آسماں کو سیاہ کر لیجے اکتوبر 6, 2015میر تقی میر،اساتذہ،غزلنگاہ،گناہ،سیاہadmin دیوان دوم غزل 964 صبح ہے کوئی آہ کر لیجے آسماں کو سیاہ کر لیجے چشم گل باغ میں مندی جا ہے جو بنے اک نگاہ کر لیجے ابر رحمت ہے جوش میں مے دے یعنی ساقی گناہ کر لیجے میر تقی میر Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔ Related