admin کی تمام پوسٹیں

اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 127
جب یہ عالم ہو تو لکھیے لب و رخسار پہ خاک
اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک
تو نے مٹّی سے اُلجھنے کا نتیجہ دیکھا
ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک
ہم نے مدت سے الٹ رکھا ہے کاسہ اپنا
دستِ دادار ترے درہم و دینار پہ خاک
پتلیاں گرمیِ نظارہ سے جل جاتی ہیں
آنکھ کی خیر میاں‘ رونقِ بازار پہ خاک
جو کسی اور نے لکھا ہے اسے کیا معلوم
لوحِ تقدیر بجا‘ چہرۂ اخبار پہ خاک
چار دیوارِ عناصر کی حقیقت کتنی
یہ بھی گھر ڈوب گیا دیدۂ خوں بار پہ خاک
پائے وحشت نے عجب نقش بنائے تھے یہاں
اے ہوائے سرِ صحرا تری رفتار پہ خاک
یہ غزل لکھ کے حریفوں پہ اڑا دی میں
جم رہی تھی مرے آئینہ اشعار پہ خاک
یہ بھی دیکھو کہ کہاں کون بلاتا ہے تمہیں
محضرِ شوق پڑھو‘ محضر سرکار پہ خاک
آپ کیا نقدِ دو عالم سے خریدیں گے اسے
یہ تو دیوانے کا سر ہے سر پندار پہ خاک
عرفان صدیقی

نیلا موسم، پیلی پیلی دُھوپ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 126
ٹھنڈی گلیوں میں چمکیلی دُھوپ
نیلا موسم، پیلی پیلی دُھوپ
آنسو ٹپکے، بھیگ گئے رُخسار
بادل برسے، ہو گئی گیلی دُھوپ
دِلکش لہجے، ٹھنڈے رسمی بول
سُرخ مکانوں پر برفیلی دُھوپ
بڑھتے ہوئے دُشمن جیسی دوپہر
نیزوں جیسی تیز نکیلی دُھوپ
اُجلی برف پہ کھیلے گوری صبح
گہری جھیل میں تیرے نیلی دُھوپ
سیج پہ لیٹی شوخ، سلونی شام
بدن چرائے گئی لَجِیلی دُھوپ
عرفان صدیقی

جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 125
وہی ہیں مرجعِ لفظ و بیاں علیؑ سے کہو
جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو
شکایتِ ہنر چارہ گر علیؑ سے کرو
حکایتِ جگر خونچکاں علیؑ سے کہو
بدل چکا ہے یہی آفتاب سمتِ سفر
سو حالِ گردش سیارگاں علیؑ سے کہو
تمہارے غم کا مداوا انہیں کے ہاتھ میں ہے
نہ جاؤ روبروئے خسرواں علیؑ سے کہو
اُنہیں کے سامنے اپنا مرافعہ لے جاؤ
اُنہیں کے پاس ہے اذنِ اماں علیؑ سے کہو
کرے کمند تعاقب تو ان کو دو آواز
بنے عذاب جو بندِ گراں علیؑ سے کہو
پہاڑ راستہ روکے تو اُن سے عرض کرو
رُکے اگر کوئی جوُئے رواں علیؑ سے کہو
پھر اب کے طائرِ وحشی نہ ہو سکا آزاد
یہ فصلِ گل بھی گئی رائیگاں علیؑ سے کہو
تمہیں مصاف میں نصرت عطا کریں مولاؑ
سبک ہو تم پہ شبِ درمیاں علیؑ سے کہو
پھرے تمہارے خرابے کی سمت بھی رہوار
اُٹھے تمہاری طرف بھی عناں علیؑ سے کہو
اُنہیں خبر ہے کہ کیا ہے ورائے صوت وصدا
لبِ سکوت کی یہ داستاں علیؑ سے کہو
عرفان صدیقی

یہی ریل گاڑی بہت دِن کے بچھڑے ہوؤں کو ملاتی بھی ہے چپ رہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 124
سنو، اِتنی اَفسردہ کیوں ہو، اگر آج ہم کو چھڑاتی بھی ہے چپ رہو
یہی ریل گاڑی بہت دِن کے بچھڑے ہوؤں کو ملاتی بھی ہے چپ رہو
سبھی واقعات اور کردار اِس طرح کی داستانوں میں فرضی سہی
مگر عام سی اِس کہانی میں شاید کوئی بات ذاتی بھی ہے چپ رہو
بچھڑتے ہوئے موسموں کی قطاروں کو آواز دینے سے کیا فائدہ
کہ آتی ہوئی رُت، پرندے بہت اپنے ہمراہ لاتی بھی ہے چپ رہو
کسی شام کو پھر سنیں گے یہی منتظر کان، مانوُس قدموں کی چاپ
سڑک صرف بستی سے باہر ہی جاتی نہیں گھر تک آتی بھی ہے چپ رہو
خفا ہو کے تم سے جدا ہونے والے، اَچانک کہیں پھر ملیں گے کبھی
بہت کچھ یہاں اِختیاری سہی کچھ مگر حادثاتی بھی ہے چپ رہو
عرفان صدیقی

کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 123
تم جو عرفانؔ یہ سب دردِ نہاں لکھتے ہو
کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو
جانتے ہو کہ کوئی موج مٹا دے گی اسے
پھر بھی کیا کیا سرِ ریگِ گزراں لکھتے ہو
جس کے حلقے کا نشاں بھی نہیں باقی کوئی
اب تک اس رشتے کو زنجیرِ گراں لکھتے ہو
یہ بھی کہتے ہو کہ احوال لکھا ہے جی کا
اور یہ بھی کہ حدیثِ دگراں لکھتے ہو
یہ بھی لکھتے ہو کہ معلوم نہیں ان کا پتا
اور خط بھی طرفِ گمشدگاں لکھتے ہو
سایہ نکلے گا جو پیکر نظر آتا ہے تمہیں
وہم ٹھہرے گا جسے سروِ رواں لکھتے ہو
اتنی مدت تو سلگتا نہیں رہتا کچھ بھی
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دھواں لکھتے ہو
کوئی دلدار نہیں تھا تو جتاتے کیا ہو
کیا چھپاتے ہو اگر اس کا نشاں لکھتے ہو
تم جو لکھتے ہو وہ دُنیا کہیں ملتی ہی نہیں
کون سے شہر میں رہتے ہو‘ کہاں لکھتے ہو
عرفان صدیقی

آخر شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 122
دل کا جو حال ہوا دشمن جانی کا نہ ہو
آخر شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو
لوگ کیا جانیں کہ گزرے ہوئے موسم کیا تھے
جب قبا پر کوئی پیوند نشانی کا نہ ہو
ہم کہاں قید میں رہ سکتے تھے لیکن ترا ہاتھ
ہے وہ زنجیر کہ احساس گرانی کا نہ ہو
مسکراتا ہوں تو اکثر یہ خیال آتا ہے
آنکھ میں نم ابھی برسے ہوئے پانی کا نہ ہو
عرض احوال پہ دنیا مرا منہ دیکھتی ہے
جیسے رشتہ کوئی الفاظ و معانی کا نہ ہو
اور کچھ دیر ابھی سیر سر ساحل کر لیں
جب تلک حکم سفینے کو روانی کا نہ ہو
عرفان صدیقی

ہاتھ بندھے ہوں سینے پر دل بیعت سے انکاری ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 121
ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو
ہاتھ بندھے ہوں سینے پر دل بیعت سے انکاری ہو
جشن ظفر ایک اور سفر کی ساعت کا دیباچہ ہے
خیمۂ شب میں رقص بھی ہو اور کوچ کی بھی تیاری ہو
اس سے کم پر رم خور دوں کا کون تعاقب کرتا ہے
یا بانوئے کوئے اودھ ہو یا آہوئے تتاری ہو
دائم ہے سلطانی ہم شہزادوں خاک نہادوں کی
برق و شرر کی مسند ہو یا تختِ بادِ بہاری ہو
ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ
آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو
MERGED ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو
ہاتھ بندھے ہوں سینے پر، دل بیعت سے انکاری ہو
جشنِ ظفر ایک اور سفر کی ساعت کا دیباچہ ہے
خیمۂ شب میں رقص بھی ہو اور کوچ کی بھی تیاری ہو
ہم تو رات کا مطلب سمجھیں، خواب، ستارے، چاند، چراغ
آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو
چشمِ طلب کو منظرِ شب میں اکثر ایسا لگتا ہے
خاکِ گزر کے پیچھے جیسے پیکِ سحر کی سواری ہو
عرفان صدیقی

دِل یہ چاہے ہے کہ شہرت ہو نہ رُسوائی ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 120
ہم سے شاید ہی کبھی اُس کی شناسائی ہو
دِل یہ چاہے ہے کہ شہرت ہو نہ رُسوائی ہو
وہ تھکن ہے کہ بدن ریت کی دیوار سا ہے
دشمنِ جاں ہے، وہ پچھوا ہو کہ پُروائی ہو
ہم وہاں کیا نگہِ شوق کو شرمندہ کریں
شہر کا شہر جہاں اُس کا تماشائی ہو
دَرد کیسا جو ڈبوئے نہ بہا لے جائے
کیا ندی جس میں روانی ہو، نہ گہرائی ہو
کچھ تو ہو جو تجھے ممتاز کرے اوروں سے
جان لینے کا ہنر ہو کہ مسیحائی ہو
تم سمجھتے ہو جسے سنگِ ملامت عرفانؔ
کیا خبر وہ بھی کوئی رسمِ پذیرائی ہو
عرفان صدیقی

علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 119
دِل سوزاں پہ جیسے دست شبنم رکھ دیا دیکھو
علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو
سنا ہے گرد راہِ بوترابؑ آنے کو ہے سر پر
سو میں نے خاک پر تاجِ مئے و جم رکھ دیا دیکھو
سخی داتا سے انعامِ قناعت میں نے مانگا تھا
مرے کشکول میں خوان دو عالم رکھ دیا دیکھو
ملا فرماں سخن کے ملک کی فرماں روائی کا
گدا کے ہاتھ پر آقا نے خاتم رکھ دیا دیکھو
طلسمِ شب مری آنکھوں کا دشمن تھا سو مولاؑ نے
لہو میں اِک چراغِ اِسم اعظم رکھ دیا دیکھو
کھلا آشفتہ جانوں پر علم مشکل کشائی کا
ہوائے ظلم نے پیروں میں پرچم رکھ دیا دیکھو
شہِ مرداںؑ کے در پر گوشہ گیری کا تصدق ہے
کہ میں نے توڑکر یہ حلقۂ رم رکھ دیا دیکھو
مجھے اس طرح نصرت کی نوید آئی کہ دم بھر میں
اُٹھاکر طاق پر سب دفترِ غم رکھ دیا دیکھو
عرفان صدیقی

تم ان اندھیروں میں گلیاں ہماریاں دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 118
ہوائے شب سے چراغوں کی یاریاں دیکھو
تم ان اندھیروں میں گلیاں ہماریاں دیکھو
یہ بستیاں کبھی آکر ہماریاں دیکھو
خراب خاک کی خوش اعتباریاں دیکھو
لہو کی لہر کے پیچھے نکل چلو اُس پار
کھلی ہوئی ہیں ابھی راہداریاں دیکھو
یہاں تو چشم تماشا ہے کام میں مصروف
کبھی نہ آئیں گی ہاتھوں کی باریاں دیکھو
نزول شعر کی ساعت ہے، لفظ ہیں خاموش
اُتر رہی ہیں ہماری سواریاں دیکھو
تمام رات بدن کا طواف کرتا ہے
ہمارے خون کی تب زندہ داریاں دیکھو
ہمارے بعد پڑھو صاحبو ظفر کی غزل
حدود دیکھ چکے، بے کناریاں دیکھو
عرفان صدیقی

