سیہ راتوں کے آگے سُرخرو ہوں
چاند سے آنکھیں ملا کر بات کرتی ہوں
کہ میں نے عمر میں دیکھا ہے پہلی بار یہ منظر
مری نیندیں مرے خوابوں کے آگے سر اُٹھا کر چل رہی ہیں
سیہ راتوں کے آگے سُرخرو ہوں
چاند سے آنکھیں ملا کر بات کرتی ہوں
کہ میں نے عمر میں دیکھا ہے پہلی بار یہ منظر
مری نیندیں مرے خوابوں کے آگے سر اُٹھا کر چل رہی ہیں
دشتِ غُربت میں جس پیڑ نے
میرے تنہا مُسافر کی خاطر گھنی چھاؤں پھیلائی ہے
اُس کی شادابیوں کے لیے
میری سب اُنگلیاں
ہَوا میں دُعا لِکھ رہی ہیں !
میرا بدن لہو لہو
مرا وطن لہو لہو
مگر عظیم تر
یہ میری ارض پاک ہو گئی
اسی لہو سے
سرخرو
وطن کی خاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو
بجھا جو اک دیا یہاں
تو روشنی کے کارواں
رواں دواں رواں دواں
یہاں تلک کے ظلم کی
فصیل چاک ہو گئی
عظیم تر یہ ارض پاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو
غنیم کس گماں میں تھا
کہ اس نے وار کر دیا
اسے خبر نہ تھی ذرا
کہ جب بھی ہم بڑھے
تو پھر رکے نہیں
یہ سر اٹھے تو کٹ مرے
مگر جھکے نہیں
اسی ادا سے رزمگاہ تابناک ہو گئی
عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو
مرا وطن لہو لہو
ہر ایک زخم فتح کا نشان ہے
وہی تو میری آبرو ہے آن ہے
جو زندگی وطن کی راہ میں ہلاک ہو گئی
عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی
میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے
اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں
اپنے گیتوں کی عظمت سے شرمندہ ہوں
سرحدوں نے کبھی جب پکارا تمہیں
آنسووں سے تمہیں الوداعیں کہیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار کر بھی نہ جی سے اتارا تمہیں
جس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در دہاں آئے تھے
طوق در گردنوں پا بہ جولاں گئے
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ کو ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
انکی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
انکی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
جیسے برطانوی راج میں ڈوگرے
جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں
تم بھی ان سے ذرا مختلف تو نہیں
حق پرستوں پہ الزام انکے بھی تھے
وحشیوں سے چلن عام انکے بھی تھے
رائفلیں وردیاں نام انکے بھی تھے
آج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کے ایما پر ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو
آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں۔
آج تم آئینہ ہو میرے سامنے
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
(نامکمل)
اتنے اچھے موسم میں
رُوٹھنا نہیں اچھا
ہار جیت کی باتیں
کل پہ ہم اُٹھا رکھیں
آج دوستی کر لیں !
ابر بہار نے
پھول کا چہرہ
اپنے بنفشی ہاتھ میں لیکر
ایسے چوما
پھول کے سارے دکھ
خوشبو بن کر بہہ نکلے ہیں
سُورج ڈوباشام ہو گئی
تن میں چنبیلی پُھولی،
من میں آگ لگانے والے
میں کب تجھ کو بُھولی
کب تک آنکھ چراؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
سانجھ کی چھاؤں میں تیری چھایا
ڈھونڈتی جائے داسی
بھرے ماگھ میں کھوجے تجھ کو
تن درشن کی پیاسی
جیون بھر ترساؤگے
پردیسی کب آؤ گے؟
بھیروں ٹھاٹھ نے انگ بتایا
وادی سُر___گندھار
سموا دی کو نکھادرنگ دے
شدھ مدھم سنگھار
تم کب تلک لگاؤ گے؟
پردیسی ،کب آؤ گے؟
ہاتھ کا پُھول ، گلے کی مالا
مانگ کا سُرخ سیندور
سب کے رنگ ہیں پھیکے پرانے
ساجن جب تک دُور
روپ نہ میرا سجاؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
ہر آہٹ پر کھڑکی کھولی
ہر دستک پر آنکھ
چاند نہ میرے آنگن اترا
سپنے ہو گئے راکھ
ساری عمر جلاؤ گے؟
پردیسی ، کب آؤ گے؟
شِکن چُپ ہے
بدن خاموش ہے
گالوں پہ ویسی تمتماہٹ بھی نہیں ،لیکن،
میں گھر سے کیسے نکلوں گی،
ہَوا ،چخچل سہیلی کی طرح باہر کھڑی ہے
دیکھتے ہی مُسکرائے گی!
