نگارِ عید جو آئی مرے خیالوں میں

نگارِ عید جو آئی مرے خیالوں میں
سنہرے پھول کھلے زَرفشاں چراغ جلے
افق سے تابہ افق رنگ و نور تھا لیکن
نظر اٹھائی تو ذوقِ نظر نے ہاتھ ملے
شکیب جلالی

تبصرہ کریں