سرما کی بے رحم فضا میں
سرخ لہو نے بہتے بہتے
حیرانی سے
تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا
ابھی تو میں ان نیلی، گرم رگوں میں
کیسے دوڑ رہا تھا
بجھتی ہوئی اِک سانس کی لَو نے
اپنے ننھے جیون کی
اس آخری تیز، کٹیلی ہچکی کو جھٹکا
دوخالی نظریں
دُور دھویں کے پار
کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں
ابھی ابھی تو نیلا امبر
باہیں کھولے تنا کھڑا تھا
مُندی مُندی سی دھوپ
یہاں کونے میں آ کر لیٹ گئی تھی
پھر کس نے اس جیتے جاگتے
منظر میں یہ آگ بھری ہے
کالی فضا میں اُڑتے ریشے
آدھی اُدھڑی بے بس لاشیں
سرخ لہو نے حیرانی سے
جلے ہوئے منظر کو دیکھا
آخری تیز، کٹیلی ہچکی
ٹوٹ رہی تھی …
گلناز کوثر