مجھے چُھوکر تری ہر بات پالے گی
تجھے مجھ سے چُرالے گی
زمانے بھر سے کہہ دے گی،میں تجھ سے مِل کے آئی ہوں !
ہَوا کی شوخیاں یہ
اور میرا بچپنا ایسا
کہ اپنے آپ سے بھی میں
تری خوشبو چُھپاتی پھر رہی ہوں
پسِ شہرِ گُل
سُرخ پتّھر کی دیوار پر
آ کے موجِ صبا
عُمر بھر دستکیں دے تو کیا
صرف یہ ہے کہ ہاتھ اُس کے تھک جائیں گے
سکھیاں میری
کُھلے سمندر بیچ کھڑی ہنستی ہیں
اور میں سب سے دُور،الگ ساحل پر بیٹھی
آتی جاتی لہروں کو گنتی ہوں
یا پھر
گِیلی ریت پہ تیرا نام لکھے جاتی ہوں
چاند کیا چُھپ گیا ہے
گھنے بادلوں کے کنارے
روپہلے ہُوئے جا رہے ہیں
لوگ کہتے ہیں ان دنوں چپ ہے
میرا قاتل_______
کہ اُس کے خنجر کو
دھونے والی کنیز
چُھپ چُھپ کر
اب لُہو کو زباں سے چاٹتی ہے!
پانی کے اِک قطرے میں
جب سُورج اُترے
رنگوں کی تصویر بنے
دھنک کی ساتوں قوسیں
اپنی بانہیں یُوں پھیلائیں
قطرے کے ننھے سے بدن میں
رنگوں کی دُنیا کِھنچ آئے!
میرا بھی اِک سورج ہے
جو میرا تَن چُھوکر مُجھ میں
قوسِ قزح کے پُھول اُگائے
ذرا بھی اُس نے زاویہ بدلا
اور مَیں ہو گئی
پانی کا اِک سادہ قطرہ
بے منظر،بے رنگ
گہرے پانی کی چادر پہ لیٹی ہُوئی جل پری
اپنے آئینہ تن کی عریانیوں کے تکلم سے ناآشنا
موجۂ زلفِ آب رواں سے لپٹ کر
ہواؤں کی سرگوشیاں سُنتے رہنے میں مشغول تھی!
ناگہاں
نیلگوں آسمانوں میں اُڑتے ہوئے دیوتا نے
زمیں پر جو دیکھا
تو پرواز ہی بُھول بیٹھا
نظر جیسے شل ہو گئی
اُڑنا چاہا____مگر
خواہشِ بے اماں نے بدن میں قیامت مچا دی
مگر وصل کیسے ہو ممکن
کہ وہ دیوتا___آسمانوں کا بیٹا ہُوا!
جل پری کا تعلّق زمیں سے
سو خواہش کے عفریت نے
آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں سرزمینوں کی مخلوق کا رُوپ دھارا
بہت کھولتی خواہشوں کے تلاطم سے سرشار نیچے اُترنے لگا
بارش نے زمین پر پاؤں دھرا
خوشبو کھنکی ، گھنگھرو چھنکا
لہرائی ہَوا ، بہکی برکھا
کیا جانیے کیا مٹّی سے کہا
در آئی شریر میں اِک ندیا
کس اور چلی ، دیّا دیّا!
کس گھاٹ لگوں رے پرویّا
سارا جگ جل اور میں نیّا
وہ پتھر پہ کِھلتے ہُوئے خُوبصورت بنفشے کا ننھا سا ایک پُھول بھی
جس کی سانسوں میں جنگل کی وحشی ہوائیں سمائی ہُوئی تھیں
اُس کے بے ساختہ حُسن کو دیکھ کر
اک مُسافر بڑے پیار سے توڑ کر،اپنے گھر لے گیا
اور پھر
اپنے دیوان خانے میں رکھے ہُوئے کانچ کے خُوبصورت سے گُل دان میں
اُس کو ایسے سجایا
کہ ہر آنے والے کی پہلی نظر اُس پہ پڑنے لگی
دادوتحسین کی بارش میں وہ بھیگتا ہی گیا
کوئی اُس سے کہے
گولڈ لیف اور شنبیل کی نرم شہری مہک سے
بنفشے کے ننھے شگوفے کا دَم گُھٹ رہا ہے
وہ جنگل کی تازہ ہَوا کو ترسنے لگاہے
بسنت بہار کی نرم ہنسی
آنگن میں چھلکی
بھیگ گئی مری ساری
پھر___پروا کی شوخی!
