منھ سے لگا کے چھوڑ دیا بادہِ نشاط

منھ سے لگا کے چھوڑ دیا بادہِ نشاط
مے خانہِ حیات سے پیاسے ہی لوٹ آئے
یاد آ گئی شکیبؔ کسی بے نوا کی پیاس
ہم ساحلِ فرات سے پیاسے ہی لوٹ آئے
شکیب جلالی

تبصرہ کریں