خراب لوگوں کی خوش اعتباریاں دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 117
تم اس خرابے میں باتاں ہماریاں دیکھو
خراب لوگوں کی خوش اعتباریاں دیکھو
لہو کی لہر کے پیچھے نکل چلیں اس پار
کھلی ہوئی ہیں ابھی راہ داریاں دیکھو
پرانے لفظ نگاہیں جھکائے بیٹھے ہیں
اُتر رہی ہیں غزل کی سواریاں دیکھو
ابھی تو چشم تماشا ہے کام میں مصروف
ابھی نہ آئیں گی ہاتھوں کی باریاں دیکھو
ہم ایسے خاک نشینوں کو کر رہے ہیں سلام
مصاحبوں کی ذرا خاک ساریاں دیکھو
ہمارے بعد پڑھو صاحبو ظفرؔ کی غزل
حدیں تو دیکھ لیاں بے کناریاں دیکھو
عرفان صدیقی

کبھی مرہم کبھی تلوار بنا دے مجھ کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 116
حرف ہوں، اور پر اسرار بنا دے مجھ کو
کبھی مرہم کبھی تلوار بنا دے مجھ کو
تو نے صحرا میں اگایا ہے تو کچھ کام بھی لے
میں تنک سایہ ہوں‘ چھتنار بنادے مجھ کو
بارش سنگ ہی جب میرا مقدر ہے، تو پھر
اے خدا، شاخِ ثمردار بنا دے مجھ کو
کوئی سچ میرے سلگتے ہوئے سینے میں بھی ڈال
آگ ہی آگ ہوں‘ گلزار بنادے مجھ کو
میں کہاں تک دلِ سادہ کو بھٹکنے سے بچاؤں
آنکھ جب اٹھے گنہگار بنادے مجھ کو
باڑھ میں بہتی ہوئی شاخ کا مصرف کیا ہے
ڈوبتے ہاتھ کی پتوار بنادے مجھ کو
جیسے کاغذ پہ کوئی اسم مرادوں والا
میں بگڑ جاؤں وہ ہر بار بنادے مجھ کو
عرفان صدیقی

جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 115
اُس شناور نے بھنور سے نہ نکالا مجھ کو
جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو
ایک ہلکا سا گماں ہے کہ کہیں تھا کوئی شخص
اور کچھ یاد نہیں اس کا حوالہ مجھ کو
ایسا گمراہ کیا تھا تری خاموشی نے
سب سمجھتے تھے ترا چاہنے والا مجھ کو
عرفان صدیقی

کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 114
خوُشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو
کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو
پتھر تھے کہ گوہر تھے، اَب اِس بات کا کیا ذِکر
اِک موج بہرحال بہا لے گئی ہم کو
پھر چھوڑ دیا ریگِ سرِ راہ سمجھ کر
کچھ دُور تو موسم کی ہوا لے گئی ہم کو
تم کیسے گرے آندھی میں چھتنار درختو!
ہم لوگ تو پتّے تھے، اُڑا لے گئی ہم کو
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اُترتے
سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دُعا لے گئی ہم کو
اُس شہر میں غارت گرِ اِیماں تو بہت تھے
کچھ گھر کی شرافت ہی بچا لے گئی ہم کو
عرفان صدیقی

شہر کا شہر ہی مقتول ہے مارے کس کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 113
موج خوں سوچ میں ہے پار اُتارے کس کو
شہر کا شہر ہی مقتول ہے مارے کس کو
اپنی ہی تیزئ شمشیر سے شکوہ ہے اُسے
کس کو زنجیر کرے، دار پہ وارے کس کو
ہر طرف کج کلہاں ہدیہ سر چاہتے ہیں
دست بے مایہ یہاں نذر گزارے کس کو
کوئی بستی سے نکلتا نہیں نصرت کے لیے
گھر کسے یاد کرے دشت پکارے کس کو
دیدۂ گریہ طلب، پشت فرس خالی ہے
تو نے دیکھا تھا ابھی نہر کنارے کس کو
عرفان صدیقی

کھول یہ بندِ وفا اور رہا کر اس کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 112
ڈار سے اس کی نہ عرفانؔ جدا کر اس کو
کھول یہ بندِ وفا اور رہا کر اس کو
نظر آنے لگے اپنے ہی خط و خالِ زوال
اور دیکھا کرو آئینہ بنا کر اس کو
آخرِ شب ہوئی آغاز کہانی اپنی
ہم نے پایا بھی تو اک عمر گنوا کر اس کو
دیکھتے ہیں تو لہو جیسے رگیں توڑتا ہے
ہم تو مر جائیں گے سینے سے لگا کر اس کو
تیرے ویرانے میں ہونا تھا اجالا نہ ہوا
کیا ملا اے دلِ سفّاک جلا کر اس کو
اور ہم ڈھونڈتے رہ جائیں گے خوشبو کا سراغ
ابھی لے جائے گی اِک موج اُڑا کر اس کو
عرفان صدیقی

گم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 111
اَپنے بھولے ہوئے منظر کی طرف لوٹ چلو
گم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو
تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد
شام ہونے کو ہے، اَب گھر کی طرف لوٹ چلو
اُس سے بچھڑے تو تمہیں کوئی نہ پہچانے گا
تم تو پرچھائیں ہو، پیکر کی طرف لوٹ چلو
ریت کی ہمسفری صرف کناروں تک ہے
اجنبی موجو، سمندر کی طرف لوٹ چلو
کتنے بے مہر ہیں اِس شہر کے قاتل عرفانؔ
پھر اُسی کوچۂ دِلبر کی طرف لوٹ چلو
عرفان صدیقی

لفظ برچھی ہے اَگر تاک کے مارو یارو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 110
قرض دَم توڑتے جذبوں کا اُتارو یارو
لفظ برچھی ہے اَگر تاک کے مارو یارو
دُور ہی دُور سے آواز نہ دے کر رہ جاؤ
بڑھتے ہاتھوں سے بھی یاروں کو پکارو، یارو
اُس ستارے سے اُدھر بھی بہت آبادی ہے
اَپنے باہر بھی ذرا وقت گزارو، یارو
سروِ قامت نہ سہی، سنگِ ملامت ہی سہی
سر ملا ہے تو کسی چیز پہ وارو، یارو
لوگ اِتنے ہی وفادار ہیں جتنے تم ہو
تم نہ جیتو کبھی یہ کھیل، نہ ہارو یارو
عرفان صدیقی

ہم پہ تو دنیا کے ہر غم کا کرم ہے دوستو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 109
ان کا غم تو خیر پھر بھی ان کا غم ہے دوستو
ہم پہ تو دنیا کے ہر غم کا کرم ہے دوستو
ان سے ترک آرزو کو اک زمانہ ہو گیا
پھر بھی قائم عاشقی کا یہ بھرم ہے دوستو
کیا کسی کو بھولنا آسان ہے تم ہی بتاؤ
تم کو اپنے دلرباؤں کی قسم ہے دوستو
ہم رہے ہیں مدتوں آوارۂ دشت و چمن
پھر بھی پیروں میں وہی زنجیر رم ہے دوستو
عرفان صدیقی

یہ عجب نرگس بیمار ہے خاکم بدہن

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 108
ہر طرف کشتوں کا انبار ہے خاکم بدہن
یہ عجب نرگس بیمار ہے خاکم بدہن
کچھ نہ کچھ ہوش ہے باقی ابھی دیوانوں میں
یہ تو ابرو نہیں تلوار ہے خاکم بدہن
قیدخانے میں یہ مہتاب کہاں سے آیا
کیا کوئی روزن دیوار ہے خاکم بدہن
صید کرتا ہے کسی اور کی مرضی سے مجھے
خود بھی صیاد گرفتار ہے خاکم بدہن
یہ کوئی طنز نہیں تیری مسیحائی پر
عشق کیا جان کا آزار ہے خاکم بدہن
جب تلک گرد نہ چہرے سے ہٹائی جائے
صیقل آئنہ بے کار ہے خاکم بدہن
کوئی شے خاک پہ افتادہ ہے دستار کے ساتھ
یہ تو شاید سرپندار ہے خاکم بدہن
عرفان صدیقی

بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 107
سراب دشت تجھے آزمانے والا کون
بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون
سواد شام یہ شہزادگان صبح کہاں
سیاہ شب میں یہ سورج اُگانے والا کون
یہ ریگزار میں کس حرف لازوال کی چھاؤں
شجر یہ دشت زیاں میں لگانے والا کون
یہ کون راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا ابھی
اور اب یہ راہ کے پتھر ہٹانے والا کون
یہ کون ہے کہ جو تنہائی پر بھی راضی ہے
یہ قتل گاہ سے واپس نہ جانے والا کون
بدن کے نقرئی ٹکڑے لہو کی اشرفیاں
اِدھر سے گزرا ہے ایسے خزانے والا کون
یہ کس کے نام پہ تیغ جفا نکلتی ہوئی
یہ کس کے خیمے، یہ خیمے جلانے والا کون
اُبھرتے ڈوبتے منظر میں کس کی روشنیاں
کلام حق سر نیزہ سنانے والا کون
ملی ہے جان تو اس پر نثار کیوں نہ کروں
تو اے بدن مرے رستے میں آنے والا کون
عرفان صدیقی

اے زمیں توُ اس اندھیرے کا ستارا ہے کہ ہم

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 106
بیکراں رات میں توُ انجمن آراء ہے کہ ہم
اے زمیں توُ اس اندھیرے کا ستارا ہے کہ ہم
اُس نے پوچھا تھا کہ سر بیچنے والا ہے کوئی
ہم نے سر نامۂ جاں نذر گزارا ہے کہ ہم
کیا خبر کون زوالِ شبِ ہجراں دیکھے
ہاں، چراغِ شبِ ہجراں کا اشارا ہے کہ ہم
تو ادھر کس کو ڈبونے کے لیے آئی تھی
دیکھ اے موج بلاخیز، کنارا ہے کہ ہم
آج تک معرکۂ صبر و ستم جاری ہے
کون جانے یہ تماشا اُسے پیارا ہے کہ ہم
عرفان صدیقی

کسی گزرے ہوئے موسم کے نمائندہ ہم

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 105
یاد آتی ہوئی خوشبو کی طرح زندہ ہم
کسی گزرے ہوئے موسم کے نمائندہ ہم
اڑ گئے آنکھ سے سب لمحۂ موجود کے رنگ
رہ گئے نقش گرِ رفتہ و آئندہ ہم
حرفِ ناگفتہ کا خواہاں کوئی ملتا ہی نہیں
اور اسی گوہرِ ارزاں کے فروشندہ ہم
ایسے آشوب میں دکھ دینے کی فرصت کس کو
ہیں بہت لذتِ آزار سے شرمندہ ہم
اس اندھیرے میں کہ پل بھر کا چمکنا بھی محال
رات بھر زندہ و رخشندہ و تابندہ ہم
اپنا اس حرف و حکایت میں ہنر کچھ بھی نہیں
بولنے والا کوئی اور نگارندہ ہم
عرفان صدیقی

اک غزل دشت کے ساربانوں کے نام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 104
ایک خط آج اگلے زمانوں کے نام
اک غزل دشت کے ساربانوں کے نام
ایک خیمہ زمیں پر کھجوروں کے پاس
ایک نیزہ بلند آسمانوں کے نام
ایک حرفِ خبر‘ ساریہ کے لیے
چشمِ بیدار کالی چٹانوں کے نام
نہر کے نام جاگیرِ خوں، دوستو
دولتِ جاں کڑکتی کمانوں کے نام
تشنگی میرے سوکھے گلے کا نصیب
دودھ کی چھاگلیں میہمانوں کے نام
میری آنکھیں مرے آشیانوں کی سمت
میرے پر میری اونچی اڑانوں کے نام
کتنی موجوں پہ میرے سفینے رواں
کتنے ساحل مرے بادبانوں کے نام
ایک پودا مرے کوئے جاں کا نشاں
ایک محراب میرے مکانوں کے نام
سلطنت‘ کھلنے والی کمندوں کا اجر
اپنے بچوں کا سکھ بے زبانوں کے نام
آج جو آگ سے آزمائے گئے
کل کی ٹھنڈک ان آشفتہ جانوں کے نام
لکھ رہی ہیں سلگتی ہوئی اُنگلیاں
دھوپ کے شہر میں سائبانوں کے نام
عرفان صدیقی

اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 103
یہ درد رات مرے بے خبر کے نام تمام
اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام
کبھی جو زحمتِ کارِ رفو نہیں کرتا
ہمارے زخم اسی چارہ گر کے نام تمام
وہ ایک خواب سہی سایۂ سراب سہی
یہ عمر بھر کی تھکن اک شجر کے نام تمام
کسی نے بند کیا ہم پہ اپنے نام کا رزق
تو ہم بھی بھول گئے خشک و تر کے نام تمام
یہ ربطِ حرف و حکایت اسے قبول نہیں
تو اب ہمارے یہ خط نامہ بر کے نام تمام
یہ پھول جس نے کھلائے ہمارے پت جھڑ میں
اسی کے موسمِ برگ و ثمر کے نام تمام
اس ایک نام نے بخشا ہے جو خزانۂ درد
وہ ہم نے وقف کیا بحر و بر کے نام تمام
عرفان صدیقی

لشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 102
ایک اور دِن شہید ہوا، ہو گئی ہے شام
لشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام
مدّت ہوئی کہ سر پہ سرابوں کی دُھوپ ہے
دشتِ طلب میں ہم سے خفا ہو گئی ہے شام
لو دے اُٹھا ہے دستِ دُعا پر شفق کا رنگ
تیری ہتھیلیوں پہ حنا ہو گئی ہے شام
میرے لبوں سے مل کے الگ کیا ہوئی وہ زُلف
جلتی دوپہریوں سے جدا ہو گئی ہے شام
عارض کی دُھوپ، زُلف کے سائے، بدن کی آنچ
ہنگامہ بن کے دِل میں بپا ہو گئی ہے شام
غربت کی دھول، کیسے کسی کو دِکھائی دے
میرے برہنہ سر کی رِدا ہو گئی ہے شام
سورج کا خوُن بہنے لگا پھر ترائی میں
پھر دستِ شب میں تیغِ جفا ہو گئی ہے شام
عرفان صدیقی

کہ آج دیر سے نکلا مرا ستارۂ شام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 101
عجب نہیں وہ سمجھ لے یہ استعارۂ شام
کہ آج دیر سے نکلا مرا ستارۂ شام
یہ کون میرے بدن میں طلوع ہونے لگا
ابھی لہو کو ملا بھی نہیں اشارۂ شام
چھپا نظر سے جو میرا ہلالِ ماہِ وصال
اتر گیا مرے دل میں سیاہ پارۂ شام
سمٹتی دھوپ ترے روپ کی سہیلی تھی
پنھا گئی ترے کانوں میں گوشوارۂ شام
ہر آفتاب کو آخر غروب ہونا ہے
سو ہم بھی ڈوب رہے ہیں سرِ کنارۂ شام
عرفان صدیقی

دل میں سناٹا تو باہر کی فضا بھی خاموش

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 100
ڈوبتی شام پرندوں کی نوا بھی خاموش
دل میں سناٹا تو باہر کی فضا بھی خاموش
دیکھتے دیکھتے دروازے نظر سے اوجھل
بولتے بولتے تقش کف پا بھی خاموش
رات کی رات وہی رنگ ترنگوں کی پُکار
صبح تک خون بھی خاموش، حنا بھی خاموش
شہر خوابیدہ میں فریاد نہ عکس فریاد
آخری سلسلۂ صوت و صدا بھی خاموش
فرض سے کوئی سبک دوش نہیں ہو پاتا
سر تسلیم بھی چپ، تیغ جفا بھی خاموش
کوئی ہے تیرگئ شام کا مجرم کہ یہاں
ہے چراغوں کی طرح موج ہوا بھی خاموش
آج تک اہل ستم ہی سے شکایت تھی مجھے
سو مرے باب میں ہیں اہل وفا بھی خاموش
اب دُعائیں نہ صحیفے سر دنیائے خراب
میں بھی خاموش ہوا میرا خدا بھی خاموش
MERGED دیکھتے دیکھتے دروازے نظر سے اوجھل
بولتے بولتے نقشِ کف پا بھی خاموش
رات کی رات وہی رنگ ترنگوں کی پکار
صبح تک خون بھی خاموش‘ حنا بھی خاموش
شہرِ خوابیدہ میں فریاد‘ نہ عکسِ فریاد
آخری سلسلۂ صوت و صدا بھی خاموش
فرض سے عہدہ بر آ کوئی نہ ہونے پایا
سرِ تسلیم بھی چپ‘ تیغ جفا بھی خاموش
کون ہے تیرگی شام کا مجرم کہ یہاں
ہے چراغوں کی طرح موجِ ہوا بھی خاموش
آج تک اہلِ ستم ہی سے شکایت تھی مجھے
اب مرے باب میں ہیں اہلِ وفا بھی خاموش
اب دُعائیں نہ صحیفے سرِ دُنیائے خراب
میں بھی خاموش ہوا‘ میرا خدا بھی خاموش
عرفان صدیقی

اِس برس بھی ہے اُسی طرح سہانی بارش

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 99
پھر جگاتی ہے وہی ٹیس پُرانی بارش
اِس برس بھی ہے اُسی طرح سہانی بارش
سسکیاں بھرتی رہی رات ہوا آنگن میں
رات بھر کہتی رہی کوئی کہانی بارش
آگ بن کر کبھی شریانوں میں بہتا ہوا خون
کبھی آنکھوں سے برستا ہوا پانی بارش
اَب تو یہ پیڑ ٹپکتا ہے مری چھت کی طرح
دو گھڑی روک ذرا اپنی روانی بارش
سبز پانی نے بدل ڈالا ہے منظر کا طلسم
رنگ کوئی ہو، کیے دیتی ہے دَھانی، بارش
چاہنے والی، مرے درد جگانے والی
میری محبوب، مری دشمنِ جانی، بارش
عرفان صدیقی

اب تو لوٹے گی پرندوں کی قطار اگلے برس

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 98
تو انہیں یاد آئے گی اے جوئبار اگلے برس
اب تو لوٹے گی پرندوں کی قطار اگلے برس
اور کچھ دن اس سے ملنے کے لیے جاتے رہو
بستیاں بس جائیں گی دریا کے پار اگلے برس
تم تو سچے ہو مگر دل کا بھروسہ کچھ نہیں
بجھ نہ جائے یہ چراغِ انتظار اگلے برس
پہلے ہم پچھلی رتوں کے درد کا کرلیں حساب
اس برس کے سارے زخموں کا شمار اگلے برس
میں نئے موسم میں برگِ تازہ بن کر آؤں گا
پھر ملیں گے اے ہوائے شاخسار اگلے برس
عرفان صدیقی

ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 97
سرِ تسلیم ہے خم اذنِ عقوبت کے بغیر
ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر
سر برہنہ ہوں تو کیا غم ہے کہ اب شہر میں لوگ
برگزیدہ ہوئے دستارِ فضیلت کے بغیر
دیکھ تنہا مری آواز کہاں تک پہنچی
کیا سفر طے نہیں ہوتے ہیں رفاقت کے بغیر
ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
عرفان صدیقی

اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 96
درد کی شب گزر گئی تیرے خیال کے بغیر
اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر
وقت کے ساتھ طے کیے ہم نے عجیب مرحلے
کچھ مہ و سال کے بہ فیض، کچھ مہ و سال کے بغیر
میرے سکوت نے عیاں رنجِ کہن کیا نہیں
میں نے سخن کیا نہیں پرسشِ حال کے بغیر
تیغِ ستم کے سامنے ہاتھ کو ڈھال کر دیا
ہم نے کمال کردیا دستِ کمال کے بغیر
چار طرف رمیدہ خو، پائے ہوا، صدائے ہو
میرے بغیر لکھنؤ، دشت غزال کے بغیر
عرفان صدیقی

یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 95
صدائے شام سر آب جو ہے کتنی دیر
یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر
بدن دریدہ شجر‘ مہربان سوزنِ برگ
مگر یہ زحمتِ دستِ رفو ہے کتنی دیر
وہ ابر پھر کبھی آیا ادھر تو کیا حاصل
میں سبزہ ہوں مری تابِ نمو ہے کتنی دیر
مرے زوال کے ساتھی‘ مرے ستارۂ ہجر
افق کے آخری منظر میں تو ہے کتنی دیر
پھر اک عجیب تماشا رہے گا صدیوں تک
یہ کارزارِ کمان و گلو ہے کتنی دیر
نکل چلو کہ یہی وقت ہے رہائی کا
ہوا کی لہر‘ بدن کا لہو ہے کتنی دیر
غبارِ شب مرے چہرے پہ چھایا جاتا ہے
یہ آئینہ بھی ترے روبرو ہے کتنی دیر
صہبا وحید کے نام
عرفان صدیقی

تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 94
بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کر
تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر
دَرخت ہوں تو کبھی بیٹھ میرے سائے میں
میں سبزہ ہوں تو کبھی مجھ کو پائمال بھی کر
یہ تمکنت کہیں پتھر بنا نہ دے تجھ کو
توُ آدمی ہے، خوشی بھی دِکھا، ملال بھی کر
میں چاہتا ہوں کہ اَب جو بھی جی میں آئے کروں
تجھے بھی میری اِجازت ہے جو خیال بھی کر
پگھل رہی ہیں اس آشوبِ وقت میں صدیاں
وہ کہہ رہا ہے کہ تو فکرِ ماہ و سال بھی کر
عرفان صدیقی

کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 93
روشن ہوا یہ شام کے منظر کو دیکھ کر
کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر
نہر گلو سے پیاسوں نے پہرے اُٹھا لیے
صحرا میں تشنہ کامئ خنجر کو دیکھ کر
جاں دادگان صبر کو فردوس کے سوا
کیا دیکھنا تھا سبط پیمبر کو دیکھ کر
سر کی ہوائے دشت نے گلبانگ لااِلٰہ
اوج سناں پہ مصحف اطہر کو دیکھ کر
آخر کھلا کہ بازوئے، نصرت قلم ہوئے
دوش ہوا پہ رایت لشکر کو دیکھ کر
ہے حرف حرف نقش وفا بولتا ہوا
آئینے چپ ہیں بیت ثناگر کو دیکھ کر
دل میں مرے یہ جوشِ ولا ہے خدا کی دین
حیرت نہ کر صدف میں سمندر کو دیکھ کر
عرفان صدیقی

چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 92
الٹ گیا ہے ہر اک سلسلہ نشانے پر
چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر
غزل میں اس کو ستم گر کہا تو روٹھ گیا
چلو‘ یہ حرفِ ملامت لگا نشانے پر
میں اپنے سینے سے شرمندہ ہونے والا تھا
کہ آگیا کوئی تیرِ جفا نشانے پر
خدا سے آخری رشتہ بھی کٹ نہ جائے کہیں
کہ اب کے ہے مرا دستِ دُعا نشانے پر
وہ شعلہ اپنی ہی تیزی میں جل بجھا ورنہ
رکھا تھا خیمۂ صبر و رضا نشانے پر
میں انتظار میں ہوں کون اسے شکار کرے
بہت دنوں سے ہے میری نوا نشانے پر
عرفان صدیقی