کیسے اپنا آپ سنبھالوں
آنچل سے تن ڈھانپوںِ__تو
زُلفیں کُھل جائیں
زُلف سمیٹوں
تن چھلکے گا
دُعاتو جانے کون سی تھی
ذہن میں نہیں
بس اِتنا یاد ہے
کہ دو ہتھیلیاں ملی ہُوئی تھیں
جن میں ایک میری تھی
اور اِک تمھاری!
ننّھا شگوفہ
شاخ سے ہاتھ چُھڑاکر
ہوا کی بات میں آکر
بارش کے میلے میں گیا
اور اپنے آپ سے بچھڑگیا
صبح کے وقت ، اذاں سے پہلے
اب سے بائیس برس قبل اُدھر
عمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں
کر ب میں ڈوبی ہُوئی چیخ کو سُن کر مری ماں ہنس دی تھی
مری آواز نے اُس کو شاید
اُس کے ہونے کا یقیں بخشا تھا
دُکھ کے اک لمبے سفر اور اذیّت کی کئی راتیں بسر کرنے پر
اُس نے تخلیق کیا تھا مجھ کو
میری تخلیق کے بعد اُس نے نئی زندگی پائی تھی جسے
آنسوؤں نے مرے بپتسمہ دیا!
ہر نئے سال کے چوبیس نومبر کی سحر
دُکھ کا اِک رنگ نیا لے کے مرے گھر اُتری
اور میں ہر رنگ کے شایان سواگت کے لیے
نذر کرتی رہی
کیا کیا تحفے!
کبھی آنگن کی ہر ی بیلوں کی ٹھنڈی چھایا
کبھی دیوار پہ اُگتے ہُوئے پُھولوں کا بنفشی سایا
کبھی آنکھوں کا کوئی طفلکِ معصوم
کبھی خوابوں کا کوئی شہزادہ کہ تھاقاف کا رہنے والا
کبھی نیندوں کے مسلسل کئی موسم
تو کبھی
جاگتے رہنے کی بے انت رُتیں !
(رس بھیگی ہُوئی برسات کی کاجل راتیں
چاندنی پی کے مچلتی ہُوئی پاگل راتیں !)
وقت نے مجھ سے کئی دان لیے
اُس کی بانہیں ، مری مضبوط پناہیں لے لیں
مجھ تک آتی ہُوئی اس سوچ کی راہیں لے لیں
حد تو یہ ہے کہ وہ بے فیض نگاہیں لے لیں
رنگ تو رنگ تھے ، خوشبوئے حنا تک لے لی
سایہ ابر کا کیا ذکر ، ردا تک لے لی
کانپتے ہونٹوں سے موہوم دُعا تک لے لی
ہر نئے سال کی اِک تازہ صلیب
میرے بے رنگ دریچوں میں گڑی
قرضِ زیبائی طلب کرتی رہی
اور میں تقدیر کی مشاطہ مجبور کی مانند ادھر
اپنے خوابوں سے لہو لے لے کر
دستِ قاتل کی حنا بندی میں مصروف رہی___
اور یہاں تک___کہ صلیبیں مری قامت سے بڑی ہونے لگیں !
ہاں کبھی نرم ہَوا نے بھی دریچوں پہ مرے ، دستک دی
اورخوشبو نے مرے کان میں سرگوشی کی
رنگ نے کھیل رچانے کوکہا بھی،لیکن
میرے اندر کی یہ تنہا لڑکی
رنگ و خوشبو کی سکھی نہ بن سکی
ہر نئی سالگرہ کی شمعیں
میرے ہونٹوں کی بجائے
شام کی سَرد ہَوا نے گل کیں
اور میں جاتی ہُوئی رُت کے شجر کی مانند
تنِ تنہا وتہی دست کھڑی
اپنے ویران کواڑوں سے ٹکائے سرکو
خود کو تقسیم کے نا دیدہ عمل میں سے گُزرتے ہُوئے بس دیکھا کی !
آج اکیسویں صلیبوں کو لہو دے کے خیال آتا ہے
اپنے بائیسویں مہمان کی کِس طرح پذیرائی کروں
آج تو آنکھ میں آنسو بھی نہیں !
ماں کی خاموش نگاہیں
مرے اندر کے شجر میں کسی کونپل کی مہک ڈھونڈتی ہیں
اپنے ہونے سے مرے ہونے کی مربوط حقیقت کا سفر چاہتی ہیں
خالی سیپی سے گُہر مانگتی ہیں
میں تو موتی کے لیے گہرے سمندر میں اُترنے کو بھی راضی ہوںِ_مگر
ایسی برسات کہاں سے لاؤں
جو مری رُوح کو بپتسمہ دے
زمین ہے
یا کہ کچّے رنگوں کی ساری پہنے
گھنے درختوں کے نیچے کوئی شریر لڑکی
شریر تر پانیوں سے اپنا بدن چُرائے___چُرا نہ پائے
سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک
سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک
بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن
سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا
گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا
نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ
سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس
ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّھم کھنک
شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات
دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا
کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اِک دُعا
کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا
اب تو شہر میں لَوٹ آئے ہو
اب تو سب لمحے اپنے ہیں
کیا اب بھی کم فرصت ہو؟
ہاںِ_لمحوں کی تیز روی نے مجھ کو بھی سمجھایا ہے
دن کے شور میں اپنی صدا گم رہتی ہے
لیکن شام کا لہجہ تو سرگوشی ہے
جِم خانے کی گہر ی رات کی انگوری بانہوں میں آنے سے پہلے
جب وہسکی آنکھوں میں ستارے بھر دے
اورسرشاری
بُھولے بھٹکے رستوں کے وہ سارے چراغ جلا دے
جو تم ہوا سے لڑ کر روشن رکھّا کرتے تھے
کیا کوئی کرن__ننھّی سی کرن___میری ہو گی؟
اس نے اپنی ساری قیمتی چیزیں
اٹھا کر سنبھال لیں
سوائے میرے
ٹاٹ کے پردوں کے پیچھے سے
ایک بارہ تیرہ سالہ چہرہ جھانکا
وہ چہرہ
بہار کے پہلے پھول کی طرح تازہ تھا
اور آنکھیں
پہلی محبت کی طرح شفاف!
لیکن اس کے ہاتھ میں
ترکاری کاٹتے رہنے کی لکیریں تھیں
اور اُن لکیروں میں
برتن مانجھنے والی راکھ جمی تھی
اُس کے ہاتھ
اُس کے چہرے سے بیس سال بڑے تھے!
لڑکی!
یہ لمحے بادل ہیں
گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے
ان کے لمس کو پیتی جا
قطرہ قطرہ بھیگتی جا
بھیگتی جا تُو جب تک اِن میں نم ہے
اور تیرے اندر کی مٹی پیاسی ہے
مُجھ سے پوچھ
کہ بارش کوواپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہُوا
بال سُکھانے کے موسم اَن پڑھ ہوتے ہیں
ایک بُری عورت
وہ اگرچہ مطربہ ہے
لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ
شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے
وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم
جس کو آفتاب کی کرن جہاں سے چُومتی ہے
رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے!
ا س کے حسنِ بے پناہ کی چمک
کسی قدیم لوک داستان کے جمال کی طرح
تمام عُمر لاشعور کو اسیرِ رنگ رکھتی ہے!
گئے زمانوں میں کسی پری کو مُڑکے دیکھنے سے لوگ
باقی عُمر قیدِ سنگ کاٹتے تھے
یاںِ__سزائے باز دید آگ ہے!
یہ آزمائشِ شکیبِ ناصحاں و امتحانِ زُہدِ واعظاں
دریچۂ مُراد کھول کر ذرا جُھکے
تو شہرِ عاشقاں کے سارے سبز خط
خدائے تن سے،
شب عذار ہونے کی دُعا کریں
جواں لُہو کا ذکر کیا
یہ آتشہ تو
پیرِ سال خوردہ کو صبح خیز کر دے
شہر اس کی دلکشی کے بوجھ سے چٹخ رہا ہے
کیا عجیب حُسن ہے،
کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کوکھ جائیوں کو،
کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں
کنواریاں تو کیا
کہ کھیلی کھائی عورتیں بھی جس کے سائے سے پناہ مانگتی ہیں
بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے
کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو
وفاشعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں !
