ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
نہیں کوئی شہر زلزلے سے دوچار دیکھا
کسی نے آکر ہمیں ہے کب بے قرار دیکھا
الجھ گیا ہے جہاں بھی کانٹوں سے کوئی دامن
بچا بھی گر وہ تو پھراُسے تار تار دیکھا
جگر جو ٹکڑے ہوا تو اُس کی سلامتی کا
رضا پہ بردہ فروش کی، انحصار دیکھا
سگانِ پابند دشت میں جب کبھی کُھلے ہیں
فضا میں آندھی سا ایک اٹھتا غبار دیکھا
رقم جو شیشے پہ بس کے چڑیا ہوئی، کسی نے
کب اُس کے بچوں کا عالمِ انتظار دیکھا
نجانے کتنوں کو ہے وہ نیچا دکھا کے ابھرا
جسے بھی ماجدؔ سرِ نظر تاجدار دیکھا
ماجد صدیقی