صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی

کربلا نقش ہے سینوں میں ، اذیّت کیسی
صاحبا! خاک نشینوں کو فراغت کیسی
میں نہ یوسفؑ نہ مسیحائی کے فن میں یکتا
پھر یہ کم بخت مرے نام کی شہرت کیسی؟
میرؔ سے، جونؔ سے نسبت کا اثر ہے صاحب!
میں اگر شعر سناتا ہوں تو حیرت کیسی؟
اِس سے صحرا کی جلالت میں کمی آتی ہے
ساتھ لائے ہو مرے یار یہ وحشت کیسی؟
مذہبِ حُسن و محبت کے شفا خانوں پر
مے کشو! جام اُٹھانے کی اجازت کیسی؟
میں فلکؔ زاد، بلا نوش تری مرضی پر
آسماں چھوڑ کے آتا ہوں تو عجلت کیسی؟
افتخار فلک

تبصرہ کریں