دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 37
ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں
غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں
وعدۂِ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوق
مژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں
شاہدِ ہستئ مطلق کی کمر ہے عالَم
لوگ کہتے ہیں کہ ’ ہے‘ پر ہمیں منظور نہیں
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو تقلیدِ تُنک ظرفئ منصور نہیں
حسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہی
عشقِ پُر عربَدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں
ظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہو
تُو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیں
کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ “ ہم حور نہیں“
صاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
وائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
ہُوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالب
میرے دعوے پہ یہ حجّت ہےکہ مشہور نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب