فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
پھر لوٹا ہے خورشید جہانتاب سفر سے
پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے
پھر آگ بھڑکنے لگی ہر ساز طرب میں
پھر شعلے لپکنے لگے ہر دیدہ تر سے
پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو
کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہگزر سے
وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کا
اوجھل ہوئی دیوار قفس حد نظر سے
ساغر تو کھنکت ہیں شراب آئے نہ آئے
بادل تو گرجتے ہیں گھٹا برسے نہ برسے
پاپوش کی کیا فکر ہے، دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج گزرجائے گی سر سے
فیض احمد فیض