کوہکن نے بھی سر کو پھوڑا تھا اکتوبر 6, 2015میر تقی میر،اساتذہ،غزلتھاadmin دیوان اول غزل 170 بخت دشمن بلند تھے ورنہ کوہکن نے بھی سر کو پھوڑا تھا میر تقی میر Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔ Related