منصور آفاق ۔ غزل نمبر 282
تم ایسے لوگوں کا رستہ میں چھوڑ دیتا ہوں
پر اپنے ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں
میں اس مقام پہ پہنچا ہوں عشق میں کہ جہاں
فراق و وصل کو آپس میں جوڑ دیتا ہوں
مجھے مزاج کی وحشت نے فتح مند رکھا
کہ ہار جاؤں تو سر اپنا پھوڑ دیتا ہوں
ابھی دھڑکتا ہے دل بھیڑیے کے سینے میں
ابھی غزال پکڑتا ہوں ، چھوڑ دیتا ہوں
ڈرا ہوا ہوں میں اپنے مزاج سے منصور
جو میری ہو نہ سکے، شے وہ توڑ دیتا ہوں
منصور آفاق