جو ظرف بھی خالی تھا وہ سر بند مِلا

جس دَر پہ بھی دستک دی وہ دَر بند مِلا
ہر شخص خود اپنے میں نظر بند مِلا
میں دولتِ دل بانٹتا کیسے ضامنؔ
جو ظرف بھی خالی تھا وہ سر بند مِلا
ضامن جعفری

تبصرہ کریں