کافروں کی نماز ہوجائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 7
ہر حقیقت مجاز ہوجائے
کافروں کی نماز ہوجائے
دل رہین نیاز ہوجائے
بے کسی کارساز ہوجائے
جنت چارہ ساز کون کرے؟
درد جب جاں نواز ہوجائے
عشق دل میں رہے تو رسوا ہو
لب پہ آئے تو راز ہوجائے
لطف کا انتظار کرتا ہوں
جور تا حد ناز ہوجائے
عمر بے سود کٹ رہی ہے فیض
کاش افشائے راز ہوجائے
فیض احمد فیض

تبصرہ کریں