جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 115
اُس شناور نے بھنور سے نہ نکالا مجھ کو
جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو
ایک ہلکا سا گماں ہے کہ کہیں تھا کوئی شخص
اور کچھ یاد نہیں اس کا حوالہ مجھ کو
ایسا گمراہ کیا تھا تری خاموشی نے
سب سمجھتے تھے ترا چاہنے والا مجھ کو
عرفان صدیقی

تبصرہ کریں