ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 93
یہ آئینے کی سازش تھی کچھ خطا بھی نہ تھی میری
ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری
تعلق مجھ سے کیا اے درد کیوں مجھ کو ستاتا ہے
نہ تجھ سے دوستی میری نہ تجھ سے دشمنی میری
لڑکپن دیکھئے گلگشت میں وہ مجھ سے کہتے ہیں
چمن میں پھول جتنے ہیں وہ سب تیرے کلی میری
کوئی اتنا نہیں ہے آ کے جو دو پھول رکھ جائے
قمر تربت پر بیٹھی رو رہی ہے بے کسی میری
قمر جلالوی

تبصرہ کریں