کوئی برس نہیں گیا
کہ اس کے قرب کی سزا میں
شہر کے سبہی قدر داں
نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے
وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے
اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا
تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں
اگر بکارِ خسروی
کبھی کسی کو اس کی راندۂ جہاں گلی سے ہوکے جانا ہو
تو سب کلاہ دار،
اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں ،
کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں
زنانِ مصر کی طرح سے
اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں
یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے
کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی
مری تلاش مجھ کو جنگلوں میں لا کے تھک گئی
میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی
اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہو چکا تھا
جگنوؤں سے اُمید باندھتی
مہیب شب ہر اس بن کے جسم و جاں پہ یوں اُتر رہی تھی
جیسے میرے روئیں روئیں میں
کسی بلا کا ہاتھ سرسرا رہا ہو
زندگی میں ۔۔۔ خامشی سے اِتنا ڈر کبھی نہیں لگا!
کوئی پرند پاؤں بھی بدلتا تھا تو نبض ڈوب جاتی تھی
میں ایک آسماں چشیدہ پیڑ کے سیہ تنے سے سرٹکائے
تازہ پتّے کی طرح لرز رہی تھی
ناگہاں کسی گھنیری شاخ کو ہٹا کے
روشنی کے دو الاؤ یوں دہک اُٹھے
کہ ان کی آنچ میرے ناخنون تک آ رہی تھی
ایک جست۔۔۔
اور قریب تھا کہ ہانپتی ہُوئی بلا
مری رگ گلو میں اپنے دانت گاڑتی
کہ دفعتاً کسی درخت کے عقب میں چوڑیاں بجیں
لباس شب کی سلوٹوں میں چرمرائے زرد پتّوں کی ہری کہانیاں لیے
وصالِ تشنہ کا گلال آنکھ میں
لبوں پہ ورم ، گال پر خراش
سنبلیں کُھلے ہُوئے دراز گیسوؤں میں آنکھ مارتا ہُوا گُلاب
اور چھلی ہُوئی سپید کہنیوں میں اوس اور دُھول کی ملی جلی ہنسی لیے
وہی بلا ، وہی نجس، وہی بدن دریدہ فاحشہ
تڑپ کے آئی___اور__
میرے اور بھیڑیے کے درمیان ڈٹ گئی
یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گھل رہی ہے
ترے پیرہن کی خوشبو
ابھی جس میں کھل رہے ہیں
میرے خواب کے شگوفے
ذرا دیر کا ہے منظر!
ذرا دیر میں افق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ
ترے دل کو آئیگا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصۂ جدائی
کوئی کار نا مکمل
کوئی خواب نا شگفتہ
کوئی بات کہنے والی
کسی اور آدمی سے !
ہمیں چاہیے تھا ملنا
کسی عہد مہرباں میں
کسی خواب کے یقیں میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور سر زمیں میں !
میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے
میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا
پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا
پھر وہی عام وہ ہی اہل رِیا کی باتیں
نعرہ حبِ وطن مالِ تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں
اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح
اس سے پہلے بھی تو عہد و پیمانِ وفا ٹوٹے تھے
شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح
پھر کہاں ہیں مری ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئے
پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی وِداع
صندلی پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی
ململی ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا
دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا
مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر
اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا ندیم
نوکِ دشتاں سے کھنچی تھی میری مٹی کی لکیر
آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا
اے میری سوختہ جانوں، میرے پیارے لوگو
اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی
میرے دلگیر، میرے درد کے مارے لوگو
کیسی غاصب، کسی ظالم، کسی قاتل کے لیے
خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو
نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا
عمروں کی مسافت سے
تھک ہار گئے آخر
سب عہد اذیّت کے
بیکار گئے آخر
اغیار کی بانہوں میں
دلدار گئے آخر
رو کر تری قسمت کو
غمخوار گئے آخر
یوں زندگی گزرے گی
تا چند وفا کیشا
وہ وادیِ الفت تھی
یا کوہ الَم جو تھا
سب مدِّ مقابل تھے
خسرو تھا کہ جم جو تھا
ہر راہ میں ٹپکا ہے
خونابہ بہم جو تھا
رستوں میں لُٹایا ہے
وہ بیش کہ کم جو تھا
نے رنجِ شکستِ دل
نے جان کا اندیشہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ اہلِ ریا بھی تو
ہمراہ ہمارے تھے
رہرو تھے کہ رہزن تھے
جو روپ بھی دھارے تھے
کچھ سہل طلب بھی تھے
وہ بھی ہمیں پیارے تھے
اپنے تھے کہ بیگانے
ہم خوش تھے کہ سارے تھے
سو زخم تھے نَس نَس میں
گھائل تھے رگ و ریشہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کے پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ مَحبّت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یوں ہے کہ سفر اپنا
تھا خواب نہ افسانہ
آنکھوں میں ابھی تک ہے
فردا کا پری خانہ
صد شکر سلامت ہے
پندارِ فقیرانہ
اس شہرِ خموشی میں
پھر نعرۂ مستانہ
اے ہمّتِ مردانہ
صد خارہ و یک تیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
اے دل ان آنکھوں پر نہ جا
جن میں وفورِ رنج سے
کچھ دیر کو تیرے لیئے
آنسو اگر لہرا گئے
یہ چند لمحوں کی چمک
جو تجھ کو پاگل کر گئ!
ان جگنوؤں کے نور سے
چمکی ہے کب وہ زندگی
جس کے مقدر میں رہی
صبحِ طلب سے تیرگی
کس سوچ میں گم سم ہے تو
اے بے خبر! ناداں نہ بن
تیری فسردہ روح کو
چاہت کے کانٹوں کی طلب
اور اس کے دامن میں فقط
ہمدردیوں کے پھول ہیں
اپنے فون پہ اپنا نمبر
بار بار ڈائل کرتی ہوں
سوچ رہی ہوں
کب تک اُس کا ٹیلی فون انگیج رہے گا
دل کُڑھتا ہے
اِتنی اِتنی دیر تلک
وہ کس سے باتیں کرتا ہے
مِری نظر میں اُبھر رہا ہے
وہ ایک لمحہ
کہ جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے
گئے دنوں کا خیال کر کے
تم ایک لمحے کو کھو سے جاؤ گے اور شاید
نہ چاہ کر بھی اُداس ہو گے
تو کوئی شیریں نوایہ پُوچھے گی
’’میری جاں ! تم کو کیا ہُوا ہے؟
یہ کس تصور میں کھو گئے ہو؟
تمھارے ہونٹوں پہ صبح کی اوّلیں کرن کی طرح سے اُبھرے گی مُسکراہٹ
تم اُس کے رُخسار تھپتھپا کے
کہو گے اُس سے
میں ایک لڑکی کو سوچتا تھا
عجیب لڑکی تھی۔۔۔کِتنی پاگل!‘‘
تُمھاری ساتھی کی خُوبصورت جبیں پہ کوئی شکن بنے گی
تو تم بڑے پیار سے ہنسو گے
کہو گے اُس سے
’’ارے وہ لڑکی
وہ میرے جذبات کی حماقت
وہ اس قدر بے وقوف لڑکی
مرے لیے کب کی مر چکی ہے!
پھر اپنی ساتھی کی نرم زُلفوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے تم
کہو گے اُس سے
چلو، نئے آنے والی کل میں
ہم اپنے ماضی کو دفن کریں
اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ہے
ہَوا بھی،دھیمے سُروں میں ،کوئی اُداس گیت
مرے قریب سے گُزرے تو گنگناتی ہے
مری طرح سے شفق بھی کسی کی سوچ میں ہے
میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں
مری نگاہ دھندلکوں میں اُلجھی جاتی ہے
نہ رنگ ہے،نہ کرن ہے،نہ روشنی، نہ چراغ
نہ تیرا ذکر، نہ تیرا پتہ، نہ تیرا سُراغ
ہَوا سے ،خشک کتابوں کے اُڑ رہے ہیں ورق
مگرمیں بُھول چُکی ہُوں تمام ان کے سبق
اُبھر رہا ہے تخیلُ میں بس ترا چہرہ
میں اپنی پلکیں جھپکتی ہوں اُس کو دیکھتی ہوں
میں اس کو دیکھتی ہوں اور ڈر کے سوچتی ہوں
کہ کل یہ چہرہ کسی اور ہاتھ میں پہنچے
تو میرے ہاتھوں کی لکھی ہُوئی کوئی تحریر
جو اِن خطوط میں روشن ہے آگ کی مانند
نہ ان ذہین نگاہوں کی زد میں آ جائے!
