عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 133
گیا تھا دل کی طرف کاروانِ گمشدگاں
اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں
ابھی ابھی جو ستارے مرے کنار میں تھے
چمک رہے ہیں سرِ آسمانِ گمشدگاں
سرائے وہم میں کس کو پکارتا ہوں میں
یہ نیم شب‘ یہ سکوت مکانِ گمشدگاں
عجب خلائے سخن ہے سماعتوں کے ادھر
یہ کون بول رہا ہے زبانِ گمشدگاں
میں اپنی کھوئی ہوئی بستیوں کو پہچانوں
اگر نصیب ہو سیرِ جہانِ گمشدگاں
عرفان صدیقی