پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 167
بہت دنوں تو رہا اپنا نکتہ چین بھی میں
پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں
مری طرف ہی دواں ہے مری کمندِ ہوس
یہاں غزال بھی میں ہوں سبکتگین بھی میں
عذاب مجھ سے مجھی پر اترتے رہتے ہیں
فرازِ عرش بھی میں‘ پستیِ زمین بھی میں
اب اپنے آپ کو کس طرح بے بہا کہیے
نگیں شناس بھی میں‘ دانۂ نگین بھی میں
گدا و شاہ سے میرا تپاک ایک سا ہے
کہ کج کلاہ بھی میں‘ بوریا نشیں بھی میں
مجھے وہ آنکھ نہ دیکھے تو میں ہی سب سے خراب
وہ انتخاب جو کر لے تو بہترین بھی میں
عرفان صدیقی

تبصرہ کریں