پوربی پردیسی کب آؤ گے؟

سُورج ڈوباشام ہو گئی

تن میں چنبیلی پُھولی،

من میں آگ لگانے والے

میں کب تجھ کو بُھولی

کب تک آنکھ چراؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

سانجھ کی چھاؤں میں تیری چھایا

ڈھونڈتی جائے داسی

بھرے ماگھ میں کھوجے تجھ کو

تن درشن کی پیاسی

جیون بھر ترساؤگے

پردیسی کب آؤ گے؟

بھیروں ٹھاٹھ نے انگ بتایا

وادی سُر___گندھار

سموا دی کو نکھادرنگ دے

شدھ مدھم سنگھار

تم کب تلک لگاؤ گے؟

پردیسی ،کب آؤ گے؟

ہاتھ کا پُھول ، گلے کی مالا

مانگ کا سُرخ سیندور

سب کے رنگ ہیں پھیکے پرانے

ساجن جب تک دُور

روپ نہ میرا سجاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

ہر آہٹ پر کھڑکی کھولی

ہر دستک پر آنکھ

چاند نہ میرے آنگن اترا

سپنے ہو گئے راکھ

ساری عمر جلاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

پروین شاکر

تبصرہ کریں