کچھ ٹھہرتی ہی نہیں کوئی کہے تو کیا کہے اکتوبر 6, 2015میر تقی میر،اساتذہ،غزلکیا،دریاadmin دیوان اول غزل 632 شوخ عاشق قد کو تیرے سرو یا طوبیٰ کہے کچھ ٹھہرتی ہی نہیں کوئی کہے تو کیا کہے کیا تفاوت ہے بڑے چھوٹے میں گر سمجھے کوئی کیا عجب ہے مشک کو سقا اگر دریا کہے میر تقی میر Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔ Related