نارسائی

تتلیاں

فصیلِ شب عبور کر کے

میری کور کوکھ کے لیے

پروں میں رنگ ، آنکھ میں کرن لیے

کلائیوں سے ہو کے اب ہتھیلیوں تک آ گئیں

مگر

مری تمام اُنگلیاں کٹی ہُوئی ہیں

پروین شاکر

تبصرہ کریں