موسم کی دُعا

پھر ڈسنے لگی ہیں سانپ راتیں

برساتی ہیں آگ پھر ہوائیں

پھیلا دے کسی شکستہ تن پر

بادل کی طرح سے اپنی بانہیں

پروین شاکر

تبصرہ کریں