سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 55
سیاہ رنگ کا امن و سکوں تباہ ہوا
سفید رنگ کا دستور کج کلاہ ہوا
زمیں سے کیڑے مکوڑے نکلتے آتے ہیں
ہمارے ملک میں یہ کون بادشاہ ہوا
کئی دنوں سے زمیں دھل رہی ہے بارش سے
امیر شہر سے کیسا یہ پھر گناہ ہوا
شرارِ خاک نکلتا گرفت سے کیسے
دیارِ خاک ازل سے جنازہ گاہ ہوا
وہ شہر تھا کسی قربان گاہ پر آباد
سو داستان میں بغداد پھر تباہ ہوا
جلے جو خیمے تو اتنا دھواں اٹھا منصور
ہمیشہ کے لیے رنگِ علَم سیاہ ہوا
منصور آفاق

تبصرہ کریں