ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر
کہرے کی وادی سے چل کر
شہر کے برفیلے چہرے پر …
آن رُکا ہے
سرد ہوائیں
پیڑوں کی گیلی باہوں سے
پھوٹ رہی ہیں
ایسے عالم میں کم سن ، محنت کش لڑکی
ناکافی کپڑوں میں سُکڑی بیٹھی ہے
قدموں میں تنکوں کی ڈھیری
ڈھیری پر اٹھلاتے شعلے
اکڑے ہاتھوں کو اِک بوند حرارت دیں گے
پر یہ سَن سَن کرتا لمحہ
پل دو پل میں تھم جائے گا
قطرہ قطرہ خون رگوں میں جم جائے گا
ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر
شب خانے کی اس کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں
سوچ رہی ہوں
میرے اپنے کمرے میں بھی
صدیوں سے برفیلا موسم رُکا ہوا
جمی ہوئی اک سوچ کی ڈھیری
برسوں سے حرفوں کا ایندھن نگل رہی ہے
سوچ رہی ہوں
جمی ہوئی ڈھیری سے چنگاری نہ نکلی
تو بھی کیا ہے
یہ انبار کتابوں کے ایندھن کی خاطر
کم سن لڑکی کو دے ڈالوں
گلناز کوثر