کشکول

جتنی بھیک مجھے درکار تھی

اس کے لیے میرا کشکول

بہت چھوٹا تھا۔

آخر میں نے توڑ دیا اپنا کشکول

اور دونوں ہاتھوں سے دامن پھیلایا۔

باصر کاظمی

تبصرہ کریں