ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 77
کیا کوئی باغ میں ہم مفت رہا کرتے ہیں
ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں
رخ اِدھر آنکھ ادھر آپ یہ کیا کرتے ہیں
پھر نہ کہنا مرے تیر خطا کرتے ہیں
اب تو پردے کو اٹھا دو مری لاش اٹھتی ہے
دیکھو اس وقت میں منہ دیکھ لیا کرتے ہیں
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
اب تو احباب بھی مرنے کی دعا کرتے ہیں
صبحِ فرقت بھی قمر آنکھ کے آنسو رکے
یہ وہ تارے ہیں جو دن میں بھی گرا کرتے ہیں
قمر جلالوی

تبصرہ کریں