منصور آفاق ۔ غزل نمبر 30
ہے اضطراب زیادہ ، قرار تھوڑاسا
قریب آیا ہے میرے وہ یار تھوڑا سا
میں جانتا ہوں کہ مصروف ہے کوئی کچھ دن
مگر یہ ہوتا نہیں انتظار تھوڑا سا
اُسی نے دست درازی کی تیری قدرت پر
جسے بھی تُونے دیا اختیار تھوڑا سا
الرجی ہے نا تجھے خاک کے مسائل سے
تُو آسماں پہ زمانہ گزار تھوڑا سا
اُسی نے روشنی لے کراُسے بجھایا ہے
دئیے نے جس پہ کیا انحصار تھوڑا سا
نمی بھی پونچھ لی قرب و جوارِدیدہ سے
اب اور کیسے کروں اختصار تھوڑا سا
وہ مسکرائی مرے التماس پر منصور
نگارِ شہر ہوا خوشگوار تھوڑا سا
منصور آفاق