ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا اکتوبر 6, 2015میر تقی میر،اساتذہ،غزلمر،نظر،اثرadmin دیوان سوم غزل 1083 کبھو وہ توجہ ادھر کر رہے گا ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا ہمارا ہے احوال حیرت کی جاگہ جو دیکھے گا وہ بھی نظر کر رہے گا نہیں اس طرف میر جانے سے رہتا رہے گا تو اودھر ہی مر کر رہے گا میر تقی میر Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔ Related