لشکروں کی آہٹیں تو رات بھر سنتا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 161
دیکھیے کس صبح نصرت کی خبر سنتا ہوں میں
لشکروں کی آہٹیں تو رات بھر سنتا ہوں میں
خیر‘ اب میری فصیلِ شہر بھی کیا دور ہے
جنگلوں تک آچکا پیکِ سحر سنتا ہوں میں
اے پرندو‘ یاد کرتی ہے تمہیں پاگل ہوا
روز اک نوحہ سرِ شاخِ شجر سنتا ہوں میں
کوئی نیزہ سرفرازی دے تو کچھ آئے یقیں
خشک ٹہنی پر بھی آتے ہیں ثمر سنتا ہوں میں
لاؤ، اس حرفِ دُعا کا بادباں لیتا چلوں
سخت ہوتا ہے سمندر کا سفر سنتا ہوں میں
عرفان صدیقی

تبصرہ کریں