ساحل پر اِک تنہا لڑکی
سرد ہَوا کے بازو تھامے
گیلی ریت پر گُھوم رہی ہے
جانے کس کو ڈھونڈ رہی ہے
بِن کاجل، بیکل آنکھوں سے
کھلے سمندر کے سینے پر
فراٹے بھرتی کشتی کے بادبان کے لہرانے کو
کس حیرت سے دیکھ رہی ہے!
کس حسرت سے اپنا آنچل مَسل رہی ہے!
ہم میں بھی نہیں وہ روشنی اب
اور تم بھی تمام جل بُجھے ہو
دونوں سے بچھڑ گئی ہیں کرنیں
ویران ہیں شہرِ دل کی راتیں
اب خواب ہیں چاندنی کی باتیں
جنگل میں ٹھہر گئی ہیں شامیں
وہ جا چکا ہے
مگر جدائی سے قبل کا
ایک نرم لمحہ
ٹھہر گیا ہے
مِری ہتھیلی کی پشت پر
زِندگی میں
پہلی کا چاند بن کر !
رات ابھی تنہائی کی پہلی دہلیز پہ ہے
اور میری جانب اپنے ہاتھ بڑھاتی ہے
سوچ رہی ہوں
ان کو تھاموں
زینہ زینہ سناٹوں کے تہہ خانوں میں اُتروں
یا اپنے کمرے میں ٹھہروں
چاند مری کھڑکی پر دستک دیتا ہے
جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی
ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے
میں نے پھر تیرے تصّور کے کسی لمحے میں
تیری تصویر پہ لب رکھ دیئے آہستہ سے !
پھر مسیحائی دستگیر ہُوئی
چُن رہی ہے تمھارے اشکوں کو
کِس محبت سے یہ نئی لڑکی
میرے ہاتھوں کی کم سخن نرمی
دُکھ تمھارے نہ بانٹ پائی مگر
اس کے ہاتھوں کی مہربانی کو
میری کم ساز آرزو کی دُعا
اور یہ بھی کہ اس کی چارہ گری
عمر بھر ایسے سر اُٹھا کے چلے
میری صُورت کبھی نہ کہلائے
زخم پر ایک وقت کی پٹّی
بہت پیار سے
بعد مّدت کے
جب سے کسی شخص نے چاند کہ کر بُلایا
تب سے
اندھیروں کی خُوگر نِگاہوں کو
ہر روشنی اچھی لگنے لگی !
جب آنکھ میں شام اُترے
پلکوں پہ شفق پُھولے
کاجل کی طرح ،میری
آنکھوں کو دھنک چُھولے
اُس وقت کوئی اس کو
آنکھوں سے مری دیکھے
پلکوں سے مری چُومے!
اجنبی!
کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو
اور درد حد سے گزر جائے
آنکھیں تری
با ت بے بات رو پڑیں
تب کوئی اجنبی
تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے
تیری قامت کا سایہ بنے
تیرے زخموں کا سایہ بنے
تیری پلکوں سے شبنم چُنے
تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!
ڈیڑھ برس کے بعد
اچانک
وقت نے اپنا آئینہ پن دِکھلایا
بچھڑے ہوؤں کو مدِّ مقابل لے آیا
بہتی ہَوا کے عکس بنانے والا ساحر
گونگی تصویروں کو اب آواز بھی دے!
گہرے نیلم پانی میں
پُھول بدن لہریں لیتے تھے
ہَوا کے شبنم ہاتھ انھیں چُھو جاتے تو
پور پور میں خنکی تیرنے لگتی تھی
شوخ سی کوئی موج شرارت کرتی تو
نازک جسموں ،نازک احساسات کے مالک لوگ
شاخِ گلاب کی صُورت کانپ اُٹھتے تھے!
