ہوا کام مشکل توکل کیا

دیوان چہارم غزل 1315
تجاہل تغافل تساہل کیا
ہوا کام مشکل توکل کیا
نہیں تاب لاتا دل زار اب
بہت ہم نے صبر و تحمل کیا
زمین غزل مِلک سی ہو گئی
یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا
جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا
کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا
نہ سوز دروں فصل گل میں چھپا
سر و سینہ سے داغ نے گل کیا
ہمیں شوق نے صاحبو کھو دیا
غلاموں سے اس کے توسل کیا
حقیقت نہ میر اپنی سمجھی گئی
شب و روز ہم نے تامل کیا
میر تقی میر