عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 20
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

تبصرہ کریں