قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 388
یہ مسجدوں میں جوخود کُش شہید ہوتے ہیں
قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں
طلب بھی پاتی ہے ترتیب ٹیلی ویژ ن سے
جہاں کو دیکھ کے ہم بھی جدید ہوتے ہیں
ہر اک دور کا اک شاہ حسین ہوتا ہے
ہرایک دور میں خواجہ فرید ہوتے ہیں
نکل کے گھر سے یونہی رات رات چلتا ہوں
بڑے ہی یا د کے حملے شدید ہوتے ہیں
یزید کوئی بھی ہوتا نہیں حسین مزاج
حسین نام کے لیکن یزید ہوتے ہیں
میں جتنی کرتا ہوں کوشش درست کرنے کی
خراب اتنے مسائل مزید ہوتے ہیں
نکلتی ہے یہ مصائب سے شاعری منصور
یہ مصرعے خونِ جگرسے کشید ہوتے ہیں
منصور آفاق

تبصرہ کریں