تَجَسُّس

سَجدَہ مَلائکہ سے کَرایا ہی کیوں گیا
مُجھ کو بلندیوں پہ بِٹھایا ہی کیوں گیا
خَطرَہ نہ تھا بَہِشت میں گَر اِقتدار کو
رائی کا پھِر پَہاڑ بَنایا ہی کیوں گیا
ضامن جعفری

تبصرہ کریں