ہے ستم گرمئ بازار خریداروں پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 91
یورشِ جلوہ ہے آنکھوں کے گنہگاروں پر
ہے ستم گرمئ بازار خریداروں پر
رُوپ کی دُھوپ کہاں جاتی ہے معلوم نہیں
شام کس طرح اُتر آتی ہے رُخساروں پر
تو ہی بول، اَے مرے بے جرم لہو کی تحریر
کوئی دھبّہ نہیں چلتی ہوئی تلواروں پر
تم تو خیر آگ کے دریا سے گزر آئے ہو
اور وہ لوگ جو چلتے رہے اَنگاروں پر
شام سنولائے تو پلکوں پہ سجے دَرد کا شہر
آج یہ دُھوپ تو جم سی گئی میناروں پر
کتنا بے رَحم ہے برسات کا موسم عرفانؔ
میں نے کچھ نام لکھے تھے اُنہیں دِیواروں پر
عرفان صدیقی

شب میں حیران ہوا خون کی طغیانی پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 90
کب سے راضی تھا بدن بے سر و سامانی پر
شب میں حیران ہوا خون کی طغیانی پر
ایک چہکار نے سناٹے کا توڑا پندار
ایک نو برگ ہنسا دشت کی ویرانی پر
کل بگولے کی طرح اس کا بدن رقص میں تھا
کس قدر خوش تھی مری خاک پریشانی پر
میرے ہونٹوں سے جو سورج کا کنارہ ٹوٹا
بن گیا ایک ستارہ تری پیشانی پر
کون سا شہرِ سبا فتح کیا چاہتا ہوں
لوگ حیراں ہیں مرے کارِ سلیمانی پر
عرفان صدیقی

وہی ہوا کہ مرا تیر اُچٹ گیا آخر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 89
بہت حسیں تھے ہرن دھیان بٹ گیا آخر
وہی ہوا کہ مرا تیر اُچٹ گیا آخر
ملی نہ جب کوئی راہِ مفر تو کیا کرتا
میں ایک، سب کے مقابل میں ڈٹ گیا آخر
بس اِک اُمید پہ ہم نے گزار دی اِک عمر
بس ایک بوند سے کُہسار کٹ گیا آخر
بچا رہا تھا میں شہ زور دُشمنوں سے اُسے
مگر وہ شخص مجھی سے لپٹ گیا آخر
وہ اُڑتے اُڑتے کہیں دُور اُفق میں ڈوب گیا
تو آسمان پروں میں سمٹ گیا آخر
کھلا کہ وہ بھی کچھ ایسا وفا پرست نہ تھا
چلو، یہ بوجھ بھی سینے سے ہٹ گیا آخر
ہمارے داغ چھپاتیں روایتیں کب تک
لباس بھی تو پُرانا تھا، پھٹ گیا آخر
بڑھا کے ربطِ وَفا اَجنبی پرندوں سے
وہ ہنس اپنے وطن کو پلٹ گیا آخر
عرفان صدیقی

خانۂ شیر دہاں ہے یہ جہاں بھی شاید

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 88
اب نہ مل پائیں مرے ہم نفساں بھی شاید
خانۂ شیر دہاں ہے یہ جہاں بھی شاید
تن پہ یہ خاک گزر دیکھ کے یاد آتا ہے
ساتھ میں تھی کوئی موج گزراں بھی شاید
کیا عجب ہے میں اس آشوب میں زندہ رہ جاؤں
وہم ہو تیرا یقیں میرا گماں بھی شاید
ان کمندوں سے زیادہ ہو مری وحشت جاں
اور میں صید نہ ہو پاؤں یہاں بھی شاید
کوئی آواز نہیں ہے پس دیوار سخن
عشق نے چھوڑ دیا ہے یہ مکاں بھی شاید
رتجگے کرتے ہوئے دیکھ رہی ہو گی مجھے
اسی جنگل میں صف رہزناں بھی شاید
عرفان صدیقی

تھوڑی ہی دیر میں یہ ملاقات بھی ختم ہو جائے گی داستاں کی طرح

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 87
سوچتا ہوں کہ محفوظ کر لوں اُسے اَپنے سینے میں لفظ و بیاں کی طرح
تھوڑی ہی دیر میں یہ ملاقات بھی ختم ہو جائے گی داستاں کی طرح
یہ رَفاقت بہت مختصر ہے مری ہمسفر لا مرے ہاتھ میں ہاتھ دے
تو ہوائے سرِ رہ گزر کی طرح، میں کسی نکہتِ رائیگاں کی طرح
حال ظالم شکاری کی صورت مجھے وقت کی زین سے باندھ کر لے چلا
میرا ماضی مرے ساتھ چلتا رہا دُور تک ایک مجبور ماں کی طرح
سنگِ آزار کی بارشیں تیز تھیں اور بچنے کا کوئی طریقہ نہ تھا
رَفتہ رَفتہ سبھی نے سروں پر کوئی بے حسی تان لی سائباں کی طرح
خواہشوں کے سمندر سے اِک موج اُٹھی اور سیل بَلاخیز بنتی گئی
جسم کشتی کی مانند اُلٹنے لگے، پیرہن اُڑ گئے بادباں کی طرح
عرفان صدیقی

کس کو آواز لگاتا ہے کھنڈر کا وارث

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ایک آسیب ہے ٹوٹے ہوئے گھر کا وارث
کس کو آواز لگاتا ہے کھنڈر کا وارث
پھر کوئی خیمہ کسی اذنِ عقوبت کا شکار
پھر کوئی نیزہ کسی دولتِ سر کا وارث
کب مرے قریۂ ظلمات پہ ہو گا روشن
میرا مہتاب‘ مرے دیدۂ تر کا وارث
جانے اس دشت میں بھٹکے گا اکیلا کب تک
میرا ناقہ مری جاگیرِ سفر کا وارث
رفتگاں وعدہ شکن ابرِ گریزاں کی طرح
اور اک طائرِ مجروح شجر کا وارث
حکم ہے مجھ کو خرابوں کی نگہبانی کا
میں کسی موسم بے برگ و ثمر کا وارث
عرفان صدیقی

اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 85
خاک سے لہر سی اٹھتی ہے لہو کی صورت
اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت
کس طرح راہ بدل دے گا یہ چھوٹا ہوا تیر
میں اگر دیکھ بھی لوں اپنے عدو کی صورت
اب بھی سنیے تو اک آسیبِ صدا باقی ہے
شہر ویران نہیں وادیِ ہو کی صورت
زندگی، تیری کرامت ہے کہ ہر زخم کے بعد
کوئی حیلہ نکل آتا ہے رفو کی صورت
آج اس لذتِ یکجائی سے ہولیں سیراب
کل پھر ایجاد کریں گے من و تو کی صورت
عرفان صدیقی

کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 84
بام و در پر ایک سنّاٹا عزا کرتا تھا رات
کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات
شہر ہوُ میں ایک ویرانی کا لشکر صف بہ صف
ہر طرف تاراج بازار و سرا کرتا تھا رات
اس خرابی کے مکاں میں ایک سایہ ایک نقش
ہم کلامی مجھ سے بے صوت و صدا کرتا تھا رات
اک غبارِ ساعتِ رفتہ کسی محراب سے
میرے چہرے میرے آگے رونما کرتا تھا رات
طاقِ تنہائی سے اٹھتا تھا چراغوں کا دھواں
اور مرے ہونے سے مجھ کو آشنا کرتا تھا رات
وہم دکھلاتا تھا مجھ کو روشنی کی تیرگی
وہم ہی میرے اندھیرے پر جلا کرتا تھا رات
روشنی کے ایک ربطِ رائیگاں کے باوجود
اک خلا آنکھوں سے منظر کو جدا کرتا تھا رات
تھا مرے باطن میں کوئی قصہ گو‘ وہ کون تھا
مجھ سے اک طرفہ حکایت ماجرا کرتا تھا رات
ہو گیا تھا تاجِ سر میرے لیے سودائے سر
سایۂ شب سر بسر کارِ ہما کرتا تھا رات
زہر شب میں کوئی دارو کارگر ہوتی نہ تھی
ہاں مگر اک زہر شب جو فائدہ کرتا تھا رات
جسم میں میرا لہو درویشِ گرداں کی طرح
لحظہ لحظہ پائے کوبی جا بجا کرتا تھا رات
زرد پتوں کے بکھرنے کی خبر دیتا ہوا
رقص میرے صحن میں پیکِ ہوا کرتا تھا رات
میں کوئی گوشہ گزیں‘ ترکِ وفا کا نوحہ گر
دیر تک تحریر تعویذ وفا کرتا تھا رات
کیا بشارت غرفۂ حیرت سے کرتی تھی نزول
کیا کرامت میرا حرفِ نارسا کرتا تھا رات
بند میرے کھولتا تھا کوئی آکر خواب میں
جاگتے میں پھر مجھے بے دست و پا کرتا تھا رات
رنگ روشن تھا سوادِ جاں میں اک تصویر کا
ایک چہرہ میری آنکھیں آئینہ کرتا تھا رات
مجھ کو اپنا ہی گماں ہوتا تھا ہر تمثال پر
کوئی مجھ سے کاروبارِ سیمیا کرتا تھا رات
صبح سورج نے اسی حجرے میں پھر پایا مجھے
میں کہاں تھا کیا خبر عرفانؔ کیا کرتا تھا رات
عرفان صدیقی

اب تک آیا بھی نہیں تھا ابھی پیمانۂ لب

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 83
اک ہوا آئی کہ برہم ہوا مے خانۂ لب
اب تک آیا بھی نہیں تھا ابھی پیمانۂ لب
رات کی بات کوئی اس کے سوا یاد نہیں
قصۂ شب میں اگر سچ ہے تو افسانۂ لب
جسم سے روح تلک راہ نوردی کے لیے
ہو عنایت مرے ہونٹوں کو بھی پروانۂ لب
کاسۂ لب میں کہاں ڈھونڈ رہی ہو اس کو
ہم نے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے دردانۂ لب
جنبشِ لب ہو تو نقدِ دل و جاں دیتے ہیں
ہم نئے باج گذاروں میں ہیں سلطانۂ لب
کچھ نہ کچھ حرفِ عنایت کا صلہ دیں تم کو
اذن ہوجائے تو حاضر کریں نذرانۂ لب
وہ تو یہ کہیے کہ اک نام سخن میں آیا
پھول کھلتے ہی کہاں تھے سرِ ویرانۂ لب
عرفان صدیقی

تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 82
میں چلا تھا سوچ کے اور کچھ کہ کچھ اور دھیان میں آگیا
تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا
نہ وہ خواب ہیں نہ سراب ہیں نہ وہ داغ ہیں نہ چراغ ہیں
یہ میں کس گلی میں پہنچ گیا، یہ میں کس مکان میں آگیا
یہ لگن تھی خاک اُڑائیے، کبھی بارشوں میں نہائیے
وہ ہوا چلی وہ گھٹا اُٹھی تو میں سائبان میں آگیا
نہ سخن حکایت حال تھا، نہ شکایتوں کا خیال تھا
کوئی خار دشت ملال تھا جو مری زبان میں آگیا
عرفان صدیقی

دار تک مجھ کو غرور بے گناہی لے گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 81
میں فقط خاموش ہونٹوں کی گواہی لے گیا
دار تک مجھ کو غرور بے گناہی لے گیا
کون کہتا ہے کہ ان آنکھوں میں جادو ہی نہیں
توڑ دی اس نے کمند اور بادشاہی لے گیا
لوٹنے والا نہیں تھا، جیتنے والا تھا وہ
اس نے جو شئے بھی مرے خیمے سے چاہی لے گیا
MERGED وہ شکاری ہی سہی، سودا خسارے کا نہ تھا
کھول دی اس نے کمند اور یاد ساری لے گیا
عرفان صدیقی

