صرف ایک لڑکی

اپنے سر د کمرے میں

میں اُداس بیٹھی ہوں

نیم وا دریچوں سے

کاش میرے پَر ہوتے

نَم ہوائیں آتی ہیں

تیرے پاس اُڑ آتی

میرے جسم کو چُھو کر

کاش میں ہَوا ہوتی

آگ سی لگاتی ہیں

تجھ کو چُھو کے لوٹ آتی

تیرا نام لے لے کر

میں نہیں مگر کُچھ بھی

مُجھ کو گدگداتی ہیں

سنگ دِل رواجوں کے

آہنی حصاروں میں

عمر قید کی ملزم

صرف ایک لڑکی ہوں

تیری ہم رقص کے نام

رقص کرتے ہوئے

جس کے شانوں پہ تُو نے ابھی سر رکھا ہے

کبھی میں بھی اُس کی پناہوں میں تھی

فرق یہ ہے کہ میں

رات سے قبل تنہا ہُوئی

اور تُو صبح تک

اس فریبِ تحفظ میں کھوئی رہے گی

پروین شاکر

تبصرہ کریں