اداسی آج بھی …
بے صَوت حرفوں کے
گھنے جنگل سے
خاموشی کی بس اِک
کنکری چُن کر
ہمارے دِل کے
ساکت ساحلوں پر
پھینک جائے گی
دُبکتی چاندنی
آنکھیں نہ کھولے گی
سُلگتی موج سے اب بھی
تلاطم کی کوئی صورت
نہ نکلے گی
ابھی کچھ دن اُجالے دھند کے
صحرا سے گزریں گے
پرندے اپنے دم سادھے رہیں گے
گھونسلوں کے در نہ کھولیں گے
ابھی کچھ دن …
ابھی کچھ اور دن ہم بھی
کسی سے کچھ نہ بولیں گے …
گلناز کوثر