وہ مہرباں پسِ گردِ سفر چلا بھی گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 80
مجھے بچا بھی لیا، چھوڑ کر چلا بھی گیا
وہ مہرباں پسِ گردِ سفر چلا بھی گیا
وگرنہ تنگ نہ تھی عشق پر خدا کی زمین
کہا تھا اس نے تو میں اپنے گھر چلا بھی گیا
کوئی یقیں نہ کرے میں اگر کسی کو بتاؤں
وہ انگلیاں تھیں کہ زخمِ جگر چلا بھی گیا
مرے بدن سے پھر آئی گئے دنوں کی مہک
اگرچہ موسمِ برگ و ثمر چلا بھی گیا
ہوا کی طرح نہ دیکھی مری خزاں کی بہار
کھلا کے پھول مرا خوش نظر چلا بھی گیا
عجیب روشنیاں تھیں وصال کے اس پار
میں اس کے ساتھ رہا اور ادھر چلا بھی گیا
کل اس نے سیر کرائی نئے جہانوں کی
تو رنجِ نارسیِ بال و پر چلا بھی گیا
عرفان صدیقی

میری پگڑی گر گئی لیکن مرا سر بچ گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 79
اک ذرا خم ہو کے میں پیشِ ستم گر بچ گیا
میری پگڑی گر گئی لیکن مرا سر بچ گیا
زندہ رہنے کی خوشی کس لاش سے مل کر مناؤں
کس کھنڈر کو جاکے مژدہ دوں مرا گھر بچ گیا
پیاس کے صحرا میں بچوں پر جو کچھ بیتی نہ پوچھ
ہاں خدا کا شکر‘ بازوئے برادر بچ گیا
سچ تو یہ ہے دوستو‘ بیکار ہیں سارے حصار!
لوگ گھر میں لٹ گئے‘ میں گھر کے باہر بچ گیا
چاہیے کوئی نہ کوئی راستہ سیلاب کو
سرپھری دیوار آخر بہ گئی‘ در بچ گیا
زندگی کا مول وہ بھی اس سے کم کیا مانگتے
میں بھی اپنے قاتلوں کو جان دے کر بچ گیا
عرفان صدیقی

بے وطن جنگل میں بے جرم و خطا مارا گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 78
حشر برپا تھا کہ سبط مصطفی مارا گیا
بے وطن جنگل میں بے جرم و خطا مارا گیا
چشمۂ خوں سے بجھاکر لشکر اعدا کی پیاس
بادشاہ کشور صبر و رضا مارا گیا
برگ گل سے کون سا خطرہ کماں داروں کو تھا
پھول کی گردن میں کیوں تیر جفا مارا گیا
گونج کر گم ہو گئی صحرا میں اکبر کی اذاں
اُڑتے اُڑتے طائر صوت و صدا مارا گیا
کیسے کیسے سرفروش اُس مہرباں کے ساتھ تھے
ایک ایک آخر سر راہ وفا مارا گیا
تم نکل کر کس کا استقبال کرنے آئے ہو
شہر والو، دشت میں وہ قافلہ مارا گیا
چھٹ گیا آشفتگاں کے ہاتھ سے دامان صبر
سینۂ صد چاک پر دست دعا مارا گیا
پردۂ خیمہ تک آنے ہی کو تھی موج فرات
ناگہاں سقائے بیت مرتضیٰ مارا گیا
زندہ ہم سب نوحہ گر بس یہ خبر سننے کو ہیں
لٹ گئے رہزن، گروہ اشقیا مارا گیا
عرفان صدیقی

وہ کچی نیند کی صورت مجھے اُچاٹ گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 77
میں اُس کی آنکھوں کا اک خواب تھا، مگر اِک رات
وہ کچی نیند کی صورت مجھے اُچاٹ گیا
سنا تھا میں نے کہ فطرت خلاء کی دشمن ہے
سو وہ بدن مری تنہائیوں کو پاٹ گیا
مرے گماں نے مرے سب یقیں جلا ڈالے
ذرا سا شعلہ، بھری بستیوں کو چاٹ گیا
لچک کے ملنا تھا اُس تیز دھار سے عرفانؔ
تنے ہوئے تھے تو یہ وار تم کو کاٹ گیا
عرفان صدیقی

میری بستی کسی صحرا میں بسادی گئی کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 76
وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اُٹھا دی گئی کیا
میری بستی کسی صحرا میں بسادی گئی کیا
وہی لہجہ ہے مگر یار ترے لفظوں میں
پہلے اک آگ سی جلتی تھی‘ بجھا دی گئی کیا
جو بڑھی تھی کہ کہیں مجھ کو بہا کر لے جائے
میں یہیں ہوں تو وہی موج بہادی گئی کیا
پاؤں میں خاک کی زنجیر بھلی لگنے لگی
پھر مری قید کی میعاد بڑھادی گئی کیا
دیر سے پہنچے ہیں ہم دور سے آئے ہوئے لوگ
شہر خاموش ہے‘ سب خاک اُڑا دی گئی کیا
عرفان صدیقی

یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 75
خاک میں اس کی اگر خون بھی شامل ہے تو کیا
یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا
دل پہ چل جائے تو جادو ہے تری عشوہ گری
صرف گردن میں ترا ہاتھ حمائل ہے تو کیا
آنکھ ہر لحظہ تماشائے دگر چاہتی ہے
عکس تیرا ہی سرِ آئینۂ دل ہے تو کیا
ساری آوازوں کا انجام ہے چپ ہوجانا
نعرۂ ہوُ ہے تو کیا، شورِ سلاسل ہے تو کیا
عشق میں جان کہ تن کوئی تو کندن بن جائے
ورنہ یہ راکھ ہی اس آگ کا حاصل ہے تو کیا
میرے اندر ابھی محفوظ ہے اک لوحِ طلسم
اک طلسم اور ابھی میرے مقابل ہے تو کیا
عرفان صدیقی

وہ باد صبا کہلائیں تو کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 74
ہم صرصریں مرجھانے لگے
وہ باد صبا کہلائیں تو کیا
جب پوچھنے والا کوئی نہیں
زندہ ہیں تو کیا مر جائیں تو کیا
پیروں میں کوئی زنجیر نہیں
ہم رقص جنوں فرمائیں تو کیا
جو بادل آنگن چھوڑ گئے
جنگل میں بھرن برسائیں تو کیا
عرفان صدیقی

اُٹھ کے چلنا ہی تو ہے، کوچ کی تیاری کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 73
حلقۂ بے طلباں رنجِ گراں باری کیا
اُٹھ کے چلنا ہی تو ہے، کوچ کی تیاری کیا
ایک کوشش کہ تعلق کوئی باقی رہ جائے
سو تیری چارہ گری کیا، میری بیماری کیا
تجھ سے کم پر کسی صورت نہیں راضی ہوتا
دِل ناداں نے دِکھا رکھی ہے ہشیاری کیا
قید خانے سے نکل آئے تو صحرا کا حصار
ہم سے ٹوٹے گی یہ زنجیرِ گرفتاری کیا
وہ بھی یک طرفہ سخن آراء ہیں، چلوں یوں ہی سہی
اتنی سی بات پہ یاروں کی دل آزاری کیا
عرفان صدیقی

اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 72
کہیں تو لٹنا ہے پھر نقدِ جاں بچانا کیا
اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا
اِن آندھیوں میں بھلا کون اِدھر سے گزرے گا
دریچے کھولنا کیسا، دیئے جلانا کیا
جو تِیر بوڑھوں کی فریاد تک نہیں سنتے
تو اُن کے سامنے بچوں کا مسکرانا کیا
میں گر گیا ہوں تو اب سینے سے اُتر آؤ
دلیر دشمنو، ٹوٹے مکاں کو ڈھانا کیا
نئی زمیں کی ہوائیں بھی جان لیوا ہیں
نہ لوٹنے کے لیے کشتیاں جلانا کیا
کنارِ آب کھڑی کھیتیاں یہ سوچتی ہیں
وہ نرم رو ہے ندی کا مگر ٹھکانا کیا
عرفان صدیقی

نام تیرا نہ بتانا تھا سو ایسا ہی کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 71
اک غلط عہد نبھانا تھا سو ایسا ہی کیا
نام تیرا نہ بتانا تھا سو ایسا ہی کیا
ہم نے اب تک یہ تماشا نہ کیا تھا سو کیا
شاعری میں ترا چرچا نہ کیا تھا سو کیا
منزلیں آنکھ سے اوجھل نہ ہوئی تھیں سو ہوئیں
تونے روشن مرا رستہ نہ کیا تھا سو کیا
سخن آرائی کا پیشہ نہ کریں گے سو کیا
کہہ دیا تھا ترا چرچا نہ کریں گے سو کیا
عرفان صدیقی

میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 70
ہر ایک دشت میں گھر بن گئے، نکلتا کیا
میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا
چراغ بام تھا اپنی بساط تھی معلوم
سو رائیگاں کسی طاق ابد میں جلتا کیا
مجھے زوال کا خطرہ نہ تھا کہ مہر سخن
ابھی طلوع ہوا ہی نہیں تو ڈھلتا کیا
عرفان صدیقی

بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 69
اب کہیں اور چل اے ناقہ سوار دنیا
بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا
مجھ کو مل جائے اگر سلطنت تکیہ دل
میں تو پل بھر نہ رہوں باج گزار دنیا
بے دلی پھر ہوس تازہ میں ڈھل جاتی ہے
ختم ہونے ہی میں آتا نہیں کار دنیا
اکثر اکثر نظر آجاتا ہے مہتاب کا کھیل
چھپ گیا ہے مری مٹی میں شرار دنیا
ایسا لگتا ہے کہ سینے میں اُٹھی ہے کوئی
آج اسی لہر میں پھینک آتا ہوں بار دنیا
عادت سیر و تماشا نہیں جانے والی
دور سے دیکھتا رہتا ہوں بہار دنیا
عرفان صدیقی

میں بجھا تو مرے بچوں نے اجالی دُنیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 68
اک نہ اک دیپ سے روشن رہی کالی دُنیا
میں بجھا تو مرے بچوں نے اجالی دُنیا
دام تو آج کے بازار میں لگتے تھے بہت
میں نے کل کے لیے تھوڑی سی بچالی دُنیا
جب اسے سکہ زر جان کے پھیلایا ہاتھ
جانے کس شخص نے مٹھی میں چھپا لی دُنیا
وہ خدا ہے اسے معلوم ہے انسان کا ظرف
دل میں رکھ دی، کسی جھولی میں نہ ڈالی دُنیا
لے گئے سارے دیئے اگلے زمانوں کے بزرگ
خیر، ہم لوگوں نے طاقوں میں سجا لی دُنیا
تو وہی ہے، مرے اجداد کی ٹھکرائی ہوئی
مجھ سے اقرارِ وفا مانگنے والی دُنیا
عرفان صدیقی

روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 67
خیمہ کرتے نہیں ہم لوگ ورائے دریا
روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا
پھر سرشام وہی رنگ تماشا ہو گا
موج خوں ہوتی ہے پھر راہ نمائے دریا
لشکروں سے کہیں رکتی ہے روانی اس کی
سر سے گزرے گا ابھی سیل بلائے دریا
ایک رخ اور بھی ہے پانی کی طغیانی کا
دشت جل جاتے ہیں جب کھیل دکھائے دریا
جانے اس خاک جگر چاک پہ کیا گزری ہے
زخم ہے سینۂ گیتی پہ بجائے دریا
عرفان صدیقی

راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 66
قافلے پھر نہیں جاتے ہیں ورائے دریا
راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا
صبر نے موجوں کو زنجیر پنہا دی ورنہ
کیسے ممکن تھا کہ خدمت میں نہ آئے دریا
لب معصوم پہ فریاد کہ ہائے پانی
دشت افسوس کو افسوس کہ ہائے دریا
ایک چلو کا بھی عباس نے احساں نہ لیا
پھینک دی اس کے ہی چہرے پہ عطائے دریا
لب جو تشنہ دہاں آل نبی قتل ہوئے
داغ ہے سینۂ گیتی پہ بجائے دریا
عرفان صدیقی

ہم جس میں جی رہے تھے وہ گھر بند کر دیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 65
اس سے بچھڑ کے بابِ ہنر بند کر دیا
ہم جس میں جی رہے تھے وہ گھر بند کر دیا
شاید خبر نہیں ہے غزالانِ شہر کو
اب ہم نے جنگلوں کا سفر بند کر دیا
اپنے لہو کے شور سے تنگ آچکا ہوں میں
کس نے اسے بدن میں نظر بند کر دیا
اب ڈھونڈ اور قدرشناسانِ رنگ و بو
ہم نے یہ کام اے گلِ تر بند کر دیا
اک اسمِ جاں پہ ڈال کے خاکِ فرامشی
اندھے صدف میں ہم نے گہر بند کر دیا
عرفان صدیقی

میرے لہو نے سب سر و سامان کر دیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 64
زرتاب ترا قریۂ ویران کر دیا
میرے لہو نے سب سر و سامان کر دیا
اس بار یوں ہوا کہ اندھیروں کی فوج کو
دو چار جگنوؤں نے پریشان کر دیا
کمزور طائروں کو لہو کی ترنگ نے
شاہیں بچوں سے دست و گریبان کر دیا
دست ستم کا دل پہ کوئی بس نہ چل سکا
تھوڑا سا مریے جسم کا نقصان کر دیا
سینے پہ نیزہ، پشت پہ دیوار سنگ تھی
تنگ آکے ہم نے جنگ کا اعلان کر دیا
وہ آفتیں پڑیں کہ خدا یاد آگیا
ان حادثوں نے مجھ کو مسلمان کر دیا
وہ درد ہے کہ دل سے نکلتا نہیں سو آج
ہم نے سپرد خانہ بہ مہمان کر دیا
عرفانؔ ، بزم بادہ و گل تھی زمین شعر
تم نے تو اس کو حشر کا میدان کر دیا
عرفان صدیقی

پھر عشق مرا کوچہ و بازار میں آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 63
کچھ حرف و سخن پہلے تو اخبار میں آیا
پھر عشق مرا کوچہ و بازار میں آیا
اب آخرِ شب درد کا بھٹکا ہوا رہوار
آیا بھی تو شہرِ لب و رُخسار میں آیا
کیا نقش ہوا دل کے اندھیرے میں نمودار
کیا روزنِ روشن مری دیوار میں آیا
حیراں ہوں کہ پھر اس نے نہ کی صبر کی تاکید
بازو جو مرا بازوئے دلدار میں آیا
یہ آئنہ گفتار کوئی اور ہے مجھ میں
سوچا بھی نہ تھا میں نے جو اظہار میں آیا
حاصل نہ ہوا مجھ کو وہ مہتاب تو معبود
کیا فرق ترے ثابت و سیار میں آیا
عرفان صدیقی

لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 62
پھر وہم دلِ یار کم آگاہ میں آیا
لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا
دُنیا نے تو آغوشِ ہوس کی تھی کشادہ
کچھ میں ہی نہ اس حلقۂ کوتاہ میں آیا
دل سکۂ زر تھا کہیں مقتل میں ہوا گم
اک کاسۂ سر نذرِ شہنشاہ میں آیا
اک درد نیا سینۂ پُرشور میں جاگا
ایک اور رجز خواں صفِ جنگاہ میں آیا
عرفان صدیقی

میں اک کرن تھا شب تار سے نکل آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 61
گرفت ثابت و سیار سے نکل آیا
میں اک کرن تھا شب تار سے نکل آیا
مرے لہو نے کہاں پار اُتارتا تھا مجھے
یہ راستہ تری تلوار سے نکل آیا
یہاں وہ حشر بپا تھا کہ میں بھی آخرکار
اگرچہ نقش تھا دیوار سے نکل آیا
تمام جادہ شناسوں کی گمرہی کا جواز
ذرا سی مستئ رفتار سے نکل آیا
مری بلا سے جو ہو کاروبار شوق تباہ
میں خود کو بیچ کے بازار سے نکل آیا
عرفان صدیقی

میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 60
زندہ رہنا تھا سو جاں نذرِ اجل کر آیا
میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا
میں نے کی تھی صفِ اعدا سے مبارز طلبی
تیر لیکن صفِ یاراں سے نکل کر آیا
تو نے کیا سوچ کے اس شاخ پہ وارا تھا مجھے
دیکھ میں پیرہن برگ بدل کر آیا
یہ ہوس ہو کہ محبت ہو، مگر چہرے پر
اک نیا رنگ اسی آگ میں جل کر آیا
عرفان صدیقی

میں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 59
ترے افق میں نئے رنگ ڈھالنے آیا
میں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا
اسی کے وار نے ہشیار تر کیا مجھ کو
مرا عدو ہی مری تیغ اجالنے آیا
میں گر چکا تھا کہ نصرت کا رہوار لیے
مجھے مصاف سے کوئی نکالنے آیا
پھر اک رفیق ملا بے اماں مسافت میں
ہوا کا جھونکا بدن کو سنبھالنے آیا
میں شب اداس بہت تھا تو مہرباں موسم
گلے میں بازوئے مہتاب ڈالنے آیا
عرفان صدیقی

بس ایک لکھتا رہا دوسرا سمجھتا رہا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 58
غرض نہیں کہ کوئی اور کیا سمجھتا رہا
بس ایک لکھتا رہا دوسرا سمجھتا رہا
ہوا کے ہاتھ میں رکھ دی کسی نے چنگاری
تمام شہر اسے حادثا سمجھتا رہا
جہاں پناہ یہ ساری زمین آپ کی ہے
میں آج تک اسے ملک خدا سمجھتا رہا
عرفان صدیقی

سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 57
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا
سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
آج تک ہیں اسی کوچے میں نگاہیں آباد
صورتیں اچھی، چراغ اچھے، دریچہ اچھا
ایک چلو سے بھرے گھر کا بھلا کیا ہو گا
ہم کو بھی نہر سے پیاسا پلٹ آنا اچھا
پھول چہروں سے بھی پیارے تو نہیں ہیں جنگل
شام ہوجائے تو بستی ہی کا رستہ اچھا
رات بھر رہتا ہے زخموں سے چراغاں دل میں
رفتگاں، تم نے لگا رکھا ہے میلہ اچھا
جا کے ہم دیکھ چکے، بند ہے دروازہ شہر
ایک رات اور یہ رُکنے کا بہانہ اچھا
عرفان صدیقی

ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 56
تھا کہیں اک حاصلِ رنجِ سفر جیسا بھی تھا
ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا
اب تو یہ پرچھائیاں پہچان میں آتیں نہیں
ان میں اک چہرہ چراغِ بام و در جیسا بھی تھا
دل کی بے رنگی سے بہتر تھی لہو کی ایک بوند
وہ بھی اک سرمایہ تھا اے چشمِ تر جیسا بھی تھا
خاک تھا اپنا بدن آخر بکھرنا تھا اسے
ہاں مگر اس خاک میں کچھ گنجِ زر جیسا بھی تھا
کچھ ہواؤں کا بھی اندازہ نہ تھا پہلے ہمیں
اور کچھ سر میں غرورِ بال و پر جیسا بھی تھا
کون مانے گا کہ اس ترکِ طلب کے باوجود
پہلے ہم لوگوں میں کچھ سودائے سر جیسا بھی تھا
عرفان صدیقی

کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 55
اے ہوا‘ کل تیری راہوں پر نشاں میرا بھی تھا
کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا
اب خیال آتا ہے سب کچھ راکھ ہوجانے کے بعد
کچھ نہ کچھ تو سائباں در سائباں میرا بھی تھا
اس کی آنکھوں میں نہ جانے عکس تھا کس کا مگر
انگلیوں پر ایک لمس رائیگاں میرا بھی تھا
کیوں تعاقب کر رہی ہے تشنگی‘ اے تشنگی
کیا کوئی خیمہ سرِ آب رواں میرا بھی تھا
جان پر کب کھیلتا ہے کوئی اوروں کے لیے
ایک بچہ دشمنوں کے درمیاں میرا بھی تھا
شہر کے ایوان اپنی مٹھیاں کھولیں ذرا
اس زمیں پر ایک ٹکڑا آسماں میرا بھی تھا
میں نے جس کو اگلی نسلوں کے حوالے کر دیا
یار سچ پوچھو تو وہ بارِ گراں میرا بھی تھا
عرفان صدیقی

وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ایک ضد تھی مرا پندارِ وفا کچھ بھی نہ تھا
وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا
تھا بہت کچھ جو کوئی دیکھنے والا ہوتا
یوں کسی شخص کے چہرے پہ لکھا کچھ بھی نہ تھا
اَب بھی چپ رہتے تو مجرم نظر آتے وَرنہ
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں شوقِ نوا کچھ بھی نہ تھا
یاد آتا ہے کئی دوستیوں سے بھی سوا
اِک تعلق جو تکلف کے سوا کچھ بھی نہ تھا
سب تری دین ہے، یہ رنگ، یہ خوشبو، یہ غبار
میرے دَامن میں تو اَے موجِ ہوا کچھ بھی نہ تھا
اور کیا مجھ کو مرے دیس کی دَھرتی دیتی
ماں کا سرمایہ بجز حرفِ دُعا کچھ بھی نہ تھا
لوگ خود جان گنوا دینے پہ آمادہ تھے
اِس میں تیرا ہنر اَے دستِ جفا کچھ بھی نہ تھا
سبز موسم میں ترا کیا تھا، ہوا نے پوچھا
اُڑ کے سوکھے ہوئے پتّے نے کہا کچھ بھی نہ تھا
عرفان صدیقی

جنگل میں زندہ کوئی ہوا کے سوا نہ تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 53
نوحہ گزار ہوٗ کی صدا کے سوا نہ تھا
جنگل میں زندہ کوئی ہوا کے سوا نہ تھا
پل بھر میں سیم تاب تو پل بھر میں لالہ رنگ
وہ دشت اِک طلسم سرا کے سوا نہ تھا
اُن کی ظفر پہ جیش حریفاں تھی حیرتی
اُن کی طرف تو کوئی خدا کے سوا نہ تھا
کارِ آفریں کے دست بریدہ کی دسترس
اک فرض تھا کہ عرض وفا کے سوا نہ تھا
کیا قافلہ گیا ہے ادھر سے کہ جس کے ساتھ
کچھ ساز و برگ شور درا کے سوا نہ تھا
زیر قدم تھی دور تلک خاک ناسپاس
سر پر کچھ آسماں کی ردا کے سوا نہ تھا
اک سیل خوں تھا اور خدا کی زمین پر
کوئی گواہ تیغ جفا کے سوا نہ تھا
یہ چشم کم نظر تہہ خنجر کہے جسے
کچھ بھی گلوئے صبر و رضا کے سوا نہ تھا
عرفان صدیقی

وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 52
ہر چند میں قسمت کا سکندر تو نہیں تھا
وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا
یہ خون میں اِک لہر سی کیا دَوڑ رہی ہے
سایہ جسے سمجھے تھے وہ پیکر تو نہیں تھا
آنکھوں میں ہیں گزری ہوئی راتوں کے خزانے
پہلو میں وہ سرمایۂ بستر تو نہیں تھا
اِتنا بھی نہ کر طنز، تنگ ظرفئ دِل پر
قطرہ تھا، بہرحال سمندر تو نہیں تھا
غزلوں میں تو یوں کہنے کا دَستور ہے وَرنہ
سچ مچ مرا محبوب ستم گر تو نہیں تھا
یہ زَخم دِکھاتے ہوئے کیا پھرتے ہو عرفانؔ
اِک لفظ تھا پیارے، کوئی نشتر تو نہیں تھا
عرفان صدیقی