اُوپر وسط اپریل کا سُورج
انگارے برساتا تھا
ایسی تمازت!
آنکھیں پگھلی جاتی تھی!
لیکن دِل کا پُھول کِھلا تھا
جسم کے اندر رات کی رانی مہک رہی تھی
رُوح محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی
گیلی ریت اگرچہ دُھوپ کی حدت پاکر
جسموں کو جھلسانے لگی تھی
پھر بھی چہروں پہ لکھا تھا
ریت کے ہر ذرے کی چُبھن میں
فصلِ بہار کے پہلے گُلابوں کی ٹھنڈک ہے
سوتے میں بھی
چہرے کو آنچل سے چُھپائے رہتی ہوں
ڈر لگتا ہے
پلکوں کی ہلکی سی لرزش
ہونٹوں کی موہوم سی جنبش
گالوں پر وہ رہ رہ کے اُترنے والی دھنک
لہومیں چاند رچاتی اِس ننھی سی خوشی کا نام نہ لے لے
نیند میں آئی ہُوئی مُسکان
کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے
ہواِ_جو گندم کی پہلی خوشبو کے لمس سے لے کے
کڑوے بارُود کی مہک تک
زمیں کے ہمراہ رقص میں تھی
گماں یہ ہوتا ہے
اس رفاقت سے تھک چکی ہے
اور اپنی پازیب اُتار کر
اجنبی زمینوں کی سرد بانہوں میں سورہی ہے
فضا میں سنّاٹا دم بخود ہے
ہوا کی خفگی ہی بے سبب ہے
کہ ابِن آدم نے اپنے نیپام سے بھی بڑھ کر
کوئی نیا بم بنا لیا ہے؟
کھوئی کھوئی آنکھیں
بکھرے بال
شکن آلود قبا
لُٹا لُٹا انسان !
سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا لیکن
کِسی جگہ مل جائے تو
گبھرا کر مُڑ جاتا ہے
اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے
کون ہے یہ
رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی
میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی
میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی
میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی
تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے
تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے
تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے
سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی
آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!
آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا
عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا
میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا!
آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے
ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں
دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد
رنگِ اُمید کِھلے گا کہ بکھر جائے گا!
وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا!
جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا
خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا!
اتنے اچھے موسم میں
روٹھنا نہیں اچھا
ہار جیت کی باتیں
کل پہ ہم اُٹھا رکھیں
آج دوستی کر لیں !!!
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ وبُو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہ وگا
اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟
آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر
خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا
راہداری میں ، ہرے لان میں ،پُھولوں کے قریب
اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا
نام بُھولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا
ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا
بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بُھولا ہو گا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا
جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا
کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے
اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر
دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا
یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں
’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ
ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا
جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا
سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانی دل
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!
اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی
مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ۔کیسے تھے؟
مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈُھونڈا تھا چاروں جانب؟
اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے
کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن
اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا
اُجلے آج کی سّچائی کو
مَیلی کل کی دُھندلاہٹ میں
کیا اوروں کی صُورت تم بھی پرکھو گے ؟
خیر___تمھاری مرضی
لیکن اِتنا دھیا ن میں رکھنا
سُور ج پر بھی رات کی ہم آغوشی کا الزام رہا ہے
خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں
گئی رات کے سناٹے میں
اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں
گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں
خواب کے رنگ دھنگ سے بڑھ کر
کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب
کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب
کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم
کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم
خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے
ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے
تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !
وہ خزاں زاد تھا
اور بنتِ بہار
اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات
اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے
وہ اماوس کی گھنی راتوں میں
رت جگا کرتا رہا
اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا
جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے
چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے
سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں
شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے
خوشبو آزاد ہے
جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے
نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر
یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے
جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچاہے
اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا
اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا
اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا
اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا
اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی
اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی
اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں
اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں
اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا
اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا
اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا
اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا
ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں
یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں
اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں
اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں
ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں
ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں
ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں
یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں
یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے
یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے
اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں
کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں
آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے