دِیے جل رہے ہیں
تمہاری چمکدار
ننھی نگاہوں میں
روشن ہے خوشیوں بھرا ایک لمحہ
دمکتی ہوئی نقرئی گیند ان سبز پتوں میں
ہلکی سی لرزاں ہے
جس کو ابھی چھو کے تم نے
الُوہی مسرت کے رنگین پل کو جیا ہے
مگر ننھے بچے
تمہیں یہ پتہ ہے
یہاں سے بہت دور
نیلے سمندر سے آگے
یہی ایک لمحہ ہے جس میں کسی نے
اُدھڑتے ہوئے جسم کے
کانپتے چند ریشوں سے
کیسے ابھی زہرِ جاں کو پیا ہے
دھڑکتی ہوئی سانس لیتی زمیں پر
تمہاری طرح کتنے روشن دِیے تھے
جنہیں چند سفاک ہاتھوں نے گُل کر دیا ہے
مری سوہنی دھرتی کی
شفاف پیالی میں قدرت نے جیسے
بس اک پل میں تازہ لہو بھر دیا ہے …
گلناز کوثر