خَموشی بولَے تَو پھِر بے تَکان بولتی ہے

نَسَب چھُپاتا ہے جَب کوئی کَم نَسَب اَپنا
رَگوں میں بہتے لہُو کی زبان بولتی ہے
یہ شور ہی ہے جو تھَک کَر خَموش ہوجائے
خَموشی بولَے تَو پھِر بے تَکان بولتی ہے
ضامن جعفری

تبصرہ کریں