عزیزو، میرا گھر ایسا نہیں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 51
خرابہ تھا مگر ایسا نہیں تھا
عزیزو، میرا گھر ایسا نہیں تھا
اندھیرا تھا مری گلیوں میں لیکن
پسِ دیوار و در ایسا نہیں تھا
زمیں نامہرباں اتنی نہیں تھی
فلک حدِ نظر ایسا نہیں تھا
کوئی اُونچا نہیں اُڑتا تھا، پھر بھی
کوئی بے بال و پر ایسا نہیں تھا
قفس میں جس طرح چپ ہے یہ طائر
سرِ شاخِ شجر ایسا نہیں تھا
کوئی آزار تھا پہلے بھی دل کو
مگر اے چارہ گر، ایسا نہیں تھا
نہیں تھا میں بھی اتنا بے تعلق
کہ تو بھی بے خبر ایسا نہیں تھا
اس انجامِ سفر پر کیا بتاؤں
کہ آغازِ سفر ایسا نہیں تھا
مرے خوابوں کے دریا خشک ہوجائیں
نہیں‘ اے چشمِ تر‘ ایسا نہیں تھا
یہ آسودہ جو ہے‘ میری ہوس ہے
مرا سودائے سر ایسا نہیں تھا
عرفان صدیقی

رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 50
تیرا سراپا میرا تماشا، کوئی تو برجِ زوال میں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
میری چشم تحیر آگے اور ہی نقش ہویدا تھے
چہرہ اپنے وہم میں تھا‘ آئینہ اپنے خیال میں تھا
عقدۂ جاں بھی رمزِ جفر ہے‘ جتنا جتنا غور کیا
جو بھی جواب تھا میرا پنہاں میرے حرف سوال میں تھا
تیر سہی‘ زنجیر سہی‘ پر ہوئے بیاباں کہتی ہے
اور بھی کچھ وحشت کے علاوہ شاید پائے غزال میں تھا
ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترکِ قناعت کرتے ہیں
ایک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال و منال میں تھا
تیغِ ستم کے گرد ہمارے خالی ہاتھ حمائل تھے
اب کے برس بھی ایک کرشمہ اپنے دستِ کمال میں تھا
عرفان صدیقی

اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 49
جس نے میری ہی طرف تیر چلایا میں تھا
اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا
ان چراغوں کے اب اتنے بھی قصیدے نہ پڑھو
یار، تم نے جسے راتوں کو جلایا، میں تھا
اے ہوا میرے سفینے کو ڈبونے والی
دیکھ، تونے جسے ساحل پہ لگایا، میں تھا
خاک پر ڈھیر ہے قاتل، یہ کرشمہ کیا ہے
کہ نشانے پہ تو مدت سے خدایا، میں تھا
جو مجھے لے کے چلی تھی وہ ہوا لوٹ گئی
پھر کبھی جس نے پتہ گھر کا نہ پایا، میں تھا
اب لہو تم کو بھی پیارا ہے چلو یوں ہی سہی
ورنہ یہ رنگ تو اس دشت میں لایا میں تھا
عرفان صدیقی

ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 48
اپنے آنگن ہی میں تھا، راہ گزر میں کیا تھا
ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا
سبز پتوں نے بہت راز چھپا رکھے تھے
رُت جو بدلی تو یہ جانا کہ شجر میں کیا تھا
تھا کمیں گاہ میں سنّاٹے کا عالم، لیکن
اِک نیا رنگ یہ ٹوٹے ہوئے پَر میں کیا تھا
تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو
یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا
اور کیا دیکھتی دُنیا ترے چہرے کے سوا
کم سے کم رَنگ تھا سُرخی میں، خبر میں کیا تھا
تم یہ دیکھو کہ فقط خاک ہے پیراہن پر
یہ نہ پوچھو کہ مرے رختِ سفر میں کیا تھا
تم نہ ہوتے تو سمجھتی تمہیں دُنیا عرفانؔ
فائدہ عرضِ ہنر میں تھا، ہنر میں کیا تھا
عرفان صدیقی

پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 47
خرد کے پاس فرسوُدہ دلیلوں کے سوا کیا تھا
پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا
ہوا رَستے کی، منظر موسموں کے، سایہ پیڑوں کا
سفر کا ماحصل بیکار میلوں کے سوا کیا تھا
تو وہ شب بھر کی رَونق چند خیموں کی بدولت تھی
اَب اِس میدان میں سنسان ٹیلوں کے سوا کیا تھا
پرندوں کی قطاریں اُڑ نہیں جاتیں تو کیا کرتیں
ہماری بستیوں میں خشک جھیلوں کے سوا کیا تھا
تعجب کیا ہے وعدے ہی اگر حصے میں آئے ہیں
مری کوشش کے ہاتھوں میں وسیلوں کے سوا کیا تھا
عرفان صدیقی

وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 46
مروّتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا
بہت دِنوں میں یہ بادل اِدھر سے گزرا ہے
مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا
عجیب شخص تھا، بچتا بھی تھا حوادث سے
پھر اپنے جسم پہ الزامِ جاں بھی رکھتا تھا
ڈبو دیا ہے تو اَب اِس کا کیا گلہ کیجیے
یہی بہاؤ سفینے رواں بھی رکھتا تھا
توُ یہ نہ دیکھ کہ سب ٹہنیاں سلامت ہیں
کہ یہ درخت تھا اور پتّیاں بھی رکھتا تھا
ہر ایک ذرّہ تھا گردش میں آسماں کی طرح
میں اپنا پاؤں زمیں پر جہاں بھی رکھتا تھا
لپٹ بھی جاتا تھا اکثر وہ میرے سینے سے
اور ایک فاصلہ سا درمیاں بھی رکھتا تھا
عرفان صدیقی

شبیہیں بناتا تھا اور ان کے اطراف نقش و نگارِ گماں کھینچتا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 45
میں جب تازہ تر تھا تو اکثر تصور میں عکس رخِ دیگراں کھینچتا تھا
شبیہیں بناتا تھا اور ان کے اطراف نقش و نگارِ گماں کھینچتا تھا
کسی شہرِ فردائے امن و اماں کی کرن اپنی جانب بلاتی تھی مجھ
اور اپنی طرف ایک خیمے میں روشن چراغِ شبِ درمیاں کھینچتا تھا
عجب سلسلہ تھا وہ جنگ آزما خاک پر جاں بہ لب چھوڑ جاتے تھے مجھ کو
پسِ معرکہ ایک دستِ کرم میرے سینے سے نوک سناں کھینچتا تھا
یہی شخص جو اب جہانِ مکافات میں قاتلوں سے اماں چاہتا ہے
کبھی پھینکتا تھا کمند آہوؤں پر کبھی طائروں پر کماں کھینچتا تھا
وصالِ بتاں کے لیے سوزِ جاں، عشق کا امتحاں، کچھ ضروری نہیں ہے
سو اب جا کے مجھ پر کھلا ہے کہ میں اتنے رنج و محن رائیگاں کھینچتا تھا
عرفان صدیقی

کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 44
اس نے کیا دیکھا کہ ہر صحرا چمن لگنے لگا
کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا
جنگلوں سے کون سا جھونکا لگا لایا اسے
دل کہ جگنو تھا چراغِ انجمن لگنے لگا
اس کے لکھے لفظ پھولوں کی طرح کھلتے رہے
روز ان آنکھوں میں بازارِ سمن لگنے لگا
اوّل اوّل اس سے کچھ حرف و نوا کرتے تھے ہم
رفتہ رفتہ رائیگاں کارِ سخن لگنے لگا
جب قریب آیا تو ہم خود سے جدا ہونے لگے
وہ حجابِ درمیانِ جان و تن لگنے لگا
ہم کہاں کے یوسفِ ثانی تھے لیکن اس کا ہاتھ
ایک شب ہم کو بلائے پیرہن لگنے لگا
تیرے وحشی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے
رم کیا اتنا کہ آہوئے ختن لگنے لگا
ہم بڑے اہلِ خرد بنتے تھے یہ کیا ہو گیا
عقل کا ہر مشورہ دیوانہ پن لگنے لگا
کر گیا روشن ہمیں پھر سے کوئی بدرِ منیر
ہم تو سمجھے تھے کہ سورج کو گہن لگنے لگا
عرفان صدیقی

سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 43
وہ جس نے پود لگائی ہے پھول بھی دے گا
سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا
ابھی تو اور جلو گے اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اس کو طول بھی دے گا
کبھی تو کوئی پڑھے گا لکھا ہوا میرا
کبھی تو کام یہ شوق فضول بھی دے گا
پناہ چاہو تو پھر پیرہن بچاؤ نہیں
جو راستہ تمہیں گھر دے گا، دھول بھی دے گا
وہی بچائے گا تم کو، اور امتحاں کے لیے
وہی کبھی کوئی چھوٹی سی بھول بھی دے گا
بچا بھی لے گا وہ کچھ آزمائشوں سے تمہیں
اور امتحاں کے لیے کوئی بھول بھی دے گا
چلیں تو پیاس کہاں اور آبلے کیسے
وہ دشت اوس بھی دے گا، تو پھول بھی دے گا
MERGED وہ جس نے باغ اُگایا ہے پھول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسنِ قبول بھی دے گا
یہ لَو سنبھال کے رکھو اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اِس کو طول بھی دے گا
مسافرت میں ہیں کیا پیرہن کی فکر کریں
جو راستہ ہمیں گھر دے گا دُھول بھی دے گا
زمانہ مجھ کو سکھا دے گا جنگ کے آداب
وہ زخم ہی نہیں دے گا اُصول بھی دے گا
عرفان صدیقی

دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 42
یہ باغ جس نے اُگایا ہے پھول بھی دے گا
دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا
بچا بھی لے گا بڑی آزمائشوں سے مگر
وہی کبھی کوئی چھوٹی سی بھول بھی دے گا
چلیں تو پیاس کہاں اور آبلے کیسے
یہ دشت اوس بھی دے گا، ببول بھی دے گا
ابھی سے لو نہ بڑھاؤ اگر چراغ ہو تم
یہ رات ہے تو خدا اس کو طول بھی دے گا
مسافروں کو کہاں آتا پیرہن کا خیال
جو راستہ ہمیں گھر دے گا، دھول بھی دے گا
کبھی تو سمجھے گا کوئی لکھا ہوا میرا
کبھی تو کام یہ شوق فضول بھی دے گا
عرفان صدیقی

اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
سیرِ غرناطہ و بغداد سے فرصت پاکر
اس خرابے میں بھی خوابوں کے نشاں دیکھئے گا
یہ در و بام یہ چہرے یہ قبائیں یہ چراغ
دیکھئے بارِ دگر ان کو کہاں دیکھئے گا
راہ میں اور بھی قاتل ہیں اجازت لیجے
جیتے رہیے گا تو پھر کوئے بتاں دیکھئے گا
شاخ پر جھومتے رہنے کا تماشا کیا ہے
کبھی صرصر میں ہمیں رقص کناں دیکھئے گا
یہی دُنیا ہے تو اس تیغِ مکافات کی دھار
ایک دن گردنِ خنجر پہ رواں دیکھئے گا
دل طرفدارِ حرم، جسم گرفتارِ فرنگ
ہم نے کیا وضع نکالی ہے میاں دیکھئے گا
عرفان صدیقی

اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 40
خرابہ ایک دن بن جائے گھر ایسا نہیں ہو گا
اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا
وہ سب اک بجھنے والے شعلۂ جاں کا تماشا تھا
دوبارہ ہو وہی رقصِ شرر ایسا نہیں ہو گا
وہ ساری بستیاں وہ سارے چہرے خاک سے نکلیں
یہ دُنیا پھر سے ہو زیر و زبر ایسا نہیں ہو گا
مرے گم گشتگاں کو لے گئی موجِ رواں کوئی
مجھے مل جائے پھر گنجِ گہر ایسا نہیں ہو گا
خرابوں میں اب ان کی جستجو کا سلسلہ کیا ہے
مرے گردوں شکار آئیں ادھر ایسا نہیں ہو گا
ہیولے رات بھر محراب و در میں پھرتے رہتے ہیں
میں سمجھا تھا کہ اپنے گھر میں ڈر ایسا نہیں ہو گا
میں تھک جاؤں تو بازوئے ہوا مجھ کو سہارا دے
گروں تو تھام لے شاخِ شجر ایسا نہیں ہو گا
کوئی حرفِ دُعا میرے لیے پتوار بن جائے
بچا لے ڈوبنے سے چشمِ تر ایسا نہیں ہو گا
کوئی آزار پہلے بھی رہا ہو گا مرے دل کو
رہا ہو گا مگر اے چارہ گر ایسا نہیں ہو گا
بحدِ وسعتِ زنجیر گردش کرتا رہتا ہوں
کوئی وحشی گرفتارِ سفر ایسا نہیں ہو گا
بدایوں تیری مٹّی سے بچھڑ کر جی رہا ہوں میں
نہیں اے جانِ من، بارِ دگر ایسا نہیں ہو گا
عرفان صدیقی

نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 39
یمن ویراں ہوا اب دل کی جولانی سے کیا ہو گا
نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا
قبا سے کیا ہوا ہنگامۂ شوقِ تماشا میں
ہم آنکھیں بند کر لیں گے تو عریانی سے کیا ہو گا
مری دُنیائے جاں میں صرف میرا حکم چلتا ہے
بدن کی خاک پر اوروں کی سلطانی سے کیا ہو گا
یہاں کس کو خبر ہو گی غبارِ شہ سواراں میں
میں خوشبو ہی سہی میری پریشانی سے کیا ہو گا
پھر اک نوبرگ نے روئے بیاباں کر دیا روشن
میں ڈرتا تھا کہ حاصل ایسی ویرانی سے کیا ہو گا
عرفان صدیقی

آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 38
ہو چکا کھیل بہت جی سے گزر جانے کا
آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا
ہم بھی زندہ تھے مسیحا نفسوں کے ہوتے
سچ تو یہ ہے کہ وہی وقت تھا مر جانے کا
بے سروکار فلک بے در و دیوار زمیں
سر میں سودا ہے مری جان کدھر جانے کا
ہم یہاں تک خس و خاشاک بدن کو لے آئے
آگے اب کوئی بھی موسم ہو بکھر جانے کا
کوئی دشوار نہیں شیوۂ شوریدہ سری
ہاں اگر ہے تو ذرا خوف ہے سر جانے کا
اب تلک بزم میں آنا ہی تھا اک کار ہنر
ہم نے آغاز کیا کار ہنر جانے کا
عرفان صدیقی

قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 37
بھرا ہے اشک ندامت سے جام پانی کا
قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا
زیارت در خیمہ نہ تھی نصیب فرات
سو آج تک ہے سفر ناتمام پانی کا
رگ گلو نے بجھائی ہے تیغ ظلم کی پیاس
کیا ہے خون شہیداں نے کام پانی کا
علم ہوا سر نیزہ جو ایک مشکیزہ
شجر لگا سر صحرائے شام پانی کا
اگر وہ تشنگئ لازوال یاد رہے
کبھی نہ آئے زبانوں پہ نام پانی کا
اُسے تلاش نہ کر دشت کربلا میں کہ ہے
ہمارے دیدۂ تر میں قیام پانی کا
عرفان صدیقی

یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خشک ہوتا ہی نہیں دیدۂ تر پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
دیکھنے میں وہی تصویر ہے سیرابی کی
اور دل پر ہے کوئی نقش دگر پانی کا
کوئی مشکیزہ سر نیزہ علم ہوتا ہے
دیکھئے دشت میں لگتا ہے شجر پانی کا
آج تک گریہ کناں ہے اسی حسرت میں فرات
کاش ہوتا در شبیر پہ سر پانی کا
تیری کھیتی لب دریا ہے تو مغروز نہ ہو
اعتبار اتنا مری جان نہ کر پانی کا
عرفان صدیقی

نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 35
اب کے برس کیا موسم ہے دل جنگل کی ویرانی کا
نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا
صبح تلک جینا تھا سو ہم نے بات کو کیا کیا طول دیا
اگلی رات کو پھر سوچیں گے اگلا موڑ کہانی کا
اور کسی کی ملک ہے بھائی‘ جس پر دونوں قائم ہیں
تکیہ میری فقیری کا اور تخت تری سلطانی کا
جسم کا شیشہ کاجل کرتی کالی رات خرابی کی
آنکھوں کی محراب میں روشن، چہرہ اک سیدانی کا
عرفان صدیقی

مرا منظرنامہ خوابوں کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چڑیوں پھولوں مہتابوں کا
مرا منظرنامہ خوابوں کا
آنکھوں میں لوح خزانوں کی
شانوں پر بوجھ خرابوں کا
یا نصرت آج کمانوں کی
یا دائم رنگ گلابوں کا
اِک اِسم کی طاہر چادر میں
طے موسم دُھوپ عذابوں کا
کبھی بادل چھت کی چھاؤں میں آ
کبھی ناتا توڑ طنابوں کا
یہی بستی میرے پرکھوں کی
یہی رَستہ ہے سیلابوں کا
مرے پتھر ہونٹ حکایت ہیں
میں حرف تری محرابوں کا
عرفان صدیقی

جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب اور کوئی منزل دشوار سوچئے
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
سب کاروبار عرض تمنا فضول ہے
دل میں لہو زباں میں اثر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر چکا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 32
طوفاں میں تا بہ حد نظر کچھ نہیں بچا
اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا
کچھ خاک تھی سو وقت کی آندھی میں اُڑ گئی
آخر نشان سوز جگر کچھ نہیں بچا
ہر شئے کو ایک سیل بلاخیز لے گیا
سودا نہ سر، چراغ نہ در، کچھ نہیں بچا
سب جل گیا جو تھا ہمیں پیارا جہان میں
خوشبو نہ گل، صدف نہ گہر، کچھ نہیں بچا
مٹی بھی نذر حسرت تعمیر ہو گئی
گھر میں سوائے برق و شرر کچھ نہیں بچا
اُس پار ساحلوں نے سفینے ڈبو دیے
سب کچھ بچا لیا تھا مگر کچھ نہیں بچا
یا بازوئے ستم میں ہے یہ تیغ آخری
یا دست کشتگاں میں ہنر کچھ نہیں بچا
ڈرتے رہے تو موج ڈراتی رہی ہمیں
اَب ڈوب جائیے کہ خطر کچھ نہیں بچا
کچھ نقدِ جاں سفر میں لٹانا بھی ہے ضرور
کیا کیجئے کہ زادِ سفر کچھ نہیں بچا
یہ کاروبارِ عرضِ تمنا فضول ہے
دل میں لہو، دُعا میں اثر کچھ نہیں بچا
اب اور کوئی راہ نکالو کہ صاحبو
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر گیا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کوئی وحشی چیز سی زنجیرِ پا جیسے ہوا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بند کمرے میں پراگندہ خیالوں کی گھٹن
اور دروازے پہ اِک آوازِ پا، جیسے ہوا
گرتی دیواروں کے نیچے سائے، جیسے آدمی
تنگ گلیوں میں فقط عکسِ ہوا، جیسے ہوا
آسماں تا آسماں سنسان سنّاٹے کی جھیل
دائرہ در دائرہ میری نوا، جیسے ہوا
دو لرزتے ہاتھ جیسے سایہ پھیلائے شجر
کانپتے ہونٹوں پہ اک حرفِ دُعا، جیسے ہوا
پانیوں میں ڈوبتی جیسے رُتوں کی کشتیاں
ساحلوں پر چیختی کوئی صدا، جیسے ہوا
کتنا خالی ہے یہ دامن، جس طرح دامانِ دشت
کچھ نہ کچھ تو دے اِسے میرے خدا، جیسے ہوا
عرفان صدیقی

بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 30
تجھ کو بھی اے ہوائے شب جی کا زیاں بہت ہوا
بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا
رختِ سفر اُٹھا گیا کون سرائے خواب سے
رات پھر اس نواح میں گریۂ جاں بہت ہوا
موسمِ گل سے کم نہ تھا موسمِ انتظار بھی
شاخ پہ برگِ آخری رقص کناں بہت ہوا
کوئی افق تو ہو کہ ہم جس کی طرف پلٹ سکیں
شام ہوئی تو یہ خیال دل پہ گراں بہت ہوا
عرفان صدیقی

تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 29
نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اُس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہوُ روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدّر لکھا ہوا
پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے
کس کے لیے ہے چشمۂ کوثر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منوّر لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اَوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے شعرِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوترابؑ کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
فہرستِ چاکراں میں سلاطیں کے ساتھ ساتھ
میرا بھی نام ہے سرِ دفتر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوال ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبرؐ لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ خداساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
MERGED نقشِ ظفر تھا لوح ازل پر لکھا ہوا
تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا
صحرا کو شاد کام کیا اس کی موج نے
تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا
تابندہ ہے دلوں میں لہو روشنائی سے
دُنیا کے نام نامۂ سرور لکھا ہوا
مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمین
پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا
رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں
کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا
ہے خاک پر یہ کون ستارہ بدن شہید
جیسے ورق پہ حرفِ منور لکھا ہوا
نیزے سے ہے بلند صدائے کلامِ حق
کیا اوج پر ہے مصحفِ اطہر لکھا ہوا
روشن ہے ایک چہرہ بیاضِ خیال پر
لو دے رہا ہے بیتِ ثناگر لکھا ہوا
سرمہ ہے جب سے خاک درِ بوتراب کی
آنکھوں میں ہے قبالۂ منظر لکھا ہوا
اور اس کے آگے خانۂ احوالِ ذات میں
ہے مدح خوانِ آلِ پیمبر لکھا ہوا
سب نام دستِ ظلم‘ تری دسترس میں ہیں
لیکن جو نام ہے مرے اندر لکھا ہوا
میں اور سیلِ گریہ‘ خدا ساز بات ہے
قسمت میں تھا خزینۂ گوہر لکھا ہوا
عرفان صدیقی

ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 28
گھٹی میں ہے وِلا کا وہ نشہ پڑا ہوا
ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا
صدیوں سے چاکرِ درِ حیدرؑ ہوں دیکھ لو
گردن میں میری طوق ہے اُن کا پڑا ہوا
اور یہ بھی دیکھ لو اسی نسبت کے فیض سے
پیروں پہ ہے مرے سگِ دُنیا پڑا ہوا
سورج کے بعد ماہِ منوّر ہوا طلوُع
تھا بزمِ چار سوُ میں اندھیرا پڑا ہوا
باطل تمام حق سے الگ ہو کے جا گرا
کیا دستِ ذوالفقار تھا سچا پڑا ہوا
اُن کا فقیر دولتِ عالم سے بے نیاز
کاسے میں کائنات کا ٹکڑا پڑا ہوا
اپنے لہو میں مست ہیں تشنہ لبانِ عشق
صحرا میں چھوڑ آئے ہیں دریا پڑا ہوا
بخشش سو بے حساب، نوازش سو بے حساب
ہے مدح گو کو مدح کا چسکا پڑا ہوا
عرفان صدیقی