پاگل عورت کے لیے ایک نظم ؎

انجانی بے درد مسافر

بارہ برسوں سے سڑکوں پہ بھٹک رہی ہے

جیسے ہوش کے آخری لمحے

اُس نے سفر کی ٹھانی ہو

پھر اِک اندھی بہری منزل

اُس کی آنکھ سے چپک گئی ہو

پھر اِک گم صم گونگا رستہ

اُس کے پیڑ سے لپٹ گیا ہو

پھر اِک پتھر جیسا وعدہ

اُس کی رُوح پہ آن دھرا ہو

اور وعدے کی سل پر جیسے

بارہ برس کی گرد کے نیچے

سہما سا اِک خواب پڑا ہو

روکھے سوکھے بالوں میں اب

وقت کی چاندی پھیل رہی ہے

بوسیدہ کپڑوں کی درزیں

روزن بنتی جاتی ہیں

لیکن دھول بھری آنکھوں سے

آس کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں

لیکن میل بھرے ہاتھوں نے

زادِ سفر کو تھام رکھا ہے

اور خالی دل سوچ رہا ہے

آج تو اُس کو آنا ہو گا …

(بارہ طویل برسوں تک لاہور کی سڑکوں پر مال روڈ، جی پی او اور سکرٹریٹ کے بس سٹاپس پر اکثر ایک پاگل عورت کاندھے پر بیگ لٹکائے انتظار میں کھڑی نظر آیا کرتی تھی … سنا ہے شاید کالج کے زمانے میں اسے کسی ایسے لڑکے سے محبت ہوئی جس سے شادی ممکن نہ تھی … نتیجتاً دونوں نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا … کسی بس سٹاپ پر ملنا طے تھا مگر لڑکا نہیں آیا … اور وہ بھی لوٹ کر گھر نہیں گئی … بارہ برسوں نے اس عورت کے ظاہری حلیے کو کافی حد تک بدل دیا لیکن آنکھوں میں ٹھہرا انتظار ویسے کا ویسا ہی رہا ۔)

گلناز کوثر

تبصرہ کریں