
دھڑکتا ہے دل اپنا دیکھئے انجام کیا ٹھہرے
حقیقت کھول دی آئینہ وحدت نے دونوں کی
نہ تم ہم سے جدا ٹھہرے ، نہ ہم تم سے جدا ٹھہرے
دل مضطر سے کہہ دو تھوڑے تھوڑے سب مزے چکھے
ذرا بہکے ذرا سنبھلے ذرا تڑپے ذرا ٹھہرے
شب وصلت قریب آنے نہ پائے کوئی خلوت میں
ادب ہم سے جدا ٹھہرے حیا تم سے جدا ٹھہرے
اٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہو
ٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے
نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کو
کہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرے
ابھی جی بھر کے وصل یار کی لذت نہیں اٹھی
کوئی دم اور آغوش اجابت میں دعا ٹھہرے
خیال یار آنکلا مرے دل میں تو یوں بولا
یہ دیوانوں کی بستی ہے یہاں میری بلا ٹھہرے
امیر آیا جو وقت بد تو سب نے راہ لی اپنی
ہزاروں سیکڑوں میں درد و غم دو آشنا ٹھہرے
امیر مینائی

درد بول اٹھا ۔ تڑپنا چاہئے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 40
دل نے جب پوچھا مجھے کیا چاہئے؟
درد بول اٹھا ۔ تڑپنا چاہئے
حرص دنیا کا بہت قصہ ہے طول
آدمی کو صبر تھوڑا چاہئے
ترک لذت بھی نہیں لذت سے کم
کچھ مزا اس کا بھی چکھا چاہئے
ہے مزاج اس کا بہت نازک امیر!
ضبطِ اظہارِ تمنا چاہئے
امیر مینائی

ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لئے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 39
تند مے اور ایسے کمسِن کے لئے
ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لئے
جب سے بلبل تُو نے دو تن کے لئے
ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لئے
ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لئے
ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لئے
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے
باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسِن کے لئے
کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کھلے کن کے لئے
سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی اِن کے لئے
صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر
بھیجتے تحفہ موذِّن کے لئے
امیر مینائی

رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 38
تیغِ قاتل پہ ادا لوٹ گئی
رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی
ہنس پڑے آپ، تو بجلی چمکی
بال کھولے، تو گھٹا لوٹ گئی
اس روش سے وہ چلے گلشن میں
بِچھ گئے پھول صبا لوٹ گئی
خنجرِ ناز نے کشتوں سے امیر
چال وہ کی کہ قضا لوٹ گئی
امیر مینائی

خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 37
چاند سا چہرہ، نور سی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
گُل رُخِ نازک، زلف ہے سنبل، آنکھ ہے نرگس، سیب زنخداں
حُسن سے تم ہو غیرتِ گلشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
ساقیِ بزمِ روزِ ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں
آنکھیں ہیں ساغر، شیشہ ہے گردن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
قہر غضب ظاہر کی رکاوٹ، آفتِ جاں درپردہ لگاوٹ
چاہ کے تیور، پیار کی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
غمزہ اچکّا، عشوہ ہے ڈاکو، قہر ادائیں، سحر ہیں باتیں
چور نگاہیں، ناز ہے رہزن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
نور کا تن ہے، نور کے کپڑے، اس پر کیا زیور کی چمک ہے
چھلے، کنگن، اِکّے، جوشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
جمع کیا ضدّین کو تم نے، سختی ایسی، نرمی ایسی
موم بدن ہے، دل ہے آہن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
واہ امیرؔ، ایسا ہو کہنا، شعر ہیں یا معشوق کا گہنا
صاف ہے بندش، مضموں روشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
امیر مینائی

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 36
سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ
سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
ہمارے اور تمہارے پیار میں بس فرق ہے اتنا
اِدھر تو جلدی جلدی ہے اُدھر آہستہ آہستہ
وہ بے دردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
امیر مینائی

غم سے بے اختیار سا ہے کچھ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 35
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ
غم سے بے اختیار سا ہے کچھ
رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں
جامۂ مستعار سا ہے کچھ
چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں
نشہ کیسا خمار سا ہے کچھ
نخل اُمید میں نہ پھول نہ پھل
شجرِ بے بہار سا ہے کچھ
ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں
آسمان پر غبار سا ہے کچھ
کل تو آفت تھی دل کی بیتابی
آج بھی بے قرار سا ہے کچھ
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہ
داغ شمع مزار سا ہے کچھ
اِس کو دنیا کی اُس کو خلد کی حرص
رند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ
پہلے اس سے تھا ہوشیار امیر
اب بے اختیار سا ہے کچھ
امیر مینائی

کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 34
ہم لوٹتے ہیں، وہ سو رہے ہیں
کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں
پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت
جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں
پیری میں بھی ہم ہزار افسوس
بچپن کی نیند سو رہے ہیں
روئیں گے ہمیں رُلانے والے
ڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں
کیوں کرتے ہیں غمگسار تکلیف
آنسو مرے مُنہ کو دھو رہے ہیں
زانو پہ امیر سر کو رکھے
پھر دن گزرے کہ رو رہے ہیں
امیر مینائی

نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 33
ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتی
نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
بڑے ہی قدر داں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں
وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں
امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
امیر مینائی

اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 32
دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں
اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں
مجلسِ وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم مے کش
دخترِ رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں
دھیان میں لا کے ترا سلسلۂ زلف دراز
ہم شبِ ہجر کو کچھ اور بڑھا لیتے ہیں؟
ایک بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوب
جی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ہیں کیا لیتے ہیں؟
اپنی محفل سے اُٹھاتے ہیں عبث ہم کو حضور
چُپ کے بیٹھے ہیں الگ، آپ کا کیا لیتے ہیں؟
امیر مینائی

یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 31
خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں
یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنی
بھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں
ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میں
بھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں
جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوں
یہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں
چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقی
ہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں
جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کی
زہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں
غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھی
رواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں
سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میں
کہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں
وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیں
تماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں
امیر مینائی

اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 30
لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں
مرا خط پھینک کر قاتل کے مُنہ پر طنز سے بولے
خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں
ابھی اے جاں تو نے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں
قیامت دور، تنہائی کا عالم، روح پر صدمہ
ہمارے دن لحد میں دیکھیئے کیوں کر گزرتے ہیں
جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آ کے مشاطہ
ادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں
چمن کی سیر ہی چھوٹی تو پھر جینے سے کیا حاصل؟
گلا کاٹیں مرا صیاد ناحق پر کترتے ہیں
قیام اس بحرِ طوفاں خیز دنیا میں کہاں ہمدم؟
حباب آ سا ٹھہرتے ہیں تو کوئی دم ٹھہرتے ہیں
امیر مینائی

ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 29
وا کردہ چشم دل صفتِ نقش پا ہوں میں
ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
مطلب جو اپنے اپنے کہے عاشقوں نے سب
وہ بُت بگڑ کے بول اُٹھا ، کیا خدا ہوں میں
اے انقلابِ دہر، مٹاتا ہے کیوں مجھے
نقشے ہزاروں مٹ گئے ہیں تب بنا ہوں میں
محنت یہ کی کہ فکر کا ناخن بھی گھِس گیا
عقدہ یہ آج تک نہ کھُلا مجھ پہ کیا ہوں میں
رسوا ہوئے جو آپ تو میرا قصور کیا؟
جو کچھ کیا وہ دل نے کیا، بے خطا ہوں میں
مقتل ہے میری جاں کو وہ جلوہ گاہِ ناز
دل سے ادا یہ کہتی ہے تیری قضا ہوں میں
مانندِ سبزہ اُس چمنِ دہر میں امیر
بیگانہ وار ایک کنارے پڑا ہوں میں
امیر مینائی

ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 28
قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں
ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں
جا پائی خط نے اس کے رخِ بے نقاب میں
سورج گہن پڑا شرفِ آفتاب میں
دامن بھرا ہوا تھا جو اپنا شراب میں
محشر کے دن بٹہائے گئے آفتاب میں
رکھا یہ تم نے پائے حنائی رکاب میں
یا پھول بھر دئیے طبقِ آفتاب میں
تیرِ دعا نشانے پہ کیونکر نہ بیٹھتا
کچھ زور تھا کماں سے سوا اضطراب میں
وہ ناتواں ہوں قلعۂ آہن ہو وہ مجھے
کر دے جو کوئی بند مکانِ حباب میں
حاجت نہیں تو دولتِ دنیا سے کام کیا
پھنستا ہے تشنہ دام فریبِ سراب میں
مثلِ نفس نہ آمد و شد سے ملا فراغ
جب تک رہی حیات، رہے اضطراب میں
سرکش کا ہے جہاں میں دورانِ سر مآل
کیونکر نہ گرد باد رہے پیچ و تاب میں
چاہے جو حفظِ جان تو نہ کر اقربا سے قطع
کب سوکھتے ہیں برگِ شجر آفتاب میں
دل کو جلا تصور حسنِ ملیح سے
ہوتی ہے بے نمک کوئی لذت، کباب میں
ڈالی ہیں نفسِ شوم نے کیا کیا خرابیاں
موذی کو پال کر میں پڑا کس عذاب میں
اللہ رے تیز دستیِ مژگانِ رخنہ گر
بے کار بند ہو گئے ان کی نقاب میں
چلتا نہیں ہے ظلم تو عادل کے سامنے
شیطاں ہے پردہ در کہ ہیں مہدی حجاب میں
کچھ ربط حسن و عشق سے جائے عجب نہیں
بلبل بنے جو بلبلہ اٹھّے گلاب میں
چومے جو اس کا مصحفِ رخ زلف میں پھنسے
مارِ عذاب بھی ہے طریقِ ثواب میں
ساقی کچھ آج کل سے نہیں بادہ کش ہیں بند
اس خاک کا خمیر ہوا ہے شراب میں
جب نامہ بر کیا ہے کبوتر کو اے امیر
اس نے کباب بھیجے ہیں خط کے جواب میں
امیر مینائی

کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 27
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میں
دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
دو کی جگہ دئیے مجھے بوسے بہک کے چار
تھے نیند میں، پڑا اُنہیں دھوکا حساب میں
سمجھا ہے تو جو غیبتِ پیر مغاں حلال،
واعظ، بتا یہ مسئلہ ہے کس کی کتاب میں؟
دامن میں اُن کے خوں کی چھینٹیں پڑیں امیر
بسمل سے پاس ہو نہ سکا اضطراب میں
امیر مینائی

تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 26
یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں
تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں
وصل کیسا تیرے نادیدہ خریداروں میں ہوں
واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گناہ گاروں میں ہوں
ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں
کہہ سکوں گ کیونکر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں
ہائے رے غفلت نہیں ہے آج تک اتنی خبر
کون ہے مطلوب میں کس کے طلب گاروں میں ہوں
دل جگر دونوں کی لاشیں ہجر میں ہیں سامنے
میں کبھی اس کے کبھی اس کے عزا داروں میں ہوں
وقت آرائش پہن کر طوق بولا وہ حسین
اب وہ آزادی کہاں ہے میں بھی گرفتاروں میں ہوں
آ چکا تھا رحم اس کو سن کے میری بے کسی
درد ظالم بول اٹھا میں اس کے غم خواروں میں ہوں
پھول میں پھولوں میں ہوں، کانٹا ہوں کانٹوں میں امیر
یار میں یاروں میں ہوں، عیار ، عیاروں میں ہوں
امیر مینائی

ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 25
اس کی حسرت ہے ، جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں
وصل میں چھیڑ نہ اتنا اسے اے شوق وصال
کہ وہ روئے تو کسی طرح منا بھی نہ سکوں
ڈال کر خاک مرے خوں پہ، قاتل نے کہا
کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں
کوئی پوچھے تو محبت سے یہ کیا ہے انصاف
وہ مجھے دل سے بہلا دے میں بہلا بھی نہ سکوں
ہائے کیا سحر ہے یہ حسن کی مانگیں جو حسیں
دل بچا بھی نہ سکوں جان چھڑا بھی نہ سکوں
ایک نالے میں جہاں کو تہہ و بال کر دوں
کچھ تیرا دل یہ نہیں ہے کہ ہلا بھی نہ سکوں
امیر مینائی

کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 24
وہ تو سنتا ہی نہیں میں داد خواہی کیا کروں؟
کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟
مجھ گدا کو دے نہ تکلیف حکومت اے ہوس!
چار دن کی زندگی میں بادشاہی کیا کروں؟
مجھ کو ساحل تک خدا پہنچائے گا اے ناخدا!
اپنی کشتی کی بیاں تجھ سے تباہی کیا کروں؟
وہ مرے اعمال روز و شب سے واقف ہے امیر
پیش خالق ادعائے بے گناہی کیا کروں؟
امیر مینائی

اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 23
شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
مہمان اِدھر ہما ہے اُدھر ہے سگِ حبیب
اِک مشتِ استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقدِ جاں
مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب
حیران باغباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
سب چاہتے ہیں اس سے جو وعدہ وصال کا
کہتا ہے اک زباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
شہزادے دختِ رز کے ہزاروں ہی خواستگار
چپ مرشدِ مغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
یاروں کو بھی ہے بوسے کی غیروں کو بھی طلب
ششدر وہ جانِ جاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
دل مجھ سے مانگتے ہیں ہزاروں حسیں امیر
کتنا یہ ارمغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
امیر مینائی

چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 22
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ
ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ
شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیر
آرام چاہتا ہے تو مشقِ سخن کو چھوڑ
امیر مینائی

سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 21
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ
صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ
ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ
بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ
ناز اُٹھانے کا ہے اس کے حوصلہ اے جانِ زار
اب تلک تجھ کو ہے زور ناتوانی پر گھمنڈ
نوبت شاہی سے آتی ہے صدا شام و سحر
اور کر لے چار دن اس دار فانی پر گھمنڈ
دیکھ او نادان کہ پیری کا زمانہ ہے قریب
کیا لڑکپن ہے کہ کرتا ہے جوانی پر گھمنڈ
چار ہی نالے ہمارے سن کے چپکی لگ گئی
تھا بہت بلبل کو اپنی خوش بیانی پر گھمنڈ
عفو کے قابل مرے اعمال کب ہیں اے کریم
تیری رحمت پر ہے تیری مہربانی پر گھمنڈ
شمع محفل شامت آئی ہے تری خاموش ہو
دل جلوں کے سامنے آتش زبانی پر گھمنڈ
طبع شاعر آ کے زوروں پر کرے کیوں کر نہ ناز
سب کو ہوتا ہے جوانی میں جوانی پر گھمنڈ
چار موجوں میں ہماری چشم تر کے رہ گیا
ابر نیساں کو یہی تھا ڈر فشانی پر گھمنڈ
دیکھنے والوں کی آنکھیں آپ نے دیکھی نہیں
حق بجانب ہے اگر ہے لن ترانی پر گھمنڈ
عاشق و معشوق اپنے اپنے عالم میں ہیں مست
واں نزاکت پر تو یاں ہے ناتوانی پر گھمنڈ
تو سہی کلمہ ترا پڑھوا کے چھوڑوں اے صنم
زاہدوں کو ہے بہت تسبیح خوانی پر گھمنڈ
سبزہ خط جلد یارب رخ پر اُس کے ہو نمود
خضر کو ہے اپنی عمر جاودانی پر گھمنڈ
گور میں کہتی ہے عبرت قیصر و فغفور سے
کیوں نہیں کرتے ہو اب صاحب قرانی پر گھمنڈ
ہے یہی تاثیر آبِ خنجر جلّاد میں
چشمۂ حیواں نہ کر تو اپنے پانی پر گھمنڈ
حال پر اجداد و آبا کے تفاخر کیا امیر
ہیں وہ ناداں جن کو ہے قصے کہانی پر گھمنڈ
امیر مینائی

دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 20
اے ضبط دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو
دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو
مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب
دو چار سو برس تو الہٰی سحر نہ ہو
اک پھول ہے گلاب کا آج اُن کے ہاتھ میں
دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو
ڈھونڈھے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا
دھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اُس کی کمر نہ ہو
فرقت میں یاں سیاہ زمانہ ہے مجھ کو کیا
گردوں پہ آفتاب نہ ہو یا قمر نہ ہو
دیکھی جو صورتِ ملک الموت نزع میں
میں خوش ہوا کہ یار کا یہ نامہ بر نہ ہو
آنکھیں ملیں ہیں اشک بہا نے کے واسطے
بیکار ہے صدف جو صدف میں گُہر نہ ہو
الفت کی کیا اُمید وہ ایسا ہے بے وفا
صحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو
طول شب وصال ہو، مثل شب فراق
نکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو
منہ پھیر کر کہا جو کہا میں نے حالِدل
چُپ بھی رہو امیر مجھے درد سر نہ ہو
امیر مینائی

پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 19
لٹکاؤ نہ گیسوئے رسا کو
پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو
ظالم تجھے دل دیا، خطا کی
بس بس میں پُہنچ گیا، سزا کو
اے حضرتِ دل بتوں کو سجدہ
اتنا تو نہ بھولئیے خدا کو
اتنا بکئے کہ کچھ کہے وہ
یوں کھولیئے قفل مدعا کو
کہتی ہے امیر اُس سے شوخی
اب مُنہ نہ دکھائیے حیا کو
امیر مینائی