عرق شرم میں گیا ہے ڈوب

دیوان اول غزل 179
دیکھ خورشید تجھ کو اے محبوب
عرق شرم میں گیا ہے ڈوب
آئی کنعاں سے باد مصر ولے
نہ گئی تا بہ کلبۂ یعقوبؑ
بن عصا شیخ یک قدم نہ رکھے
راہ چلتا نہیں یہ خر بے چوب
اس لیے عشق میں نے چھوڑا تھا
تو بھی کہنے لگا برا کیا خوب
پی ہو مے تو لہو پیا ہوں میں
محتسب آنکھوں پر ہے کچھ آشوب
میر شاعر بھی زور کوئی تھا
دیکھتے ہو نہ بات کا اسلوب
میر تقی میر