کلاس فیلو

بڑی مدتوں میں ملے ہیں تو

مجھے یوں لگا تجھے دیکھ کر

کہیں ڈھلتی شام کی اوٹ سے

ابھی جھانکتی ہے کرن کوئی

ابھی خیمہ زن ہیں

مرے وجود میں راحتیں

مہ و سال کے

کسی پھیر میں

جو گنوائیں میں نے

وہ لذتیں

مجھے یوں لگا

وہی ذائقے

مرے دل میں پھر سے مہک اُٹھے

کسی تمتماتے خیال سے

مرے سرد جمتے لہو میں

نغمے لہک اُٹھے

مرے جسم کے

سبھی برف زار دہک اُٹھے

مجھے یوں لگا

ابھی دوڑ کر

تُو کہے گی آؤ

گداز لمحوں سے

پیڑ کی

کسی شاخ پر

کوئی خواب لکھیں

بہار کا یونہی گنگنائیں

حسین سا کوئی گیت

فصل خزاں کے آنے میں

دیر ہے

ابھی دیر ہے …

گلناز کوثر

تبصرہ کریں