علی زریون ۔ غزل نمبر 1
ہے عجیب و غریب رعنائی
خود تماشا ہوں، خود تماشائی
ایک ہی موج کا تسلسل ہیں
تیری گیرائی، میری گہرائی
دوستا عشق سے بنا کے رکھ
کام آئے گی یہ شناسائی
میں تو ہنستا ہوں اس خرابے پر
تجھے کس بات پر ہنسی آئی
تم نہیں جانتے خدا کا حال
تم پہ بیتی نہیں ہے یکتائی
خود مجھے بھی قبول کرتی نہیں
میری خلوت پسند تنہائی
خود کو عورت کی آنکھ سے دیکھا
اور اک رمز کی سمجھ آئی
کتنی صوفی سرشت تھی وہ آگ
جو مجھے جسم سے اٹھا لائی
جانے کن منظروں کو روتی ہے
یہ غریب الدیار بینائی
صاحبو ایک تھا علی زریون
ویسا کافر نہ پھر ہوا بھائی
علی زریون