منصور آفاق ۔ غزل نمبر 25
کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا
خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں
کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا
ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشمِ سیہ
جام ہی میں کوئی گرداب دکھائی دیتا
تُو وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا
دوستو آگ بھری رات کہاں لے جاؤں
کوئی خس خانہ و برفاب دکھائی دیتا
میرا کردار کہانی میں جہاں ہیرو ہے
تیرے ناول کا وہی باب دکھائی دیتا
دل میں چونا پھری قبروں کی شبہیں منصور
کیسے میں زندہ و شاداب دکھائی دیتا
منصور آفاق