بہ جانب دل حزیں

یہ سن رسیدہ مکڑیوں

کے کُلبلاتے قافلے

لچکتے ، رینگتے ، لپکتے

آ رہے ہیں دُور سے

کراری سبز پُتلیاں

اِک آنچ سے تپی ہوئی

لبوں میں تیز دھار کے

مہین بے قرار تار

بڑھے ہیں کیسے شوق سے

بُنیں گے آج واہموں کے

دل نشیں حسین جال

سو گرد بے حساب سے

اُٹھے گی آج پھر صدا

وہ اپنی خلدِ بے رخی میں

تا بہ سر گڑا ہوا

تُو آگ میں گھرا ہوا

توُخاک پر پڑا ہوا

اسے کوئی سُنے گا کیا؟

گلناز کوثر

تبصرہ کریں