عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 227
کسی نے دیکھا ہے کل کی ضرورتوں کو اَبھی
بچائے رَکھو پُرانی روایتوں کو اَبھی
جو لوگ کرتے ہیں بے داغ چاہتوں کی تلاش
ترسنے والے ہیں جھوٹی محبتوں کو اَبھی
پھر اِک کمند نے ماں سے چھڑا لیا اُس کو
سمجھ رہا تھا وہ صحرا کی وُسعتوں کو اَبھی
اَکھر رہا ہے بھری دوپہر کا سنّاٹا
شریر پاؤں میسّر نہیں چھتوں کو اَبھی
سنا یہ ہے وہ بہت خوش سمجھ رہا ہے ہمیں
تو اُس نے دُور سے دیکھا ہے شہرتوں کو اَبھی
زمانہ کل اُنھیں سچائیاں سمجھ لے گا
تم اِک مذاق سمجھتے ہو تہمتوں کو اَبھی
عرفان صدیقی