کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 74
تخلیق سے فن کار کی باس آئی نہیں ہے
کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے
شاید کہ ہو اُمّید کے تاروں کا خزانہ
پاس آ کے یہ دولت میرے پاس آئی نہیں ہے
سورج کو نکلنا ہی نہ ہو مطلعِٔ شب سے
پھر کس لئے یہ شام اُداس آئی نہیں ہے
یا ذائقہ ہے تلخ کسی شے کی کمی سے
یا بھول میں موسم کی مٹھاس آئی نہیں ہے
کھوئے گئے حالات کے آشوب میں ایسے
کچھ اپنی خبر تا بہ حواس آئی نہیں ہے
آفتاب اقبال شمیم

تبصرہ کریں