ستارہ سر شام پھر بند کھڑکی کے پیچھے
پرانے درختوں کی ناکارہ شاخوں پہ سجنے لگا تھا
بہت ننھے روزن سے کرنوں کا ہالہ
کسی ویراں ، آسیب تن سے
اُلجھنے لگا تھا
ستارہ رُوپہلے شبستاں کے منظر سے
آنکھیں چرائے
لُٹے گھر کے تنہا و تاریک کمرے کی
بوسیدہ کھڑکی پہ
کرنیں بچھائے
بہت خشک وحشت بھری
اُس کی بے بس نگاہوں کو چھونے لگا تھا
وہ روزن سے پھوٹی ہوئی
تیز کرنوں سے بچتا بچاتا
اسی اُونچی دِیوار کے ایک کونے میں
بیٹھا رہا تھا
وہ بیٹھا رہا تھا
وہ اپنے بہت میلے ہاتھوں کی
ادھڑی رگوں کو چھپائے
پریشاں نگاہوں سے
کرنوں کے ہالے کو
تکتا رہا تھا
ستارہ کہیں بند کھڑکی کے پیچھے
بہت منتظر تھا
گلناز کوثر