ایسے بھی دن

پھلواڑی میں پھول کھلے، مرجھائے

کون اب ان کی مٹتی راکھ سے اپنی مانگ سجائے

آتے زمانے نئے پھول اور نئی بہاریں لائے

آتے جاتے زمانوں کی اس گونگی بھیڑ میں بہنے

آئے لاکھوں لمحے، گدلے گدلے فرغل پہنے

ایک قدم اور اس انبوہ میں کھو گئے ان کے کج مج سائے

پھول نہ گجرے، پلکیں اور نہ کجرے

بیتے سموں کے اُجڑے پنگھٹ، ٹھیکریاں اور بجرے

کون اب ان کی اڑتی دھول سے من کی پیاس بجھائے

ایسی ہی کتنی صبحیں، کتنی شامیں، پیلی پیلی

جن کے نہ میٹھے ہونٹ رسیلے، جن کی نہ کڑوی دھار کٹیلی

موجیں ابھریں، موجیں ڈوبیں، رُت آئے، رُت جائے

جن کی پلک پر، جن کے اُفق پر آنسو ہے نہ ستارہ

چپ چپ، گم سم، تھکے تھکے، آوارہ

آہ وہ دن جو بیت گئے اور یاد نہ آئے

مجید امجد

تبصرہ کریں